Daily Mashriq


اپوزیشن‘ بے اصولی سیاست اور وکلاء تحریک

اپوزیشن‘ بے اصولی سیاست اور وکلاء تحریک

اپوزیشن ہمیشہ موقع کی تلاش میں رہتی ہے اور اسے رہنا بھی چاہئے کہ پارلیمانی جمہوریت میں ایک خبردار اور تگڑی اپوزیشن کا ہونا بہت اہم اور ضروری ہے۔ اپوزیشن تگڑی ہو تو حکومت کی لائن اور لینتھ بھی درست رہتی ہے وگرنہ وہ حال ہوتا ہے جو اہلیان پاکستان نے 2008ء اور 2013ء کے درمیان میں دیکھا۔ حکومت کا قبلہ درست تھا اور نہ کوئی سمت لیکن اپوزیشن سوئی پڑی تھی بلکہ یوں لگتا تھا جیسے اندر سے ملی ہوئی ہے۔ عمران خان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے خوفزدہ ہو کر چند نمائشی مخالفانہ اقدامات کے علاوہ اس وقت کی اپوزیشن نے کیا ہی کیا تھا؟ نواز شریف کالاکوٹ پہن کر میموگیٹ کیس میں سپریم کورٹ گئے ضرور مگر پھر اس مقدمے کی پیروی نہ کی چنانچہ ان کے وکیل شیخ اکرم میڈیا بریفنگز میں اپنے مؤکل کی عدم پیروی کا رونا روتے رہے۔ پاکستان کے معروضی سیاسی حالات میں اپوزیشن تو حقیقتاً ایسی ہونی چاہئے جو حکومت کی ناک میں دم کرنے والی ہو۔ مخالفت لیکن اصولوں اور ایشوز پر ہونی چاہئے‘ حکومت گرانے کیلئے نہیں۔ پاکستان میں اپوزیشن کے ہتھکنڈوں اور سازشوں کی ایک پوری تاریخ ہے۔ ڈوریاں ہلتی ہیں اور مہرے حرکت میں آتے ہیں، مقصود ہر بار حکومت کا تختہ اُلٹنا ہوتا ہے۔ پاور پالیٹکس اسی کا تو نام ہے‘ اپنے حریف کو گرانا بھلے یہ کسی قیمت پر بھی ہو۔میاں نواز شریف اور مرحومہ بینظیر بھٹو نے 90ء کی دہائی میں یہ کھیل خوب کھیلا۔ دو دو مرتبہ دونوں نے ایک دوسرے کی حکومتیں گرائیں۔ ساز باز اور موقع پرستی کے فن میں دونوں بہت یکتا تھے۔ 1993ء میں جب نواز شریف کی حکومت گرائی گئی تو آصف علی زرداری اور مرحوم فاروق لغاری نے اُسی صدر اسحق خان کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہوئے نگران وزراء کے طور پر حلف لیا جس کیخلاف وہ ڈھائی سال برسرپیکار رہے اور پاکستان کی قومی اسمبلی میں جس کیخلاف ’’گو بابا گو‘‘ کے نعرے لگتے رہے۔ اسحق خان نے 58/2-Bکا استعمال کرتے ہوئے بینظیر بھٹو کی حکومت کا 1990ء میں خاتمہ کیا تھا اور بی بی بینظیر اصولوں کا علم بلند کرتے ہوئے اس قاتل آئینی شق کیخلاف لڑتی رہیں مگر جب اس آئینی آرٹیکل کے وار سے نواز شریف کی حکومت ڈھیر کی گئی تو بینظیر بھٹو اسی اسحق خان کی حمایت میں شانہ بشانہ کھڑی تھیں۔ اصغر خان مرحوم کی جماعت تحریک استقلال بھی اسی اتحاد کا حصہ تھی جو حکومت مخالف تحریک چلا رہا تھا لیکن اصغر خان کی غیرت اور حمیت نے گوارہ نہ کیا اور وہ اس بے اصولی پر احتجاج کرتے ہوئے الگ ہو گئے۔ یہ وہ موقع تھا جب نگران کابینہ کے اراکین کے نام فائنل کئے جا رہے تھے اور اس بندر بانٹ میں ایک عدد وزیر تحریک استقلال کا بھی لیا جا سکتا تھا۔ سید ظفر علی شاہ جو اس وقت تحریک استقلال کے جنرل سیکرٹری تھے نے ایک میٹنگ میں بینظیر بھٹو کے اس روئیے پر سخت احتجاج کیا تو انہیں یہ کہہ کر مطمئن کرنے کی کوشش کی گئی کہ شاہ صاحب یہ پاور پالیٹکس ہے‘ ہم نے اپنے دشمن کو گرانا تھا سو ہم نے گرا لیا۔ یہ الفاظ محترمہ کے تھے اور شاہ صاحب خود اس جملے کے راوی ہیں۔ نواز شریف بینظیر بھٹو سے کچھ مختلف نہ تھے، وہ صدر فاروق خان لغاری کو بدنام اور رسوا کرنے کیلئے ’’چوٹی‘‘ ان کی زمینوں پر میڈیا کو لیکر گئے مگر1996ء میں بینظیر حکومت گرانے کیلئے انہیں سے ساز باز کی اور نام نہاد اصولوں کو پاؤں تلے روند ڈالا۔ آج بھی وہ حکومت مخالف تحریک چلانے کے متمنی ہیں اور اتفاق سے ایک بار پھر وکلاء تحریک کا کندھا انہیں دستیاب ہو رہا ہے۔ جن دنوں جسٹس افتخار چوہدری کیخلاف ریفرنس دائر ہوا اور جنرل پرویز مشرف اُس میں پھنس کر رہ گئے ان دنوں میاں برادران کی گرمجوشی دیکھنے والی تھی۔ وکلاء تحریک کو ایندھن فراہم کیا گیا اور پوری طرح کوشش کی گئی کہ جنرل مشرف اس گرداب سے بچ کر نہ نکل سکے۔ میاں برادران کی یقینا خواہش ہوگی کہ اب عمران خان عدلیہ بچاؤ تحریک کی بھینٹ چڑھ جائیں۔

