Daily Mashriq

ووٹروں کا حق آگاہی

ووٹروں کا حق آگاہی


الیکشن کمیشن میں زیرِ غور یہ تجویزحیران کن ہے کہ 2018ء کے عام انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کے اثاثوں وغیرہ کی معلومات کمیشن کی ویب سائٹ پر نہ ڈالی جائیں جہاں سے ووٹر امیدواروں کے اثاثوں' ٹیکس کی ادائیگیوں اور بینکوں کے قرضوں وغیرہ کے بارے میں معلومات حاصل کر سکیں گے۔ یہ تجویز2013ء کے عام انتخابات کے انتظامات سے انحراف ہو گی جب عوام کو یہ سہولت فراہم کی گئی تھی کہ وہ امیدواروں کے وہ اثاثے معلوم کر سکیں جو انہوں نے کاغذات نامزدگی کے گوشواروں میں ظاہر کیے ہیں۔ یہ راز اب طشت ازبام ہو چکا ہے کہ پارلیمنٹ نے انتخابی اصلاحات کے قانون کی آڑ میں کاغذات نامزدگی کے ساتھ امیدواروں کے اثاثوں اور ٹیکسوں کی ادائیگی اور دیگر کوائف کے بارے میں گوشوارے حذف کر دیے تھے۔ یہ بھی اب سب کو معلوم ہے کہ ان گوشواروں کی بجائے ایک ہی بیان حلفی میں یہ معلومات فراہم کرنے کا طریقہ کار اختیار کیاجا چکا ہے۔ ان گوشواروں اور اس بیان حلفی کا مقصد یہی ہے کہ ووٹروں کو اپنے امیدوار کے بارے میں وہ ضروری معلومات حاصل ہو جائیں جو آئین کے مطابق اس کے صادق اور امین ہونے کا اندازہ کرنے میںمعاون ہو سکتی ہیں۔ ان معلومات کو صیغہ راز میں رکھنا ووٹر کو اس کے حق آگاہی سے محروم کرنا ہوگا۔ بیان حلفی کی صورت میں جو معلومات الیکشن کمیشن میں جمع کرائی جائیں گی ان کا مقصد ہی یہ ہے کہ ووٹر اپنے نمائندوں کا انتخاب کرتے ہوئے ان کے ضروری کوائف سے آگاہ ہو سکیں۔ بصورت دیگر الیکشن کمیشن میں ان کوائف کی موجودگی سے کیا حاصل ہو گا؟ الٹا الیکشن کمیشن پر الزامات عائد کیے جانے کا امکان پیدا ہو جائے گا۔ اس لیے ایسی کسی تجویز پر غور کرنے کی بجائے امیدوار اپنے اثاثوں وغیرہ کے بارے میں جو بیان حلفی جمع کرائیں وہ الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر ووٹروں کے مشاہدے کے لیے ڈال دیے جائیں۔