ہم خواب فروشوں سے کوئی خواب خریدے

ہم خواب فروشوں سے کوئی خواب خریدے

خطے میں پاکستان شاید اب واحد ملک رہ گیا ہے جہاں اس طرز کا انتخابی مذاق اب بھی جاری ہے ، عین ممکن ہے کہ پڑوسی بھارت میں بھی اکا دکا ایسے واقعات ہوتے ہوں البتہ بنگلہ دیشن جو کبھی ہمارے وجود کا حصہ ہوا کرتا تھا وہاں سے اب اس قبیل کی کوئی خبر نہیں آتی ۔ چونکہ یہ تینوں ملک صدیوں تک ایک ہی مملکت کا حصہ ہوا کرتے تھے اور انگریز کی عمل داری میں یہاں مغربی جمہوریت کے اجراء کے ہنگام جو انتخابی روایات قائم ہوئیں ان میں بھی دور دور تک ایسی کوئی صورتحال دکھائی نہیں دیتی یا پھر شاید ہماری ہی معلومات اس حوالے سے ناقص ہوں اور اگر ایسے حالات رہے بھی ہوں تو انتہائی محدود تعداد میں یعنی آٹے میں نمک کے برابر جنہیں قراردیا جاسکتا ہے ، اب یہ تو سیاسی محققین ہی بہتر طور پر بتا سکتے ہیں کہ یہ کجی انتخابی سیاست کی دیوار میں کب خشت اول کوٹیڑھا رکھ کر پیدا کی گئی ۔ لیکن اب تو یہ دیوار اوج ثریا کی جانب جاتے ہوئے واقعی اس قدر ٹیڑھی ہو چکی ہے کہ اس کے انہدام کے خطرات واضح ہو چکے ہیں ۔ بقول اسحاق اطہر صدیقی
تازہ ہوا کے شوق میں اے زاہدان شہر
اتنے نہ دربنائو کہ دیوار گر پڑے
ہمیں اس سے غرض نہیں (اگر چہ ہونی چاہیئے) کہ سیاسی جماعتیں اپنے اصلی اور دیرینہ کارکنوں کی قربانیوں کو نظر انداز کر کے ''تازہ وار دان بساط ہوائے دل ''یعنی چھاتہ برداروں کو فوقیت دیتے ہوئے ٹکٹ تھما رہی ہیں اور اس پر نہایت ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تاویلیں بھی تراش رہی ہیں ، ہم شاید اس بات پر بھی (جائز) اعتراض کے حق سے خود کو محروم رکھتے ہوئے یہ نہ پو چھیں کہ عوام کے حقوق کی چیمپئین بنتے ہوئے سیاسی جماعتیں راتوں رات وفاداریاں تبدیل کرنے والے خاندانوں کو تھوک کے حساب سے پارٹی ٹکٹوں کے ''تحائف '' پیش کر رہی ہیں کہ یہ بھی سیاست کی انتہائی شرمناک روایات کا حصہ ہے ، یوں نظریاتی کارکن ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں ، ہم اس بات پر بھی شاید معترض نہ ہوں کہ پارٹیوں کے اندر بعض مضبوط افراد نہ صرف اپنے لئے بلکہ اپنے رشتہ داروں کیلئے بھی ٹکٹوں کے حصول میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ ہم اس پر بھی کوئی سوال نہیں اٹھاتے کہ ایک سیاسی جماعت نے گوجرانوالہ میں سارے ٹکٹ صرف تین خاندانوں میں بانٹ دیئے ہیں ، ہمیں ان خبروں سے بھی کوئی لینا دینا نہیں کہ کئی مقامات پر پارٹیوں کے کارکن ٹکٹوں کی اس بندر بانٹ پر مشتعل ہو چکے ہیں اور ٹکٹوں سے محروم کارکن خود اپنی ہی جماعتوں کے ٹکٹ ہولڈروں کے مقابلے میں میدان میں اتر آئے ہیں اور آزاد حیثیت سے انتخاب لڑنے کے اعلانات کر رہے ہیں کہ ایسا بھی عموماً ہر انتخابی دنگل کے موقع پر دیکھنے میں آتا رہا ہے۔ ہم انتخابی میدان میں موجود متحارب سیاسی جماعتوں کے بعض رہنمائوں کے اس موقف سے بھی خود کو متفق نہیں کر پارہے جو اپنی اپنی جماعتوں کی ناقص پالیسیوں سے صرف نظر کرتے ہوئے دوسری جماعتوں کی ٹکٹ پالیسی پر معترض ہیں اور انہیں لوٹوں کو ٹکٹ دینے کے طعنے دے رہے ہیں جس پر نہایت ہی آسانی سے کہا جا سکتا ہے کہ تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑتو یعنی وہ اگر اپنے گھر کو درست کرنے پر توجہ دیں تو ان کیلئے زیادہ بہتر ہوگا (یہ صورتحال لگ بھگ ہر جماعت کی ہے ) اور سو بات کی ایک بات کہ ہمیں اس بات پہ بھی بھلا کیا اعتراض ہوسکتا ہے کہ اگر بعض جماعتوں کے اندر ٹکٹ سے محروم وہ جانے والوں کے ساتھ مصالحت کی کوششوں کا آغاز کرتے ہوئے مصالحتی کمیٹیوں کے قیام پر اتفاق کیا گیا ہے ۔ہمیں اگر اعتراض ہے تو یہ کہ جو کئی جماعتوں کے بعض اہم رہنما ایک سے زیادہ بلکہ کئی کئی حلقوں میں میدان میں اترنے کا فیصلہ کر چکے ہیں اس کا آخر جواز کیا ہے ؟ اس طرح نہ صرف ان کے اندر کا خوف ظاہر ہو کر سامنے آرہا ہے بلکہ اس طرح وہ اس غریب قوم کا وقت اور بے پناہ سرمایہ بھی ضائع کر رہے ہیں۔ انہیں شاید اپنے اوپر اعتماد ہی نہیں کہ وہ اگر صرف ایک ہی حلقے سے انتخابی میدان میں اترے تو کہیں ہار نہ جائیں ، حالانکہ انتخابی عمل میں ہار جیت تو لگی رہتی ہے جس سے کسی کی مقبولیت کا اندازہ لگانے کی سوچ ہی غلط ہے ، اب یہ جو بعض رہنمائوں نے دو ، دو ، تین ، تین بلکہ ایک آدھ نے پانچ حلقوں سے انتخابات میں حصہ لینے کیلئے کا غذات نامزدگی جمع کرادیئے ہیں ، اگر بفرض محال وہ محولہ سارے حلقوں سے کامیاب ہو جاتے ہیں تو ظاہر ہے صرف ایک ہی حلقہ سے ہی رکنیت رکھ کر باقی تمام حلقوں کو خالی کریں گے ، ایسی صورت میں ضمنی انتخابات لازمی ہوں گے جس پر قومی خزانے سے مزید اخراجات کرنے پڑیں گے ، جو ایک غریب قوم کیسے برداشت کر سکتی ہے ، اصولی طور پر تو ہر شخص کو صرف اپنے آبائی حلقے سے ہی میدان میں اترنے کی اجازت ہونی چاہیئے ، زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتا ہے کہ وہ قومی کے ساتھ صوبائی اسمبلی سے بھی بیک وقت امیدوار ہو تو کوئی حرج نہیں ، یوں دوسرے کارکنوں کی محرومیت کا مسئلہ اور ٹکٹوں کی تقسیم کا قضیہ بھی ختم ہو جائے گا ۔ اس لئے اس صورتحال پر بھی اگر چیف جسٹس صاحب توجہ فرمائیں اور جیسا کہ ہر امیدوار کو کاغذات نامزدگی کے ساتھ اضافی دستاویزات جمع کرانے کی ہدایت فرما چکے ہیں اس معاملے کو بھی دیکھیں تو اس غریب قوم پر احسان ہوگا ۔ بقول حسن نثار
کچھ اور نہیں وعدہ تعبیر کے بدلے
ہم خواب فروشوں سے کوئی خواب خریدے

اداریہ