پانی کی قلت اور قومی اتفاقِ رائے

پانی کی قلت اور قومی اتفاقِ رائے


کالا باغ ڈیم کی بحث سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالنے کے بعد شروع کر دی تھی ۔ اخبارات اور میڈیا میں اس کے حق میں اور خلاف ماہرین اور سیاسی رہنماؤں نے بھرپور دلائل دیے تھے۔ بالآخر سندھ اور خیبر پختونخوا میں اس سکیم کے خلاف سیاسی مظاہرے ہوئے ۔ سندھ ' خیبر پختونخوا اور بلوچستان اسمبلیوں نے اس سکیم کے خلاف قراردادیں منظور کیں ۔ اور یہ معاملہ داخل دفتر ہو گیا لیکن ملک میں پانی اور پن بجلی کی متوقع قلت دور نہیں ہوئی۔ کئی سال زیر التواء رہنے کے بعد جب سپریم کورٹ میں کراچی کے ایک وکیل کی کالا باغ ڈیم کی تعمیر شروع کرنے کے حوالے سے ایک درخواست کی سماعت شروع ہوئی تو ایک بار پھر یہ سوال سامنے آیا۔دورانِ سماعت ریمارکس دیتے ہوئے چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ اگر چار بھائی کالا باغ ڈیم پر متفق نہیں ہیں تو عدالت کوئی متنازع حکم جاری نہیں کرے گی لیکن پانی کی قلت کے مسئلہ کے لیے کوئی متبادل حل نکالنا ہوگا۔ انہوں نے کالا باغ ڈیم کے بارے میں درخواست کی سماعت کے دوران کہا کہ اب سپریم کورٹ نئے ڈیم بنانے کے حق میں آگے بڑھے گی اور اپنا کردار ادا کرے گی ۔ کالا باغ ڈیم بنانے کے بارے میں جو بحث از سر نو شروع ہو گئی تھی اس کی شدت میں تو کمی آ گئی ہے لیکن ملک میں پانی کی قلت کی شدت میں جو اضافہ ہورہا ہے وہ اپنی جگہ موجود ہے۔ کالا باغ ڈیم یا اس کے متبادل دیامر بھاشاڈیم پر کام اگر اس وقت شروع کیا جاتا جب کالا باغ ڈیم منصوبے کی بحث نے سیاسی رنگ اختیار کر لیا تھا تو آج صورت حال مختلف ہوتی اور کالا باغ ڈیم نہیں تو متبادل ڈیمز سے ملک میں پانی کی قلت کو دور کرنے کا بندوبست ہو جاتا ۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ کالا باغ ڈیم منصوبے کی مخالفت پر تو بعض سیاسی جماعتیں بڑے جوش و جذبے سے آگے آئیں۔ پنجاب میں اس منصوبے کی حمایت کی گئی لیکن اس کے بعد بیس سال سے زیادہ عرصہ کے دوران کسی سیاسی جماعت نے ملک کو درپیش پانی کی قلت سے نمٹنے کے بارے میں کسی فعالیت کا مظاہرہ نہیں کیا۔ پنجاب میں جہاں اس منصوبے کی حمایت کی گئی تھی یعنی پانی کی قلت کے بارے میں آگہی تھی وہاں بھی پانی کی قلت سے نمٹنے کے لیے کوئی کام نہیں کیا گیا۔ آج صورت حال یہ بیان کی جاتی کہ آئندہ چند سال میں پاکستان جو ایک زرعی ملک ہے خشک سالی کا شکار ہو سکتا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ کوئٹہ میں آئندہ د س سال کے بعد پینے لیے بھی پانی دستیاب نہیں ہو گا۔ پنجاب اور سندھ کی زمینیں بنجر ہو جائیں گی۔ پانی کی قلت کچھ تو ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ آئندہ دس سال میں زمین کا درجہ حرارت چار ڈگری بڑھ جائے گا۔ اس سے پانی کی ضرورت میں اضافہ ہو جائے گا جب کہ پانی کی قلت پہلے ہی بڑھ رہی ہے ۔ کچھ اس میں بھارت کا ہاتھ ہے جس کے وزیر اعظم نریندر مودی نے چند سال پہلے کہا تھا کہ وہ پاکستان کو پانی کی بوند بوند کے لیے محتاج کر دیں گے۔ اور بھارت نریندر مودی کے اس منصوبے پر عمل کر رہا ہے۔ اس نے دریائے چناب پر سلال ڈیم' بگلیہار ڈیم سمیت دیگر چھوٹے بڑے 11ڈیم تعمیر کیے ہیں۔ دریائے جہلم پر وولر بیراج اور رابڑ ڈیم سمیت 52چھوٹے بڑے آبی ذخائر تعمیر کیے ہیں اور لوک سبھا میں 190ڈیمز کے منصوبے زیرِ غور ہیں۔ اس کا تیسرا پہلو پاکستان میں پانی کا بے دریغ ضیاع ہے۔ کراچی میں پانی کی قلت کی خبریں میڈیا میں آ رہی ہیں ۔تھر میں پانی کی قلت کی خبریں میڈیا میں شائع ہو چکی ہیں لیکن بجائے اس سلسلے میں کچھ کرنے کے حب ندی میں پانی کی کمی اور تھر میں بارشوں کے نہ ہونے کو اس کی وجہ قرار دے کر خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے۔ پنجاب میں خاص طور پر جنوبی پنجاب میں نہروں کے آخری حصوں میں پانی معدوم ہو جاتا ہے۔ ہمارے دریاؤں میں پانی کچھ گلیشئرزپگھلنے ' کچھ معاون دریاؤں سے اور کچھ بارشوں سے آتا ہے۔ اب سنا ہے کہ درجہ حرارت میں اضافہ کی وجہ سے گلیشئرز قبل از وقت پگھلنا شروع ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے مون سون کے آغاز سے سیلاب آنا شروع ہوجاتے ہیں۔ ایک طرف سارا سال پانی کی قلت اور دوسری طرف برسات کے موسم میں سیلاب بڑے پیمانے پر نقصانات کا باعث بنتے ہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ برسات کے موسم میں بھارت سیلابی پانی دریاؤں میں چھوڑ دیتا ہے جس کے ڈیمز کی ذخیرہ کاری کی گنجائش زیادہ ہے ۔ اس طرح پاکستان میںسیلابی نقصانات زیادہ ہوتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ ان مسائل کے بارے میں پاکستان میں آگاہی نہیں ہے۔ پانی کی قلت سب کو محسوس ہو رہی ہے۔ سیلابوں سے نقصانات کے بارے میں سب آگاہ ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلیوں کے بارے میں بھی آگاہی ہے۔ وفاق میں اس حوالے سے ایک وزارت بھی چند دن پہلے تک قائم تھی ۔ لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ 2018ء کے عام انتخابات کے لیے سیاسی پارٹیوں نے جو منشور یا پروگرام جاری کئے ہیں ان میںپانی پالیسی کا ذکر کسی بھی سیاسی جماعت نے نہیں کیا ہے۔ یہ معاملہ حکومت وقت پر چھوڑ دیا جاتا ہے اور جب نئی حکومت بنتی ہے تو کوئی سیاسی جماعت اس طرف توجہ نہیں دیتی۔کالا باغ ڈیم کی مخالفت تو تین صوبوں میں کی گئی لیکن پانی کی قلت سے نمٹنے کے حوالے سے کسی سیاسی جماعت نے حکومت وقت کو اس طرف متوجہ کرنے کی زحمت نہیں کی۔ یہ بات خوش آئند ہے چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس ثاقب نثار نے کالا باغ ڈیم کے بارے میں ایک درخواست کے حوالے سے ملک میں پانی کی قلت کا نوٹس لیا ہے۔ ایک خبر کے مطابق انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ عید کے بعد اس سلسلہ میں سیمینار منعقد کیا جائے گااور اس میں ماہرین سے رائے لی جائے گی۔ لیکن یہ رائے عوام تک بھی جانی چاہیے تاکہ عوام کی سطح پر بھی پانی کی قلت دور کرنے کے لیے قومی اتفاقِ رائے تشکیل پائے جہاں تک ڈیمز کی تعمیر کی بات ہے خواہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے حق میں عوام کی رائے آئے خواہ متبادل ڈیمز کے حق میں اتفاقِ رائے ہو جائے ان کی تعمیر اگر آج شروع کی جائے تو پانچ سے سات سال ان کی تعمیر پر لگ جائیں گے اور پانی کی قلت آج ایک سنگین مسئلہ ہے ۔ اس لیے یہ مشاورت تین سطحوں پر ہونی چاہیے۔ ایک یہ کہ ملک میں پانی کی سیکورٹی کی ضرورت محسوس کی جائے اور اس کے تحت اقدامات کیے جائیں ۔ پانی کی فضول خرچی' پانی کا ضیاع ' پانی پر قبضہ 'مضر صحت پانی کی سپلائی اور فروخت قابلِ سزا ہونی چاہیے۔ ماحولیاتی تبدیلیوں کے ضمن میں شجرکاری ' پلاسٹک کے استعمال پر پابندی اور کارخانوں کے استعمال شدہ پانی کی صفائی وغیرہ کے اقدامات فوری طور پر ہونے چاہیں۔ دوسری سطح پر بھارت کی آبی جارحیت کو روکنے کی سعی ہونی چاہیے اور بین الاقوامی سطح پر رائے عامہ کو اس آبی جارحیت کے انسانی زندگی پر اثرات اور اس میں مضمر خطرات سے اہلِ عالم کو آگاہ کرنے کے لیے باقاعدہ حکمت عملی بنانے کی ضرورت محسوس کی جانی چاہیے۔ تیسری سطح پر کالا باغ ڈیم سمیت نئے ڈیموں کی تعمیر پر ازسرِ نو غور کیا جانا چاہیے۔ ان سوالوں پر غور ہونا چاہیے کہ آیا کالا باغ ڈیم واقعی سندھ اور خیبر پختونخوا کے لیے نقصان کا باعث ہو گا؟ کیا دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر سے پاکستان کو خشک سالی سے بچانا ممکن ہو گا؟ ان سے نہریں آبی قلت کے علاقوں تک لانے میں کتنی دیر اور کتنا سرمایہ صرف ہو گا؟ کیا ملک میں سیلابی پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے کوئی چھوٹے ڈیم بنائے جا سکتے ہیں۔ مشرف دور میں بلوچستان میں جو چھوٹے آبی ذخائر تعمیر کیے گئے تھے وہ سیلاب برد ہو گئے اور ساتھ ہی ساحلی ہائی وے کا بہت بڑا حصہ سمندر میں غرق ہو گیا تھا۔ کیا ان آبی ذخیروں کی تباہی سے کچھ اسباق حاصل کیے گئے ہیں جن کی روشنی میں نئے سرے سے نئے مقامات پر سیلابی پانی ذخیرہ کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے؟ کراچی اور گوادر میں سمندری پانی کو پینے کے قابل بنانے پر کتنا خرچ آئے گا اور یہ منصوبے کب تک مکمل ہو سکیں گے۔ اس قسم کے سیمیناروں کا مقصد محض پالیسی سازی یا منصوبہ بندی تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ ان میں جو نکات اٹھائے جائیں ان سے عوام کو آگاہ کرنے اور عوام کو اس سوچ بچار میں شامل کرنے کا بندوبست کیا جانا چاہیے۔

اداریہ