Daily Mashriq


عطائ۔۔۔۔ ایک علمی اور ادبی دستاویز

عطائ۔۔۔۔ ایک علمی اور ادبی دستاویز

ہمارے دوست ذکاء اللہ خان گنڈا پور ہم اگر انہیں ٹو ان ون کہیں تو زیادہ مناسب ہوگا۔ ایک تو وہ ماہر برقیات ہیں اس شعبے میں انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی تو پھر ادب کی طرف مائل ہوئے۔ علم و ادب سے شغف ان کے خاندان کی علمی روایت تھی۔ والد ان کے عطاء اللہ خان عطا' قند پارس کے شیدائی' فارسی کے بلند پایہ شاعر' محقق اور ایک نامور قانون دان تھے۔ ذکاء نے اپنے خاندان کی علمی روایات کو آگے بڑھاتے ہوئے اردو زبان و ادب میں پی ایچ ڈی کی اعلیٰ علمی سند بھی حاصل کی۔ اب اپنے نام کے ساتھ انجینئر بھی لکھتے ہیں اور ڈاکٹر بھی۔ بلا شبہ انہیں برقیات میں بھی مہارت حاصل ہوگی لیکن انہوں نے ادب سے ذوق و شوق کے ناطے ایک اعلیٰ پائے کا علمی' ادبی اور تحقیقی مجلہ عطا کے نام سے جاری کر رکھا ہے۔ یہ سہ ماہی مجلہ ان کے بھائی عنایت اللہ خان گنڈا پور کی ادارت میں بڑی باقاعدگی سے شائع ہوتا ہے۔ انجینئر ڈاکٹر ذکاء اللہ خان اس کے اعزازی مدیر ہیں۔ یہ دونوں بھائی بلا شبہ با ادب ہیں اس لئے ان کے با نصیب ہونے میں بھی کوئی شک نہیں جنہوں نے اپنے عظیم والد کی علمی روایت کاعلم بلند کر رکھا ہے جو نہ صرف ہم جیسے تشنہ گان علم و ادب کی علمی پیاس بجھانے کا باعث بنتا ہے بلکہ عطاء اللہ خان عطا کی ادبی اور تحقیقی کی کاوشوں کو بھی زندہ رکھے ہوئے ہے۔ گزشتہ دنوں جب ذکاء نے فون پر ہمارا اتا پتا پوچھا تو پہلے کچھ لطائف کا تبادلہ ہوا۔ دونوں جانب سے قہقہے بلند ہوئے ہم نے انہیں از راہ تفنن کہا کہ ہماری بد نامی کے تو چار دانگ عالم میں ڈنکے بجتے ہیں بود و باش ہماری مردان کی ایک بستی میں ہے لفافے پر گلی یا محلے کا نام لکھنے کی ضرورت نہیں صرف شہر کا نام لکھ دیں آ پ کا عطا ہم تک پہنچ جائے گا۔ انہوں نے حسب وعدہ عطا کا نیا شمارہ دوسرے روز ہمیں روانہ کردیا۔ ایک پرچہ انہوں نے پہلے بھی عنایت کیا تھا۔ بڑے سائز کے 323صفحات پر مشتمل عطا کے موجودہ شمارے میں ادب کے ہر قاری کے لئے اس کے ذوق کی تحریریں موجود ہیں۔ مدیران عطا نے زیر نظر شمارے کے اداریے میں وطن عزیز کی سیاسی تاریخ کا جو حقیقت افروز نقشہ پیش کیا وہ بالیقین نہ صرف ہر محب وطن پاکستانی کے دل کی آواز ہے بلکہ ایک ادبی مجلے کی جس کا مزاج سیاسی نہیں۔ جرأت رندانہ کی ایک نادر مثال بھی ہے۔ اداریے کا آغاز محسن بھوپالی کے اس زبان زد عام شعر سے کیا گیا ہے

