سیکولر جمہوری اقدار سے بندھا مستقبل

سیکولر جمہوری اقدار سے بندھا مستقبل

کاغذات نامزدگی جمع کروانے کے آخری دن کی صبح آپ یہ سطور پڑھ رہے ہوں گے۔ ''گھمسان کا رن'' پڑنے کی نویدیں دی جا رہی ہیں۔ ''نواں پاکستان'' بنانے والے بھی پر عزم ہیں اور پرانے پاکستان والے بھی میدان میں ہیں۔مذہبی و سیاسی جماعتیں خاندانوں اور افراد کی ملکیت ہیں۔ مالکوں کے فیصلے ہی حرف آخر ہوتے ہیں۔ پی ٹی آئی نے ابھی قومی اسمبلی کی 173 نشستوں کے لئے امیدواروں کا اعلان کیا ہے۔ ان میں سے 27کا تعلق تحریک انصاف سے ہے باقی کے سیاسی مہاجر ہیں ۔ جن طبقات اور جس استحصالی نظام کے خلاف پی ٹی آئی بنی اور جدوجہد کرنے کا کہتی رہی ان طبقات اور نظام نے بنی گالہ کے لان میں خیمے لگا لئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ٹائیگر کہہ رہے ہیں '' ٹکٹیں تحریک انصاف نے جاری کی ہیں اور پیٹوں میں مروڑ دوسروں کے پڑ رہا ہے''۔ اس اصول پر کاش انہوں نے اپنی قیادت سمیت خود بھی عمل کیا ہوتا۔ عجیب بات ہے ٹائیگروں کو ہر چیز کی آزادی ہے اور دوسروں کو تنقید کی بھی نہیں۔ سیاست میں متعارف ہوئے اس بنی گالہ فرقے کے رنگ ڈھنگ ہی نرالے ہیں۔ اچھا ویسے تحریک انصاف نے جن پرانے 27افراد کو اب تک ٹکٹیں دی ہیں ان میں 5ٹکٹیں عمران خان کے لئے ہیں باقی بچے 22 افراد۔ موروثی سیاست کے لئے برہنہ تلوار بنی پی ٹی آئی نے بہت سارے لیڈروں کے بھائیوں' بیٹوں' بھتیجوں' بھانجوں اور کزنز کو بھی ٹکٹیں دی ہیں۔ چلیں ہمیں کیا' خدا خوش رکھے جن کی پارٹی ہے انہیں کوئی مسئلہ نہیں تو میں اور آپ کون ہوتے ہیں۔ یہ عرض کرنا البتہ ضروری ہے کہ ذہنی و سیاسی غلامی اسے ہی کہتے ہیں کہ ہر حال میں دفاع کرو۔ سوموار کی رات 12 بجے تک کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا عمل مکمل ہوگا پھر پارٹیوں کی امیدواروں کی حد تک پوزیشن واضح ہوگی۔ میڈیا کے ایک بڑے حصے سے ایک عامل صحافی کی حیثیت سے مجھ طالب علم کو شکوہ ہے کہ وہ جانبدارانہ رپورٹنگ میں مصروف ہے۔ دستیاب معلومات کی روشنی میں اس جانبدارانہ رپورٹنگ کے لئے ''حکم'' کے مرکز سے آگاہ ہوں پھر بھی دوستوں سے توقع کرتا ہوں کہ بھان متی کے کنبے کے علاوہ دوسری جماعتوں کو بھی مناسب حصہ دیں گے۔
انتخابات کے لئے مقررہ تاریخ 25جولائی2018ء ہے۔ فقیر راحموں اب بھی بضد ہے کہ انتخابات آگے پیچھے ہوسکتے ہیں ان کا خیال ہے کہ ''سرکار'' کی چھتری تلے چلنے والے ایک دو نجی چینل جس طرح کے پروگرام کر رہے ہیں ان پروگراموں سے فساد خلق کا خطرہ ہے۔ بات بہت حد تک درست ہے لیکن بندروں کے ہاتھ استرا لگ جائے یا ماچس ہر دو کا جو نتیجہ نکلتا ہے اس کا سامنا کرنے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ غداری ملک دشمنی اور اسلام دشمنی کے الزامات لگانے والے دوستوں کو نمک حلالی سے زیادہ ملک اور جمہوریت کے مفاد کو مدنظر رکھنا چاہئے۔ کسی فرد' پارٹی یا ادارے کی چاپلوسی میں الزام الزام کھیلنے سے معاملات ہی نہیں بگڑیں گے بلکہ بدترین مسائل پیدا ہوں گے۔ کسی کے فہم اسلام اور حب الوطنی پر انگلی اٹھاتے لوگوں کو اپنے گریبان میں بھی جھانک لینا چاہئے۔ یہ 22 کروڑ لوگوں کا ملک ہے چار صوبوں اور پانچ قوموں کی فیڈریشن'ا یک قومی نظریہ کی تلوار سے گردنیں مارنے کے شوق سے نجات حاصل کرنا ہوگی۔ یہ بھی عرض کردوں کہ کسی قسم کی کوئی تبدیلی دوڑے بھاگے نہیں آرہی تقریباً تمام سیاسی جماعتوں کے 98 فیصد امیدواروں کا تعلق اشرافیہ سے ہے۔ مشکل سے دو فیصد کا تعلق درمیانی طبقات سے۔ بہت شور و غل کے ساتھ خوابوں کی جو تجارت ہوتی رہی نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ ہمارے سماج کا المیہ یہ ہے کہ لیڈروں' ملائوں اور جماعتوں کے وفادار فیصلوں کادفاع ایمان سمجھ کر کرتے ہیں۔ ہم آگے بڑھتے ہیں۔ انتخابی ماحول میں کشیدگی در آتی دکھائی دے رہی ہے۔ لاریب مسلم لیگ(ن) سے غلطیاں بھی ہوئیں اور بلنڈر بھی لیکن ایک سیاسی جماعت کے طور پر اسے آزادانہ سر گرمیوں کا کامل حق ہے مگر لگتا یہ ہے کہ جو ماحول 2013ء میں پیپلز پارٹی اور اے این پی کے لئے بنا یا گا تھا اس بار ویسا ماحول مسلم لیگ (ن) کے لئے تیار کیا جا رہا ہے۔
بہت ادب سے ملتمس ہوں کہ شخصی و جماعتی آزادیوں میں کوئی حائل نہ ہو پاکستان اپنے معروضی حالات میں تجربوں کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ ریاستی اداروں' الیکشن کمیشن اور نگران حکومتوں کا فرض ہے کہ غیر جانبداری کے ساتھ پر امن انتخابات کو یقینی بنائیں کسی کے لئے پسندیدہ و نا پسندیدہ کا تاثر نہیں بننا چاہئے۔ ثالثاً یہ بھی عرض کردوں کہ نظام اور استحصال کے ساتھ عدم مساوات پر روتے چیختے رائے دہندگان کے پاس ووٹ ڈالنے کی صورت میں موقع ہے۔ وہ اشرافیہ کے نسلی امیدواروں کی جگہ دستیاب درمیانے طبقے کے ان امیدواروں کو ترجیح دے سکتے ہیں جو فتویٰ بازی کی لت سے محفوظ ہوں۔ رابعً یہ عرض کرنا ہی از بس ضروری ہے کہ جو حالات بنتے بگڑتے دکھائی دے رہے ہیں اس میں انتخابات کا مقررہ وقت پر ہوجانا خوش قسمتی ہوگی۔ ذات پات' برادری اور فرقہ پرستی کے نام پر ووٹ مانگنے والوں کی ہر سطح پر حوصلہ شکنی بہت ضروری ہے۔ آخری بات یہ ہے کہ اس ملک اور جمہوریت کے لئے ضروری ہے کہ مستقبل میں نظام حکومت کی تشکیل سیکولر جمہوری اقدار پر ہو تاکہ مساوات اور انصاف کا بول بالا ہوسکے۔ رائے دہندگان اور قارئین کو مجھ تحریر نویس سے اختلاف کا کاملاً حق ہے لیکن کھلی آنکھوں سے 45برسوں کی اونچ نیچ گھٹالوں اور وارداتوں کو دیکھنے بھگتنے کے بعد دیانتداری کے ساتھ یہ سمجھ پایا ہوں کہ 5قومی فیڈریشن کا مستقبل سیکولر جمہوری اقدار میں ہے۔ مکرر عرض کئے دیتا ہوں کہ 22کروڑ لوگوں کے ملک میں پسند و نا پسند کے پھریرے لہرانے کی ضرورت نہیں البتہ حکومت اور ادارے اس امر کو یقینی بنائیں کہ انتہا پسندوں اور ان کے ہم جولیوں کو کھل کھیلنے کے مواقع نہیں ملیں گے۔

اداریہ