Daily Mashriq

چارہ کیا ہے؟

چارہ کیا ہے؟

اس حکومت سے جتنے خواب وابستہ تھے سب آہستہ آہستہ خاموش ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ لوگوں کے دلوں میں روز ایک نئی کسک جاگتی ہے اور پھر پریشانی کے کوکڑو میں بدل جاتی ہے۔ لیکن اس قوم کو حکمرانوں کی جانب سے کبھی کوئی بھلائی نہ آنے کی عادت ہے۔ اس حکومت سے امیدیں تو بہت وابستہ کی گئیں لیکن ان امیدوں کے برآنے کے دن ابھی تک آئے نہیں۔ ہم ایک عرصے تک اسی اطمینان کے سہارے دن کاٹ لیتے کہ کم ازکم یہ حکومت اپنی نیت کی درستگی کا دعویٰ تو کر سکتی ہے۔ وہ کام ٹھیک کر رہے ہیں یا نہیں ان کی نیتیں بالکل درست ہیں اور جب نیت درست ہو تو سمت ملنے میں دیر نہیں لگتی۔ پھر زندگی کھل کر سامنے آجاتی ہے اور بتاتی ہے کہ نیت درست ہونے سے سمت درست ہونا کوئی مطابقت نہیں رکھتا۔ صحیح نیت کے رکھنے والے کم علمی یا لاعلمی کے باعث غلط سمت میں سفر کا آغاز کرسکتے ہیں اور عوام کی امیدوں کیلئے جان لیوا ثابت ہوسکتے ہیں۔ ایئر مارشل اصغر خان کی سیاسی زندگی کی مثال ہمارے سامنے ہے، نہ ان کی نیت پر شبہ ممکن تھا نہ ہی سمجھ بوجھ پر‘ لیکن سیاست کی سمت متعین ہی نہ ہوسکی اور ان سے وابستہ امیدیں پاش پاش ہوگئیں۔ دل کی گہرائیوں سے یہ دعا ابھرتی ہے کہ اس حکومت کیساتھ ایسا نہ ہو۔ اگر آج انہیں سمت سجھائی نہیں دیتی تو اللہ تعالیٰ اس قوم کی مظلومیت پر ہی ترس کھائے اور ان کیلئے راہرو ثابت ہو۔

ملکی معاملات کے حوالے سے کئی بار ایسی مایوسی جنم لیتی ہے کہ اپنے ہی دئیے ووٹوں پر شک ہونے لگتا ہے لیکن پھر خیال آتا ہے کہ ہمارے پاس اس کے علاوہ چارہ ہی اور کیا تھا۔ میڈیا میں اپنی جڑیں مضبوط کئے یہ لوگ جو سیاسی گروں کے ماہر ہیں جو جیل میں اپنی بدعنوانیوں کی سزائیں کاٹ رہے ہیں اور تب بھی لوگوں کے حقوق کے نعرے لگاتے ہیں‘ ان کے اس ظلم سے کہیں زیادہ‘ اس قوم کا اپنے اوپر یہ ظلم ہے کہ آج بھی ان لٹیروں کی بات سننے والے بات کرنے والے لوگ ہمارے درمیان موجود ہیں اور ہم میں سے کوئی ان سے یہ سوال نہیں کرتا کہ اگر آپ نے اپنی زندگیاں ان بھوکے سیاسی درندوں کے سامنے شکار کے طور پر ڈال دینے کا تہیہ کر لیا تھا تو اس میں ہمارا کیا قصور تھا۔ ہمارے لئے آپ نے یہ فیصلہ کیوں کیا محض اس لئے کہ اس ملک میں عقل کے اندھوں کی اکثریت تھی۔ آج اگر یہ حکومت اس ملک میں قائم ہے تو اس کی بنیاد بھی وہی ووٹ ہیں جو پہلے مسلم لیگ (ن) کو‘ پیپلز پارٹی کو‘ جمعیت علمائے اسلام کو‘ اے این پی کو ڈالے جاتے رہے ہیں۔ تبھی تو ہر بدعنوان لٹیرے نے اس ملک پر حکومت کی ہے۔ آصف علی زرداری سے لیکر میاں نواز شریف تک اور بلور سے لیکر مولانا فضل الرحمن تک‘ اس ملک کی بھلائی اور عوام کی فلاح کا داعی کون رہا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ہمیشہ اپوزیشن کی سیٹوں پر بیٹھتے ہی اس ملک کے عوام کا خیال آتا ہے کیونکہ ان سے زیادہ عقل کے اندھے کون ہوں گے جو اپنے لٹیروں کو جانتے ہیں پھر بھی انہیں موقع فراہم کرتے ہیں۔

اور اب حکومت کیخلاف اپوزیشن تحریک کی بات چل نکلی ہے۔ میں کئی بار ان ناموں کو دیکھتی ہوں جو عوام کے حقوق کی بات کرتے ہیں تو جی چاہتا ہے کہ آنکھیں خون کے آنسو روئیں۔ ہوسکتا ہے اس سے منظر ایسے بدلے کہ کچھ اور دکھائی دینے لگے۔ ہوسکتا ہے کہ میری آنکھوں پر تعصب کی ایسی پٹی ہو جو مجھے یہ دیکھنے نہ دیتی ہو کہ آصف علی زرداری اس ملک کے کتنے وفادار ہیں۔ وہ مسٹر ٹین پرسنٹ سے مسٹر ہنڈرڈ پرسنٹ اس ملک کی محبت میں بڑھوتری کے حوالے سے کہلاتے ہوں۔ اسلام آباد کا کنونشن سنٹر کسی بدعنوانی کی کوئی داستان نہ سناتا ہو۔ ان کی کراچی جیل میں کسی سرگرمی کی کوئی خبر کسی نے ماضی میں نہ رکھی ہو۔ شاید کچھ ایسا ہو جس کی کوئی خبرکسی تک نہ پہنچی ہو اور دلوں کے بھید تو اللہ ہی جانتا ہے۔ لیکن زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھنے کی بات ذہن سے دھلتی نہیں اور زبان خلق تو کچھ اچھا نہیں کہتی۔ میاں نواز شریف‘ میاں شہباز شریف کی کہانیاں بھی کچھ مختلف نہیں۔ موٹر وے اور یلو کیب سکیم سے شروع ہونے والے قصے کہاں کہاں تک نہیں پہنچتے، کوئی کہے تو کیا کہے۔ کیا وہ سب باتیں جھوٹ ہیں‘ کیا لوگوں نے ہی بس پھیلائی ہیں، کیا اس ملک میں ان کے دور میں کوئی بدعنوانی نہیں ہوئی، کیا قرض لیکر ملک نہیں چلایا گیا، کیا اس ملک کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا گیا، کیا کسی این آر او کی کوئی کہانی ہمیں یاد نہیں، کیا سکریب کے مال کی کوئی داستاں بھی یاد نہیں، کیا ہم یہ بھی بھول گئے کہ یہ تو ملک سے باہر بھی اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتے تھے۔ سعودی عرب میں اپنے قیام کے دوران انہوں نے اسرائیل سے اپنی سٹیل مل کیلئے مشینری درآمد کرنے کی کوشش کی۔ اس پر مارکے بدلے گئے کیونکہ سعودی قانون‘ اسرائیل سے کسی قسم کی درآمد کی اجازت نہیں دیتا لیکن انہیں تو ایسی حرکتوں کی عادت ہے۔ وہاں بھی یہ مشکل کا شکار ہوئے اور بڑی مشکل سے اس عذاب سے نکلے۔ کیا بلور صاحب کے ماضی کے بارے میں کسی کو شک ہے یا مولانا فضل الرحمن سے وابستہ کہانیاں لوگ بھول گئے ہیں۔ اس حکومت سے گلے تو درست ہیں لیکن باقی مال کا کیا کیجئے گا۔ انہیں کس آب زم زم سے دھوئیں گے تو ان کی بلائیں‘ بیماریاں دور ہوں گی۔ یہ تو کسی آگ میں تپ کر کندن نہیں بن سکتے‘ ان کی روح کی کثافت دور نہیں ہوتی۔ پھر سوچئے ہمارے پاس چارہ کیا ہے؟

متعلقہ خبریں