Daily Mashriq

رویت ہلال، کرنے کا کام

رویت ہلال، کرنے کا کام

پاکستان کے مایہ ناز مزاح نگار انور مسعود نے شوگر کی بیماری کے حوالے سے لکھا ہے کہ ’’شوگر نہ ہو کسی بھی مسلمان کو اے خدا۔ مشکل سا اک سوال ہے یہ بھی حساب کا‘‘۔ یہاں اس وقت مشکل سا ایک سوال رویت ہلال کا ہے۔ وطن عزیز میں ہر سال ماہ رمضان آتے ہی یہ مشکل سوال لوگوں کے سامنے ہوتا ہے کہ کل روزہ ہوگا کہ نہیں اور پھر پاکستانی عوام دو مفتیوں کے درمیان پھنس کر رہ جاتی ہے۔

پشاور اور اس کے مضافات اور مردان‘ چارسدہ اور صوابی کے اضلاع میں مفتی پوپلزئی کے اعلان صوم پر روزہ رکھ لیا جاتا ہے اور ملک کے دیگر صوبوں میں مفتی منیب کے اعلان پر اگلے دن روزہ رکھا جاتا ہے۔ شرعی لحاظ سے اس میں علماء وفقہاء کے نزدیک کوئی قباحت نہیں کیونکہ جس علاقے‘ ملک یا خطے میں چاند کی رویت کی گواہیاں آجاتی ہیں وہاں روزہ ہونا چاہئے اور ایک ہی ملک میں جہاں رویت ہلال نہیں ہوئی وہاں نہیں رکھنا چاہئے۔ ہاں اگر حکومت کی رٹ مضبوط ہو اور حکومت واقعی مسلمانوں کی فلاح وبہبود کا خیال رکھنے والی ہو تو ایک ملک میں روزہ اور عید ایک ہی دن ہونا لائق تحسین ہے۔ اس کی مثال پاکستان میں 1960ء کے عشرے میں موجود ہے کہ مغربی ومشرقی پاکستان کے ایک حصے میں چاند نظر آیا تو روزہ اور عید دونوں حصوں میں ایک ہزار میل کی دوری اور وقت میں ایک گھنٹہ کے فرق کے باوجود ہوئی ہے۔ یہی چیز پورے عالم اسلام میں بھی ممکن ہے۔ کیا پشاور میں چاند کی رویت پر کراچی اور گوادر وتربت میں روزہ اور عید نہیں ہوسکتی۔ علی ہذا القیاس سعودی عرب‘ مصر‘ عراق‘ کویت‘ امارات میں بھی ہوسکتا ہے۔ عالم اسلام کو جغرافیائی لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے ایک عجیب شکل اور اہمیت دی ہے۔ انڈونیشیاء اور ملائشیاء سے مراکش تک صرف چھ گھنٹے کا فرق ہے جبکہ پاکستان سے لیکر سعودی عرب تک کا علاقہ اس کا درمیانی منطقہ ہے۔ اگر اس درمیانی علاقے میں کہیں بھی چاند نظر آجائے تو کیا پورے عالم اسلام میں مکہ المکرمہ سے رویت ہلال کا اعلان ممکن نہیں ہے۔ یقینا ممکن ہے اور اگر اس طرح ہو جائے تو یہ عالم اسلام کے درمیان محبت واخوت کا ایک اضافی قرینہ ہاتھ آئے گا ورنہ اتحاد امت کیلئے اور بہت ساری مضبوط بنیادیں موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ’’اللہ کی رسی کو مضبوطی کیساتھ تھامے رکھو اور تفرقہ نہ پھیلاؤ۔ فرمان رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہے ’’مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں‘‘۔ لیکن چونکہ گزشتہ ڈیڑھ صدی سے جب سے مسلمان مغربی سامراجیوں کے ماتحت رہے ہیں‘ مختلف فرق اور مسالک اور ذاتوں میں تقسیم ہوئے ہیں اور قومی ریاستوں کی سیاست اور تنازعات نے ان سب کو بری طرح تقسیم کر رکھا ہے۔ لہٰذا اب ان کا ایک دوسرے کے پیچھے کھڑا ہونا بہت مشکل ہوگیا ہے۔ امت کی سطح پر الگ مسائل ہیں اور ہر مسلمان ملک کے اندرونی حالات الگ سے پریشانیوں کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ ورنہ اللہ ورسولؐ کی تعلیمات اب بھی وہی ہیں جو آج سے چودہ سو سال پہلے تھیں۔قرآن مجید اللہ کا کلام ہے۔ اگرچہ یہ چودہ سو سال پہلے نازل ہوا لیکن یہ کلام پاک قیامت تک انسانوںکی رہنمائی کیلئے سرچشمہ نور وہدایت ہے اور رہے گا۔نبی کریمؐکے عہد مبارک میں دینی شعائر اور رمضان وعیدین کیساتھ صحابہ کرامؓ کا ذوق وشوق جس معیار کا تھا اس کے سبب لوگ رویت ہلال کا اہتمام کرتے تھے اور جب بھی کوئی چاند دیکھ لیا تو بات اولی الامر تک پہنچا دی جاتی اور چاند کا اعلان ہو جاتا۔ مطلع کے صاف نہ ہونے یا کسی اور سبب سے ہلال اگر عمومی طور پر نظر نہ آتا تو کم ازکم دو معتبر گواہوں کی گواہی پر بھی رویت ہلال کا اعلان اولی الامر نے کیا ہے۔بعض اوقات کسی اور علاقے سے آنے والے گواہ کی گواہی پر بھی رویت کا اعلان ہوا ہے۔ عہد نبویؐ میں ایک دفعہ رمضان کے تیسویں دن ایک آدمی مدینے سے باہر سے آیا اور اس نے چاند دیکھے جانے کی اطلاع دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے روزہ کھلوا کر عید ہونے کا اعلان فرمایا۔ اسلامی سلطنت کے وسیع ہونے پر جہاں جہاں تک چاند ہونے کی اطلاع پہنچانا ممکن ہوتا وہاں اطلاع پہنچا کر چاند کی رویت پر عمل ہوتا۔اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ علماء‘ فقہا اور مجتہدین مل بیٹھ کر قرآن وحدیث کی تعلیمات معنوی گنجائش سے استفادہ کرتے ہوئے جدید سائنسی علوم وٹیکنالوجی اور مواصلات واطلاعات کو بروئے کار لاکر کوشش کریں کہ ساری دنیا کے مسلمانوں کے ہاں ایک دن روزہ اور عید کا اہتمام کرایا جائے۔ اس وقت پوری دنیا ایک گلوبل گاؤں کی صورت اختیار کرچکی ہے۔ ملکوں کی حیثیت ایک لحاظ سے کسی ملک کے صوبوں اور اضلاع کی مانند ہوچکی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے ہاتھوں سائنسی ترقی کے زور پر ایک عالمی گاؤں (ریاست وحکومت) کے ذرائع پیدا فرما لئے ہیں۔ انسانی وحدت کیلئے بنیادیں فراہم ہو رہی ہیں اور اس انتظام سے جناب خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ابدیت اور آفاقیت کے اظہار اور اثبات کیلئے مواقع فراہم ہو رہے ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’ہم عنقریب ان کو اطراف عالم میں بھی اور خود ان کی اپنی ذاتوں میں بھی اپنی نشانیاں دکھائیں گے یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ قرآن حق ہے‘‘۔ گلو بل ویلج کیلئے ورلڈ آرڈر قرآن کریم اور تعلیمات مصطفیؐ کے سوا اور کوئی آرڈر موجود نہیں۔

متعلقہ خبریں