Daily Mashriq

نیب نے مسلم لیگ کے نائب صدر حمزہ شہباز کو گرفتار کرلیا

نیب نے مسلم لیگ کے نائب صدر حمزہ شہباز کو گرفتار کرلیا

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے نائب صدر اور پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کو قومی احتساب بیورو (نیب) نے گرفتار کرلیا۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔

سماعت کے دوران پراسیکیوٹر نیب نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ حمزہ شہباز شریف کے 38 کروڑ 80 لاکھ کے اثاثے ان کی آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے۔

انہوں نے بتایا کہ 2015 سے 2018 تک حمزہ شہباز نے اثاثے ظاہر نہیں کیے اچانک حمزہ شہباز نے 2019 میں کہا کہ انکے اثاثے 5 کروڑ سے 20 کروڑ ہو گئے ہیں۔

نیب وکیل نے یہ بھی کہا کہ حمزہ شہباز سے پوچھا گیا کہ بیرون ملک سے جو پیسے آتے ہیں ان کا زریعہ بتا دیں لیکن حمزہ شہباز نہیں بتا سکے۔

حمزہ شہباز نے اپنی درخواستیں ضمانت واپس لے لیں جس کے بعد نیب حکام نے حمزہ شہباز کو کمرہ عدالت سے گرفتار کیا جنہیں حراست میں لینے کے بعد نیب دفتر ٹھوکر نیاز بیگ منتقل کیا جائے گا۔

حمزہ شہباز کی گرفتاری کیلئے نیب کے چھاپے

واضح رہے کہ 5 اپریل 2019 کو پھر آمدن سے زائد اثاثہ جات اور مبینہ منی لانڈرنگ کیس میں نیب کی ٹیم نے لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں شہباز شریف کی رہائش گاہ پر حمزہ شہباز کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا تھا، تاہم وہ انہیں گرفتار نہیں کرسکی تھی۔

اس واقعے کے اگلے روز 6 اپریل کو ایک مرتبہ نیب کی ٹیم مذکورہ کیسز میں حمزہ شہباز کی گرفتاری کے لیے ماڈل ٹاؤن کی رہائش گاہ پر پہنچی تھی اور گھر کا محاصرہ کرلیا تھا۔

لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں شہباز شریف کی رہائش گاہ 96 ایچ میں موجود حمزہ شہباز کی گرفتاری کے لیے نیب کا یہ دوسرا چھاپہ تھا۔

تاہم نیب کی یہ کارروائی ڈرامائی صورتحال اختیار کر گئی تھی اور تقریباً 4 گھنٹے کے طویل محاصرے کے باوجود نیب ٹیم کے اہلکار رہائش گاہ کے اندر داخل نہیں ہوسکے تھے۔

حمزہ شہباز کے قانونی مشیر نے نیب کے وارنٹ کو غیر قانونی قرار دیا تھا اور کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ موجود ہے کہ حمزہ شہباز کی گرفتاری سے 10 روز قبل انہیں آگاہ کرنا ہوگا۔

بعد ازاں اسی روز لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سردار شمیم نے حمزہ شہباز کی عبوری ضمانت کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے نیب کو 8 اپریل تک حمزہ شہباز کی گرفتاری سے روک دیا تھا۔

جس کے بعد 8 اپریل کو حمزہ شہباز لاہور ہائیکورٹ میں پیش ہوئے تھے اور ضمانت کی درخواست دائر کی تھی، جس کے بعد انہیں 17 اپریل تک ضمانت دے دی گئی تھی، جس میں بعد میں کئی مرتبہ توسیع کی گئی تھی۔

متعلقہ خبریں