نیرنگئی سیاست دوران تو دیکھئے

منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے

محسن کا یہ حقیقت افروز شعر ہمارے ملک کی سیاست کا ایک ایسا آئینہ ہے جس میں اس کی ستر سالہ تاریخ کو بخوبی دیکھا جاسکتا ہے۔ اداریے میں پاکستان کے ابتدائی سالوں کے تین حکمرانوں غلام محمد' سکندر مرزا اور چودھری محمد علی کو تین ایسے طالع آزما کہا گیا ہے جنہوں نے اپنے دور حکمرانی میں پاکستان کی سیاسی تاریخ کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا جو بھی آیا وہ ایک گھنائونے سیاسی کھیل میں ملوث رہا۔ محلاتی سازشوں کے ذریعے اپنے اقتدار کو طول دیتا رہا جس کے نتیجے میں بعض اوقات تو ملکی سا لمیت کو بھی خطرہ لاحق ہونے لگا۔ مارشل لاء پر مارشل لاء لگتے رہے جیسے کہ اداریے میں بتایاگیا ہے جمہوریت کے علم برداروں نے قومی دولت کو بے دریغ لوٹا۔ دیس پردیس میں اربوں کھربوں روپے کی جائیدادیں بنائیں اور یہ عمل اب بھی بدستور جاری ہے۔ آج کل مفاہمت' مفادات اور ایک دوسرے پر الزامات لگانے کی جو سیاست ہو رہی ہے اس حوالے سے عطا مرحوم کا یہ شعر صادق آتا ہے

خود سا رقیم ماوشماہمچو دیگراں

ازسارقان بو د گلہ سارقاں غلط

یعنی ہم تم دوسروں کی طرح سب چور ہیں چوروں کاچوروں سے شکوہ کرنا غلط ہے۔ جیسے کہ ہم نے پہلے عرض کیا سہ ماہی عطاء کے تازہ شمار کے کم و بیش تمام اصناف ادب پر محیط ہے جس میں ہر قاری کے ذوق کی تسکین کا سامان موجود ہے۔ ابتدائیہ حمد و نعت کا حصہ ہے۔ گوشہ عطاء میں عطاء اللہ خان کا سوانحی خاکہ ہے جس میں اس ہمہ جہت علمی شخصیت کی زندگی کے گوشے نمایاں کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ مضامین کتابیات و شخصیات' شاعری افسانوی ادب یادرفتگان خود نوشت' نقد و تبصرہ اور مکتوبات کے تحت عطاء کے زیر نظر شمارے میں موجود تحریریں دلچسپ اور معلومات افزاء ہیں۔ ڈاکٹر طارق ہاشمی نے ہزارہ کے چند تازہ غزل گو کے عنوان سے کچھ ایسے شعراء کا ذکر کیا ہے جو صوبے کے روایتی ثقافتی مراکز سے دور ہونے کی وجہ سے ادبی حلقوں نے نظر انداز کئے ہیں۔ سچ پوچھئے تو ہمیں مضمون میں جن شعراء کا ذکر کیا ہے ان کی زندہ اور تازہ شاعری نے بے حد متاثر کیا۔جاوید احساس کا مقالہ پشتونعت ایک جائزہ، پشتو میں نعت گوئی کا بھر پور احاطہ کیا گیا ہے ۔ ہم فطرتاً ماضی پرست ہیں چنانچہ خود نوشت کاحصہ بھی ہمیں پسند آیا۔ ان تحریروں میں ماضی کی خوشگوار یادوں کے عکس دیکھ کر ہم جیسے ماضی پرستوں کو ایک ذہنی سکون ملا اور جس سے ہم لطف اندوز ہوئے۔ البتہ ہمیں حیرت اس بات پر ہوئی کہ ہمارے دوست ذکاء تو جوانی کے دن اور مرادوں کی راتیں کے مرحلے سے گزر رہے۔ انہیں اب سے ہی عمر رسیدہ لوگوںیادداشتوں کی بازیافت کی کیا ضرورت پڑی ۔ بلا شبہ عطاء علمی اور ادبی سرد بازاری اور مندی کے موجودہ دور میں ایک معیاری پرچہ ہے اور اس کے مدیر بجا طور پر اس خوبصورت علمی دستاویز کے ذریعے تشنہ گان ادب کے ذوق کی تسکین کرکے بہت بڑا کام کر رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں