سی پیک کے خلاف سازشیں اور ملکی قیادت کی ذمہ داریاں

سی پیک کے خلاف سازشیں اور ملکی قیادت کی ذمہ داریاں

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت کور کمانڈرکانفرنس میں ایک مرتبہ پھر اس امر کا خاص طور پر جائزہ لیا گیا کہ غیر ملکی ایجنسیاں پاکستان میں سیکورٹی اور ترقیاتی منصوبوںخاص طور پر سی پیک کوسبوتاژ کرنا چاہتی ہیں ۔ اجلاس میں تمام تر حالات کے باوجود مردم شماری کے قومی عمل میں پاک فوج کی طرف سے بھر پور معاونت کی فراہمی کے فیصلے کے ساتھ ملکی سیکورٹی کے حالات سے متعلق کئی اہم امور پر بھی غور کیا گیا۔ دہشت گردی کے حالیہ سنگین واقعات کے بعد فوج نے ملک بھر میں آپریشن ردالفساد کے نام سے جس قسم کی کومبنگ آپریشن کا آغاز کیا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں اور اس کے نتائج بھی عوام کے سامنے آرہے ہیں۔ اس موقع پر جہاں فوج نے ملک کے اندر نئے اندازمیں کارروائیاں کیں بلکہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر واقع دہشت گردوں کے ٹھکانوں پربمباری بھی کی ۔ آرمی چیف نے افغانستان میں متعین امریکی فوج کے کمانڈرجنرل نکلسن سے افغانستان میں چھپے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا اور 76دہشت گردوں کی فہرست دے کر افغان حکومت سے ان کے خلاف مئو ثر کارروائی کا کہا گیا۔ علاوہ ازیں جماعت الا حرار کے ایک سو ساٹھ دہشت گردوں کی فہرست بھی افغان حکام کے حوالے کی گئی۔ ان اقدامات سے اندازہ لگا یا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت دہشت گردوں کے خلا ف کارروائی کیلئے کس حد تک جا سکتی ہے ۔ پاکستان کی جانب سے اٹھا رہ دن تک پاک افغان سرحد مکمل طور پر بند رکھنے اور دو دن کی نرمی کے دوران بھی پھر سے پاک افغان سرحد پر معمول کی آمد ورفت شروع نہ ہو نا وہ حتمی اقدام قرا ر دیا جا سکتا ہے جو پاک فوج اور ملک کی سیاسی قیادت نے دہشت گردوں کی آمد ورفت کی روک تھام اور افغانستان میں موجود امریکی فوجی قیادت سمیت افغان حکومت کو احساس دلانے کیلئے کیا ۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں آپریشن ضرب عضب اور آپریشن آہنی ضرب عضب کے باعث زیادہ تر دہشت گرد پاکستان سے افغانستا ن کے مخصوص علاقوں میں منتقل ہوگئے ہیں جہاں سے دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہے ہیں ۔ پاکستان اور افغانستان کی سرحد 2430کلومیٹر طویل ہے اور پہاڑ ی راستہ ہونے کی بنا پر اس کا کنٹرول نہایت مشکل ہے ۔ ایک رپورٹ کے مطابق افغان حکومت کا افغانستان کے 47فیصد حصے پر کوئی کنٹرول نہیں ۔ بھارت نے افغانستان میں دخل اندازی کیلئے 29غیر ضروری سفارتخانے کھولے ہیں ۔ پاکستان نے لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دی ایک اندازے کے مطابق اس وقت بھی تقریباً 30لاکھ افغان مہاجرین پاکستان میں مقیم ہیں لیکن افغانستان نے پاکستان کے احسانات کے بدلے بھارت سے دوستی نبھائی جس کا ایجنڈابلوچستان کی پاکستان سے علیحدگی اور قومی اقتصادی راہداری منصوبوں کو روکنا ہے ۔ گزشتہ دو سالوں میں حکومت اور فوج کی کاوشوں کے نتیجے میں دہشت گردی کے حملوں میں نہایت کمی آئی تھی جس سے مکمل معیشت میں بھی بہتری دیکھنے میں آئی مگر اب دوبارہ یکے بعد دیگر ے دہشت گردی کے حملوں نے قوم کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ ان حملوں کے پیچھے دشمنوں کے کیا مقاصد ہیں اور دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنا حکومت کیلئے کس قدر نا گزیر ہو گیا ہے۔ اس بارے دورائے نہیں کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبوں کی کامیابی سے تکمیل کیلئے پاکستان میں امن و امان کس قدر ضروری ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ان حالات میں بیس نکاتی نیشنل ایکشن پلان پر پوری تیاری کے ساتھ مکمل طور پر عملدر آمد ہی واحد راستہ ہے جس پر چل کر ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ کیا اور حالات کو ساز گار بنایا جا سکتا ہے ۔ ہمیں جہاں یہ تمام ضروری امور نمٹانے ہوںگے وہاں ہمیں اس امر پر از سر نو غور کرنے کی ضرورت بھی ہے کہ مختلف آپریشنز کے مئو ثر ہونے کے ساتھ ساتھ مسائل مستقل حل کی جانب نہیں بڑھ رہے ہیں بلکہ ہر آپریشن کے اختتام کے بعد ایک اور آپریشن کی ضرورت پیش آئی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ آپریشنز دہشت گردی کے نیٹ ورک کو توڑ نے اور دبانے کیلئے مئوثر حکمت عملی ضرور ہیں لیکن دوسری جانب دہشت گردی میں بھی مزید شدت آجاتی ہے اور منظم انداز میں ہونے والی دہشت گردی پھر ایک چیلنج بن کر سامنے آتی ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ جب تک اانتہا پسندی والے مائنڈ سیٹ کا خاتمہ نہیں ہوگا تب تک ملٹری آپریشنز کی ضرورت رہے گی۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس مائنڈ سیٹ کو پروان چڑھانے والا ایک عالمی نظام موجود ہے۔ اس صورتحال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاستی ادارے اور ملک کی سیاسی و مذہبی قیادت ایک مرتبہ پھر مل بیٹھ کر اس امر پر غور کرے۔ ہمیں اس امر کا خاص طور پر جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ نیشنل ایکشن پلان میں انتہا پسند انہ رجحانات کے خاتمے کے اہداف حاصل کیوں نہ کئے جاسکے اور اب یہ اہداف حاصل کرنے کیلئے کیا حکمت عملی اختیار کی جائے کہ ملک اندرونی طور پر فساد کی کیفیت سے نکل آئے اور رد الفساد کے کامیاب اختتام کے بعد کسی اور آپریشن کی ضرورت باقی نہ رہے ۔ وطن عزیز میں اس طرح کے حالات کے باوجود ملکی سیاسی عمائدین جس کردار کا ان دنوں بطور خاص مظاہرہ کر رہے ہیں ایسے میں ان حالات پر قابو پانے کی حکمت عملی کیا اختیار کی جائے ابھی تک سنجیدہ کردار کا مظاہرہ ہی دیکھنے میں نہیں آرہا۔ان حالات سے اقتصادی راہداری کے درپے قوتوں کا فائدہ اٹھانا فطری امر ہوگا۔ بہتر ہوگا کہ فوجی قیادت کی طرح ملکی سیاسی قیادت بھی اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے اور سازشی عناصر کو ناکام بنا نے کیلئے متحدہو کر سامنے آئے ۔

اداریہ