Daily Mashriq

یہ کوئی عقلمندی نہیں

یہ کوئی عقلمندی نہیں

پنجابی کا ایک محاورہ ہے کہ ''سیانا کاں ہمیشہ گوں تے ڈگدااے ''یعنی سیانا او رسمجھدار شخص ہمیشہ بے وقوفی کرتا ہے ۔ لیکن اگر کوئی شخص صرف اس محاورے کو کسوٹی بنالے اور اپنی سمجھداری ، ذہانت و فطانت کو ثابت کرنے کے لیے بے وقوفی کرے تو میرے خیال میں اسے عقل مند و سمجھدار نہیں ، ضدی کہا جاتا ہے ۔ضد انسان کو ہمیشہ ہی غلط فیصلے کرنے پر مجبور کرتی ہے ۔ جناب عمران خان کی ایسی کیا مجبوری ہے کہ درست فیصلے کرنا نہیں چاہتے میں سمجھ نہیں سکتی ۔ ایسے کمال کے خیالات رکھتے ہیں ، اس ملک میں ووٹر کی سطح پر ایک عام آدمی کے شعور میںانہوں نے ایسا اضافہ کیا ہے جو قائد اعظم کی وفات کے بعد آج تک کوئی نہ کر پایا تھا ۔ اور ہمیں اس کی داد انہیں دینی چاہیے ۔ لوگوں میں اپنے مفادات کے حوالے سے اپنے رہنما چُننے کے حوالے سے وہ بصیرت پیدا کی جو آج تک پاکستان کے لوگوں میں موجود ہی نہ تھی ۔ اب پاکستان کا ووٹر پہلے سے بہتر فیصلہ کرنے والا بن سکتا ہے ۔ اس جانب اس سے پہلے کسی نے توجہ نہیں دی ۔ اس کی بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ سیاست دان اس سے پہلے کبھی عوام سے ایسے وفادار اوران کے ایسے بہی خواہ بھی نہیں رہے ۔ کسی نے بھی لوگوں کو ان کی خواہشات اور پسند کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے سمجھانے اور بیدار کرنے کی کوشش ہی نہیں کی کئی دینی جماعتیں لوگوں کی بھلائی کے لیے تو انتہائی دیانت داری سے کام کرنا چاہتی تھیں لیکن عوام کے دلوں میں ان کے لئے وہ قبولیت نہ تھی کیونکہ لوگ ان دینی جماعتوں کے سخت رویوں سے خوفزدہ رہے ۔ عمران خان نے لوگوں کی مرضی اور پسند کو بھی ملحوظ خاطر رکھا اور اس ملک سے وفاداری بھی نبھائی ۔ لیکن سیاست میں بات صرف یہیں تک محدود نہیں رہتی ۔ اصل کام تو انتخابات کے آس پاس شروع ہوتا ہے ۔ سیاست دان کو ملک کی فضا سمجھنی پڑتی ہے ۔ لوگوں کے رجحانات کا حساب کتاب لگانا پڑتا ہے ۔ وہ اگر لوگوں کو ان کی پسند کے بالکل برعکس بھی سمت دینا چاہتا ہے تو اس کے لئے ایسے طریقہ کار اختیار کرتا ہے کہ لوگوں کو اس تبدیلی پر بھی اپنی پسند کا گمان رہے۔ عمران خان نے اس میں سے بہت سی حکمت عملی تو اپنے ذہن میں رکھی۔ ملک کی فضا کا درست اندازہ کرنا اس وقت بھول گئے جب اپنی پارٹی کے نام کے ٹکٹ لوگوں میں تقسیم کرنے تھے۔ یہ وقت اپنے گزشتہ کئی انتخابات کے وقت سے بالکل مختلف ہے۔ اس سے پہلے جب کبھی بھی انتخابات ہوئے اس میں لوگوں کا رجحان' سیاسی جماعتوں کی کاوش' اس وقت انتخابات و انتظامات میں کس قدر پیسے لگائے گئے ' انتظامیہ کو کس طرح استعمال کیاگیا' سب ہی باتیں مل کر انتخابات کے فیصلے مرتب کرتی تھیں۔ بنیادی طور پر انتخابات '' جیتنے والوں'' کے انتخابات ہوا کرتے تھے۔ اب کی بار ملک میں فضا الگ ہے۔ احتساب ہو رہا ہے اور یہ وہ احتساب نہیں جس کو ہمیشہ آنکھوں کے دھوکے کی طرح' نظر بندی کے طور پر پاکستان میں استعمال کیاگیا ہے۔ یہ اصلی احتساب ہے' چوروں کے منہ میں ہاتھ ڈال کر ان سے عوام کا کھایا ہوا مال اگلوانے والا احتساب اس احتساب کی زد سے کوئی محفوظ نہیں۔ یہ احتساب امیروں کا' سیاستدانوں کا' حکمرانوں کا بھی احتساب ہے۔ باوجود اس کے کہ ابھی ہمارا نظام نہیں بدلا' انہیں لوگوں کو بچانے والے' انتظامیہ کے ستونوں کے پیچھے اوٹ میں موجود ہیں ۔ جب بھی احتساب کی کوئی بات ہوتی ہے کہیں سے آنکڑے کسے جانے کی باتیں ہونے لگتی ہیں۔ اس وقت یہ لوگ اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے ثبوتوں کے نشان مٹانے لگتے ہیں۔ کہیں کوئی اشارہ دکھائی دینے لگے تو اس کے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں تاکہ محتسبین کو کچھ دکھائی نہ دے جائے لیکن پھر بھی احتساب ہو رہا ہے۔ اس وقت عمران خان کسی عام آدمی کو' کسی پارٹی سے وفادار پارٹی ورکر کو ٹکٹ دیتے تو انتخاب جیتتے۔ انہوں نے خود ہی عوام کا شعور بڑھا دیا اور پھر خود ہی اس سارے معاملے کو سمجھ نہ پائے۔ تحریک انصاف نے ایسے ایسے لوگوں کو ٹکٹ دئیے جو معاشرے میںبد نام ہیں۔ اس سے نہ صرف پارٹی ورکر کو اہانت کا احساس ہوا بلکہ عوام بھی بددل ہونگے ۔ اور ایسے نام بے شمار ہیں ۔ یہ انتخاب تو منتخبین کا انتخاب ہی نہ تھا ۔ یہ انتخاب تو واقعی تبدیلی کا انتخاب تھا اور لوگ عمران خان ہی سے امید لگائے بیٹھے تھے ۔ اس امید کے ٹوٹ جانے کی آواز بھی تو اتنی سنائی ہی نہیں دے رہی جتنی بعد میں سنائی دے گی ۔ جانے عمران خان کو کس بات کی ضد ہے ۔ صاف ستھرے ، نیک طینت پارٹی کارکنان کو ٹکٹ کیوں نہ دیئے گئے ۔ پارٹی ٹکٹو ں کے اعلان سے ہی یہ بات سمجھ آگئی کہ تحریک انصاف اس دفعہ بھی کوئی ایسی کارکردگی انتخابات میں دکھانہ سکے گی ۔ اس سے معاشرے میں بے چینی اور انتشار اور بھی زیادہ پھیلے گا ۔ عمران خان مسلسل غلط سیاسی فیصلے کرتے رہتے ہیں اور معاملات بگڑتے رہتے ہیں۔ساری صورتحال انتہائی افسوسناک ہے ۔ اور اس سے بھی زیادہ دل دکھانے والی بات یہ ہے کہ اب کی بار بھی اسمبلی میں وہی لوگ نظر آئینگے جن کی غلط پالیسیوں نے پاکستان کو اس حال تک پہنچایا ہے ۔ افسوس کہ یہ کوئی عقلمندی نہیں ۔

اداریہ