Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

حضرت طارق بن شہاب رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ ہمارے ساتھ ملک شام میں تھے۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ وہاں تشریف لائے تھے۔ حضرت عمر کے ساتھ اور صحابہ بھی چل رہے تھے۔ چلتے چلتے راستہ میں پانی کا ایک گھاٹ آگیا۔ حضرت عمر اپنی اونٹنی پر سوار تھے۔ وہ اونٹنی سے نیچے اترے اور موزے اتار کر اپنے کندھے پر رکھ لئے اور اپنی اونٹنی کی نکیل پکڑ کر اس گھاٹ میں سے گزرنے لگے تو حضرت ابو عبیدہ نے عرض کیا اے امیر المومنین ! آپ یہ کیا کر رہے ہیں کہ موزے اتار کر کندھے پر رکھ لئے ہیں اور اونٹنی کی نکیل پکڑ کر اس گھاٹ میں سے گزرنے لگے ہیں؟ مجھے اس بات سے بالکل خوشی نہیں ہوگی کہ اس شہر والے آپ کو ( اس حال میں ) دیکھیں۔ حضرت عمر نے فرمایا اوہو اے ابو عبیدہ! اگر آپ کے علاوہ کوئی اور یہ بات کہتا تو میں اسے ایسی سخت سزا دیتا جس سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ساری امت کو عبرت ہوتی۔ ہم تو سب سے زیادہ ذلیل قوم تھے اللہ نے ہمیں اسلام کے ذریعہ عزت عطا فرمائی اب جس اسلام کے ذریعے اللہ نے ہمیں عزت عطا فرمائی ہے ہم جب بھی اس کے علاوہ کسی اور چیز سے عزت حاصل کرنا چاہیں گے تواللہ تعالیٰ ہمیں ذلیل کردیں گے۔

حضرت ابو نہیک اور حضرت عبداللہ بن حنظلہ رحمتہ اللہ علیہما کہتے ہیں ہم ایک لشکر میں حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے ۔ ایک آدمی نے سورت مریم پڑھی تو دوسرے آدمی نے حضرت مریم اور ان کے بیٹے (حضرت عیسیٰ)علیہما السلام کو برا بھلا کہا (بظاہر یہ آدمی یہودی ہوگا) ہم نے اسے مار مار کر لہو لہان کردیا جس انسان پر ظلم ہوتا تھا وہ جا کر حضرت سلمان سے شکایت کیا کرتا تھا چنانچہ اس آدمی نے بھی جاکر حضرت سلمان سے شکایت کردی اس سے پہلے اس نے کبھی ان سے کوئی شکایت نہیں کی تھی۔ حضرت سلمان ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا تم نے اس آدمی کو کیوں مارا ہے؟ ہم نے کہا ہم نے سورت مریم پڑھی تھی اس نے حضرت مریم اور ان کے بیٹے کو برا بھلا کہا۔ انہوں نے فرمایا تم لوگوں نے انہیں سورت مریم کیوں سنائی؟ کیا آپ لوگوں نے اللہ کا یہ فرمان نہیں سنا؟ ترجمہ: اور دشنام مت دو ان کو جن کی یہ لوگ خدا کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہیں کیونکہ پھر وہ براہ جہل حد سے گزر کر اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کریں گے'۔ اے جماعت عرب! کیا آپ لوگوں کا مذہب سب سے زیادہ برا نہیں تھا؟ آپ لوگوں کا علاقہ سب سے زیادہ برا نہیں تھا۔ کیا آپ لوگوں کی زندگی سب سے زیادہ بری نہیں تھی؟ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ لوگوں کو عزت دی اور آپ لوگوں کو سب کچھ دیا کیا آپ لوگ یہ چاہتے ہو کہ اللہ کی دی ہوئی عزت کی وجہ سے لوگوں کی پکڑ کرتے رہو؟ اللہ کی قسم! یا تو آپ لوگ اس کام سے باز آجائو ورنہ جو کچھ آپ لوگوں کے ہاتھ میں ہے اللہ تعالیٰ اسے تم سے لے کر دوسروں کو دے دیں گے۔ اہل ایمان غلبہ و عزت کی حالت میں بھی غیر مسلموں کا خیال رکھتے تھے ۔ (حیاة الصحابہ حصہ سوم)

متعلقہ خبریں