توانائی کے بے تحا شا متبادل ذرائع

توانائی کے بے تحا شا متبادل ذرائع

ما ہر ین ما حولیات کہتے ہیں کہ گزشتہ 50 سال میں زمین کا اوسط درجہ حرارت ایک درجہ سنٹی گریڈ بڑھ گیا ہے۔ اُنہوں نے پیشن گوئی کی ہے کہ اگر زمین کا درجہ حرارت 3.6 ڈ گری سنٹی گریڈ تک مزید بڑھ گیا تو اس سے پہاڑوں پر گلیشئر یعنی برف کے بڑے بڑے تو دے پگھل جائیں گے جس سے سمندر کی سطح 100 میٹر تک مزیدبلند ہو جائے گی اور اس طرح وہ علاقے جو سمندروں کے قریب ہیں اُن میں طغیانی آجائے گی۔ سال 2015 میں دنیا کے 200 ممالک نے پیرس میں ایک معا ہدہ دستخط کیا ہے جس کے مطابق وہ اپنے اپنے ممالک میں درجہ حرارت 2 درجہ سنٹی گریڈ اضافے سے نیچے رکھیں گے یعنی ابھی جو درجہ حرارت ہے اُس کو مزید 2 درجہ سنٹی گریڈ سے زیادہ بڑھنے نہیں دیں گے۔سائنس دان کہتے ہیں کہ جوں جوں درجہ حرارت مزید بڑھتا جاتا ہے اُس سے نُقصانات ہوتے رہتے ہیں ۔ امریکہ کے ایک ادارے جو پہاڑوں پر برف سے متعلق اعداد و شمار اکٹھا کرتا ہے ، کے مطابق پو ری دنیا میں سال 1945 سے لیکر سال 2004 تک گلیشیر کے سامنے یعنی فرنٹ والے حصے 7 میل کے حساب سے ختم ہوئے جبکہ ان بر فانی تو دوں یعنیگلیشیئرکی موٹائی3000 فٹ کے حساب سے کم ہوئی اور اگر یہی صورت حال بر قرار رہی توگلیشیئرجو کہ زمین پر پانی کا ایک بُہت بڑا ذریعہ ہے جلدی ختم ہوجائیں گے اور انسان دنیا میں پانی کے لئے لڑیں گے۔ ہم بُہت سارے ایسے توانائی کے روایتی ذرائع استعمال کرتے ہیں جس سے حد سے زیادہ کا ربن اور کاربن ڈائی آکسا ئیڈ خارج ہوتی ہے ، جوایک زہریلی گیس ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم مختلف قسم کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ جب زمین پر کاربن ڈائی آکسائیڈ زیادہ ہوجاتی ہے تو اس سے پہاڑوں پرگلیشیئر جلدی پگھل جاتے ہیں جو مو سمی تغیرات کا سبب بنتا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب سال میں 6 مہینے گرمی اور 6 مہینے سردی ہوا کرتی تھی مگر ابھی کرہ ارض پر کاربن اور کا ربن ڈائی آکسائیڈ اور دوسرے زہریلی گیسوں کی وجہ سے سال میں صرف دو مہینے سر دی اور باقی 10 مہینے گرمی ہو تی ہے۔اب سوال یہ ہے کہ اس مو سمی تغیر سے کیسے نپٹا جائے تو اسکا حل یہ ہے کہ درخت لگائے جائیں اور توانائی کے روایتی ذرائع کے بجائے توانائی کے متبادل ذرائع استعمال کئے جائیں۔ ما ہرین ما حولیات کہتے ہیں کہ ایک ایکڑ درخت سال میں 27647 پو نڈ کا ربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرتے ہیں اور یہ یہی گیس ہے جو زمین پر گرمی پیدا کرتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ قُر آن مجید فُر قان حمید میں بار بار درختوں کا ذکر کیا جا چکا ہے۔دوسری جو اہم چیز ہے وہ توانائی کے متبادل ذرائع ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بے تحا شا متبادل ذرائع توانائی سے مالا مال فرما یا ہے مگر افسوس کی بات ہے کہ ہم توانائی کے متبادل ذرائع استعمال نہیں کرتے ۔ توانائی کے ان متبادل ذرائع میں پانی سے بجلی، شمسی توانائی، ہوا سے بجلی اور اسکے علاوہ دیگر اور ذرائع ہیں۔ متبادل ذرائع توانائی کے استعمال کر نے والے جو ٹاپ 10 ممالک ہیں اُن میں سویڈن، کو سٹا رائس، نکاراگوا، سکاٹ لینڈ ، جرمنی ، یو رو گائے، ڈنمارک ، چین مراکش امریکہ اور کینیا شامل ہیں۔ اگر ہم غور کریں تو توانائی کے جو متبادل ذرائع ہیں وہ بُہت کم مقدار میں کاربن ڈائی آکسائیڈخارج کرتے ہیں۔ اس میں کوئلے سے جو ایک کلو واٹ فی گھنٹہ میں کاربن ڈائی آکسائیڈ نکلتی ہے وہ اوسط 823 گرام ، بائیو ماس سے 743 گرام فی کلوواٹ فی گھنٹہ، قدرتی گیس سے اوسط 516 گرام ، شمسی سولر پینلوں سے فی کلوواٹ فی گھنٹہ 87 گرام،جیو تھر مل سے فی گھنٹہ فی کلوواٹ 41 گرام، پانی سے بجلی پیدا کرنے سے کم ازکم ایک گرام اور زیادہ سے زیادہ 1500 گرام، ہوا سے توانائی پیدا کرنے سے 31گرام اور جو ہری توانائی سے 52 گرام فی کلو واٹ فی گھنٹہ کاربن ڈائی آکسائیڈ پیدا ہوتی ہے۔ اگر ہم مندرجہ بالا تفصیل پر نظر ڈالیں تو اس میں متبادل ذرائع توانائی جس میں پانی، ہوا ، شمسی اور جیو تھرمل توانائی کے ایسے ذرائع ہیںجن سے کم سے کم کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہو تی ہے اور اسطرح کم سے کم ماحول خراب ہوتا ہے۔ اگر ہم اسکے ریٹس پر غور کرلیں تو وہ بھی کم ہیں۔ مثلاً ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی فی کلوواٹ فی گھنٹہ قیمت 0.044ڈالر ، شمسی سیلوں اور پینلز فی کلو واٹ فی گھنٹہ بجلی پیدا کرنے کی قیمت 0.058 ڈالر،سولر تھرمل سے فی کلوواٹ فی گھنٹہ بجلی پیدا کرنے کی قیمت 0.0184 ڈالر ہے۔ جبکہ پانی سے بجلی پیدا کرنے کی فی کلوواٹ فی گھنٹہ قیمت 0.064ڈالر جبکہ بائیو ماس سے فی گھنٹہ فی کلوواٹ 0.098 ڈالر ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ دنیا میں زیادہ تر ممالک اور بالخصوص ہما را پڑوسی ملک بھارت متبادل توانائی پر زور دے رہے ہیں۔اسی طرح 10 ممالک ایسے ہیں جو اپنی ضروریات کے لیے زیادہ تر بجلی شمسی توانائی سے پیدا کرتے ہیں ان میں جرمنی30 فی صد، چین 29فی صد، جاپان 24فی صد ، اٹلی 19فی صد، امریکہ18 فی صد ، فرانس 5.7فی صد، سپین 5.4فی صد آسٹریلیا 4.1 فی صد اور بھارت 3.2فی صد بجلی پیدا کرتا ہے ۔ افسوس کا مقام ہے کہ پاکستان میں پانی سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ایک لاکھ میگا واٹ، ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی صلا حیت 50ہزار میگا واٹ اور بائیو ماس سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہزاروں میگا واٹ ہے۔ جبکہ ایک مربع کلومیٹر پر ایک کلوواٹ توانائی پڑتی ہے اور ہم ہزاروں میگا واٹ شمسی توانائی پیدا کر سکتے ہیں مگر ہم ایسا نہیں کر رہے۔

اداریہ