Daily Mashriq

زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھو

زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھو

بہت سے لوگ زندگی کو گاڑی سے تشبیہ دیتے ہیں جبھی تو وہ میاں اور بیوی کو زندگی کی گاڑی کے دو پہئے کہتے ہیں ، پرانے وقتوں میں دو پہیوں والی گاڑی یا سواری کو سائیکل یا بائی سائیکل کہا جاتا تھا ،جب زمانے نے ترقی کی تو دو پہیوں والی گاڑی میں موٹر سائیکل بھی شامل ہوگیا، سائیکل غریب یا متوسط طبقے کی سواری تھی اس لئے موٹر سائیکل نامی دو پہیوں کی اس سواری سے سائیکل کے لفظ کو حذف کر کے اسے 'بائیک 'کہا جانے لگا ۔ اگر اس تناظر میں دیکھا جائے تو ہم میاں بیوی کو زندگی کی گاڑی کی بجائے زندگی کے بائیک کے دو پہئے بھی کہہ سکتے ہیں۔ سچ پوچھئے تو ہم میاں بیوی کے رشتے کو دو پہیوں کی سواری سے تشبیہہ دیتے وقت بھول جاتے ہیں کہ یہ دو پہیوں والی سواری نہیں ہوتی ، میاں ، بیوی ، ساس، نند ، سسر، دیور، اور جانے کتنے قریب دار زندگی کی گاڑی کے دو سے زیادہ پہیوں کا کردار ادا کرتے ہیں ، لیکن میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی کے مصداق زندگی کی گاڑی کے ان پہیوں کو خاطر میں نہیں لایا جاتا یا فالتو گردان لیا جاتا ہے ، جس کے نتیجے میں ساس بہو کے درمیان روایتی لڑائی جھگڑوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ سر اٹھاتا ہے ، اور یوں زندگی کی گاڑی، گاڑی نہیں رہتی ، جنجال پورہ بن جاتی ہے ۔ اور چچا غالب کے بقول
ایک ہنگام پہ موقوف ہے گھر کی رونق
نوحہ غم ہی سہی نغمہ شادی نہ سہی
جیسی صورت حال پید اہوجاتی ہے اور بعض اوقات تو اللہ بچائے بیوی خلع کا تقاضا کرنے لگتی ہے یا میاں طلاق طلاق طلاق کہہ کر اس عذاب سے جان چھڑانے پر مجبور ہوجاتا ہے ، عمران کی پہلی بیوی جمائمہ کو اپنے ایک یا دو نہیں پورے اٹھارہ کروڑ سسرالیوں میں سے بہت سو ں کے یہ طعنے سننے پڑے کہ وہ عمران خان کے گھر آنگن میں اسلام قبول کرکے پہنچنے سے پہلے' یہودی کی لڑکی' یا ایک یہودن دوشیزہ تھی ، وہ مغرب کی پروردہ تھی ، شاید وہ اس بات کا برا کبھی نہ مناتی کیونکہ مغرب والیاں ساس سسر یا سسرالیوں کو قانونی ماں باپ کادرجہ د یتی ہیں، یعنی وہ ساس کو مادر ان لاء ، سسر کو فادر ان لاء ، نندوں کو سسٹرز ان لاء کہہ کر پکارنے یا ان سے نبھا کرنے کی عادی ہوتی ہیں ، لیکن جب انہیں اپنے سسرالیوں سے جان کی امان پانا مشکل ہوجاتی ہے تو جان بچی لاکھوں پائے کے مصداق علیحدگی حاصل کرنے کے آپشن یا اختیار کو دل وجان سے قبول کر لیتی ہیں اور جمائمہ کی طرح خاموشی سے کسی گوشہ عافیت کو آباد کرلیتی ہیں ، مگر ریحام خان ایسا کچھ بھی نہیں کرسکیں اس نے مبینہ طور پرعمران خان اور اس کے اہل خانہ اور اس کے گھر کے نوکر اور نوکرانیوں تک کا کچا چٹھا چھان کرایک مسترد شدہ یا زخمی عورت کے انتقام کی ایسی مثال قائم کرنے کی کوشش کی ہے جس پر چہار جانب سے تھو تھو کی آوازیں آنے لگی ہیں ، وہ جو کہتے ہیں کہ چاند پر تھوکا منہ پر آتا ہے ، آج کل اس بات کا چرچا عام ہے کہ عمران خان کی سابقہ دوسری بیوی ریحام خان نے علیحدگی حاصل کرنے کے بعد کچھ مدت تک خاموشی اختیار کئے رکھی ، اچانک اسے عمران خان کی بیوی بننے کے تلخ تجربے کو کتابی صورت میں شائع کرنے کی سوجھی ، اور پھر وہ مسودہ لیک ہوگیا اور اس میںعمران خان اس کی ماں بہنوں بیٹوں ، اور نوکروں نوکرانیوں تک کے خلاف مغلظات کا بھر پور استعمال کرنے کا حق نمک ادا کردیا۔ اکثریت کا کہنا ہے کہ ریحام خان نے اس کتاب کا مسودہ از خود نہیں لکھا ، اس سے لکھوایا گیا ہے ۔ عمران خان کے سیاسی حریفوں کے ہاتھوں میں کھلونا بننے والی ریحام خان کی اس کتاب سے عمران خان کے مخالفین کو کتنا فائدہ پہنچے گا اورعمران خان کو کتنا تقصان بھگتنا پڑے گا یہ سب اس وقت سامنے آئے گا جب الیکشن 2018ء اپنے منطقی انجام تک پہنچ جائے گا۔کون پڑھتا ہے آج کل کتابیں کہنے والے یہ بات بھی کر رہے ہیں ، لیکن تجزئیے اور تبصرے ہر کس و ناکس سنتا اور ان پر سر دھنتا ہے، کتاب شائع ہویا نہ ہو، اس کے شائع ہونے سے پہلے اس کے چرچے ہونے لگے ہیں ۔ اس حوالہ سے عمران خان سے بات کی گئی تو انہوں نے اسے اپنی زندگی کا بدترین تجربہ قرار دیا اور انہوں نے
عرفی تومی اندیش ز غوغائے رقیباں
آواز سگاں کم نکند رزق گدا را
جیسی بات کرتے ہوئے کہا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ کہتے ہیں محبت اور جنگ میں یہ سب کچھ ہوتا رہتا ہے ، اور بہت سے لوگ تو محبت اور جنگ میں کی جانے والی ہر حرکت کو جائز بھی قرار دیتے ہیں ۔ کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے۔ سچ پوچھئے تو بے چاری ریحام خان لنکا ڈھانے کے شوق میں بدنام ہونگے تو کیا نام نہ ہوگا جیسا راگ الاپنے لگی ہیں۔ وہ عمران خان اور اس کے خانوادے کے دیگر افراد کے ساتھ گزرے شب وروز کے چرچوں کو عام کرکے ان سے جو انتقام لینا چاہتی ہیں اس میں ان کی اپنی کتنی رسوائی ہورہی ہے اس کا انہیں ادراک ہی نہیں ۔ آج کل ریحام خان کی غیر مطبوعہ کتاب کا شوشا زبان زد عام ہے ۔ دیکھتے ہیں عمران کے سیاسی حریفوں کے ہاتھ کا یہ کارڈ کیا رنگ دکھاتا ہے ، وہ جو کسی نے کہا ہے
زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھو
جسے جہاں بجا کہے بجا سمجھو
آخری فیصلہ تو خلق خدا کے ہاتھ میں پکڑی ووٹ کی پرچی نے کرنا ہے نا؟۔

اداریہ