آج لیکن ایک جمہوری حکومت برسراقتدار ہے اور عوام میں اُس کی مضبوط جڑیں موجود ہیں۔ اس بات سے قطع نظر کہ معزز جج صاحبان کیخلاف ریفرنس میں کتنی جان ہے اور کیا یہ ریفرنس جج صاحبان کی معزولی کا باعث بن سکتا ہے۔ اس بات کو ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ حکومت نے دستیاب معلومات کی بنیاد پر سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس بھیج کر ایک قانونی راستہ اختیار کیا ہے۔ آئین کے آرٹیکل209 کے تحت بھیجا جانے والا صدارتی ریفرنس اگر بے جان اور بے بنیاد ہوا تو عدلیہ کے پانچ سینئر ترین ججوں پر مشتمل سپریم جوڈیشل کونسل اس کو اُڑا کر رکھ دے گی لیکن قبل ازیں ایسی گفتگو کرنا جو اپوزیشن رہنماؤں اور بعض وکلاء قائدین نے کی ہے قطعی طور پر مناسب نہیں ہے۔ یہ بات کہنا کہ ہم ریفرنس کو پھاڑ دینگے اور عدالتوںکو تالے لگا دینگے، ایک طرف اپنے تئیں قانون کو ہاتھ میں لینے والی بات ہے جبکہ دوسری طرف اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ اعلیٰ ترین عدلیہ کے معزز ترین ججوں کی دیانت پر شک کیا جا رہا ہے۔ جسٹس افتخار محمد چوہدری کے کیس میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے قانونی راہ کا انتخاب کیا تھا اور صدارتی ریفرنس کو عدالت عظمیٰ میں چیلنج کیا تھا جس کی سماعت تیرہ رکنی لارجر بنچ نے کی اور صدارتی ریفرنس کو کالعدم قرار دیا۔ آج یوں لگ رہا ہے کہ بعض وکلاء رہنما کچھ اپوزیشن رہنماؤں کی ایما پر حالات خراب کرنا چاہتے ہیں اور سیدھے سادے قانونی معاملے پر سیاست کھیلنے کی تیاری ہو رہی ہے۔ 14جون کو ہڑتال کی کال دیکر قانونی عمل کو سبوتاژ کرنا یا اُسے دباؤ میںلانا قطعاً معقول رویہ نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں