Daily Mashriq

طاقت کا اصل سرچشمہ کون؟

طاقت کا اصل سرچشمہ کون؟

ہماری نوزائیدہ جمہوریت کو پرت درپرت کمزور کرنے کا سلسلہ اب تک جاری ہے اور اس بار نشانے پر عدلیہ کا ادارہ ہے۔ پاکستان میں عدلیہ کو دیگر اداروں کے دباؤ اور ناجائز اثر ورسوخ سے آزاد کرانے کیلئے کئی سالوں کی جدوجہد کی گئی اور موجودہ آزاد عدلیہ بھی ایک بڑی عوامی تحریک کا نتیجہ ہے۔ سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے، تحریک لبیک پاکستان کے دھرنے سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران چند ریاستی اداروں کی جانب سے اس مسئلے کی بابت میڈیا پر پابندیاں اور دباؤ ڈالنے کے اقدامات کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ یاد رہے کہ اس دھرنے سے ملکی معیشت کوکروڑوں کا نقصان ہوا تھا اور ساتھ ہی ساتھ یہ تحریک مسلم لیگ نواز کی حکومت کمزور کرنے کا بھی بڑا سبب بنی تھی۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس پاس کئے کہ حکومت سمیت کوئی بھی ریاستی ادارہ، آرٹیکل19 کی روشنی میں اس بات کا مجاز نہیں کہ وہ میڈیا یا آزادی حق رائے دہی پر کسی بھی قسم کی قدغن لگائے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کوئی بھی ادارہ یا گروہ جو ایسے اقدامات کرتا ہے وہ اپنے مطلق العنان ہونے کی غلط فہمی میں مبتلا ہے۔ اس فیصلے میں انہوں نے میڈیا پر لگائے جانی والی پابندیوں اور دباؤ کا بھی حوالہ دیا۔ ایک عرصہ سے اخبار نویسی سے منسلک ہونے کے ناطے میں بھی اس دباؤ کا عینی شاہد رہا ہوں جس کا ان حالات میں مدیران کو سامنا کرنا پڑا ہے۔ جنرل مشرف میں موجود خامیوں پر ہم بے شمار تنقید کر سکتے ہیں البتہ ان کے دور میں بھی حکومت پر تنقید کرنے کیلئے ایسے سخت اقدامات کرنے کی ایک بھی نظیر نہیں ملتی۔ گوکہ بلاگرز کے مضامین پڑھنے والوں کی تعداد محدود ہوتی ہے مگر ایسے بلاگرز جو حکومت اور اداروں پر تنقید کے مرتکب ہوئے، انہیں بھی نامعلوم افراد کے ذریعے اغواء کر لیا گیا۔ شواہد موجود ہیں کہ انہیں رہا کرنے سے پہلے تشدد اور مارپیٹ کا نشانہ بنایا گیا اور کچھ اس کے بعد ملک چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔ صحافیوں کیساتھ بھی ایسے ہی سلوک کی مثالیں موجود ہیں۔ مزید برآںکئی اخبارات کو حکومتی اشتہارات دینے پر پابندی لگا کر ان کا معاشی قتل کیا گیا اور ان اداروں کو اخراجات کم کرنے کی خاطر ملازمین کو برطرف کرنے کے حوالے سے بھی دباؤ کا سامنا رہا۔ ایسے سخت اقدامات کی بدولت ہمارے آزاد اور متحرک میڈیا میں اب سکوت کی لہر طاری ہو چکی ہے اور ٹی وی چینلز کے پروگراموں میں حکومت پر تنقید کم ہونے کی بدولت عوام ان مسائل اور موضوعات کے بارے میں معلومات حاصل کرنے سے بھی محروم رہ گئے ہیں جو اس سے پہلے انہیں میسرآجاتی تھی۔

سیاستدان، میڈیا اور عدلیہ ہی صرف اس وقت پابندیوں کا شکار نہیں، الیکشن کمیشن اور اس کے تحت کرائے جانے والے انتخابات پر بھی کافی تنقید کی گئی ہے۔ آخری عام انتخابات جن کے نتیجے میں عمران خان وزیراعظم بنے، کو بھی بین الاقوامی مبصرین کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ بہت سی جگہوں پر مخالفین کو اپنی وفاداریاں تبدیل کرانے کیلئے بھی دباؤ ڈالے جانے کے بھی شواہد ہاتھ آئے۔ کوئی شائبہ نہیں کہ عمران خان ان طاقتور حلقوں کے مفادات کیلئے کارآمد ہیں جو جمہوریت کے اتنے حامی تو نہیں البتہ مجبوراً اسی کیساتھ گزارہ کرنے پر مجبور ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس مرتبہ ان طاقتور حلقوں نے آصف علی زرداری یا نواز شریف سے مایوس ہو کر عمران خان کو آزمانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس تمام صورتحال میں ہماری سیاسی جماعتیں بھی برابر کی شریک ہیں۔ یہ بات واضح ہے کہ پاکستان مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کے مشترکہ مفادات خطرے میں ہیں مگر اس کے باوجود وہ ماضی کے اختلافات پر نوحہ کناں ہیں ورنہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر ایک مضبوط اتحاد ان نادیدہ قوتوں کے مشکوک عزائم کا احتساب کرنے کی طاقت رکھتا تھا جو اس وقت کہیں پیچھے بیٹھے ڈوریاں ہلا رہے ہیں۔ موجودہ حکومت کے پاس عوامی حمایت ہونے کے باوجود یوں معلوم ہوتا ہے جیسے اسے تمام اہم مسائل پر صرف خانہ پری کرنے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ طاقت کے مرکز کی چوٹی پر ان کی کوئی جگہ نہیں اور وہاں کون براجمان ہے یہ سب کو اچھے سے معلوم ہے۔

مزید برآں پیمرا نے بھی ٹی وی چینلز پر جسٹس فائز عیسیٰ اور دیگر اعلیٰ ججز کیخلاف دائر کردہ ریفرنس کے بار ے میں بات کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ البتہ ملک بھر سے بار ایسوسی ایشنز اس اقدام کیخلاف صف آراء ہو رہی ہیں۔ میڈیا پر پابندیاں بھی اس بات کی عکاس ہیں کہ اب تک ہماری جمہوریت کس قدر نازک اور کمزور ہے۔ آزادی رائے دہی کیلئے سالوں لڑنے کے بعد بھی صحافی اس حق سے محروم نظر آتے ہیں گوکہ عمران خان کی حکومت سے اس ضمن میں خاصی مثبت امیدیں وابستہ کی گئی تھیں مگر اب تک ان کی طرف سے دباؤ اور پابندیوں کا سامنا کرنے والے اخبارات اور میڈیا اداروں کے حق میں ایک لفظ تک نہ کہنا افسوس ناک ہے۔ اگرچہ سیاسی قیادت کو جمہوریت کیلئے موزوں ان اداروں کے تحفظ کیلئے یکجا ہونا چاہئے مگر ان کی اہلیت اور معیار کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ ان کے بس کی بات نہیں لگتی۔

(بشکریہ ڈان۔ ترجمہ: خزیمہ سلیمان)

متعلقہ خبریں