Daily Mashriq


چرا کار ے کند عاقل کہ باز آید پشیمانی

چرا کار ے کند عاقل کہ باز آید پشیمانی

سیاست تو دامن پہ کوئی داغ نہ خنجر پہ کوئی چھینٹ، تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو قسم کی چیز متصور ہوتی ہے ۔ جغادری سیاست دان کبھی بھی معاملات کو اس قدر انتہا کی طرف نہیں لے جا تے کہ گھٹنوں دھنسنے اور دلدل میں پھنسنے کی نوبت آجائے اور واپسی کا راستہ نہ رہے۔ سیاست میں تمام راستے بند بھی ہوں تب بھی ایک کھڑکی لازماً کھلی رکھی جاتی ہے مگر تحریک انصاف کے بعض قائدین اور نمائندگان نے بالعموم اور خاص طور پر ان دنوں جس سیاسی محاذ آرائی پر مبنی حرکات بیان بازی وہلڑ بازی کا راستہ اختیار کر رکھا ہے اس کو وہ کتنے بھی مئو ثر گردانیں اور ان کو قیادت کی جانب سے کتنی بھی تھپکی ملے مگر عوام الناس میں اس طرح کے معاملات ان کے خلاف جاتے ہیں یہاں تک کہ ان جذبات پر مبنی حالات میں جو لوگ ان کی حمایت کر رہے ہوتے ہیں جذبات تلاطم خیز موجیں کنارے لگیں تو ان کو بھی ایک گو نہ حماقت سرزد ہونے کا گمان گزرنا فطری امر ہوگا ۔ جہاں تک دوسری سمت کے جغادریوں کا تعلق ہے ہم سمجھتے ہیں کہ وہ جان بوجھ کر سیاسی وکٹ پر اس طرح کے بال کرا رہے ہیں کہ نوجوان جذبات میں آکر اونچا شارٹ کھیل کر کیچ آئو ٹ ہوں ۔ پارلیمنٹ ہائو س کے احاطے میں گزشتہ روز جس مچھلی بازار کا ماحول بنا اس پر محولہ الذکر ہر دو عنا صر سمیت وہ تمام سیاسی عناصر قابل مذمت ہیں اور ان کا کردار یکساں طور پر قابل افسوس ہے ۔ ایوان کے اندر اور پالیمنٹ کی راہداریوں میں ذاتیات پر بحث ہو اور گالیوں اور مکوں تک بات جائے تو باقی بچتا کیا ہے۔ اسی طرح کسی جانب سے کسی ملکی وقومی معاملے کے کرداروں اور بین الاقوامی نمائندگی کرنے والوں بارے ایسے بیا نات جن کا حاصل کچھ نہ ہو کسی سیاسی بصیرت اور دانش کے زمرے میں قرار نہیں دیئے جا سکتے ۔ پشاور زلمی کی ٹیم کا صوبائی حکومت کی دعوت کو ٹھکرانا صوبائی حکومت کیلئے کوئی با عزت امر نہیں اسی لئے تو کہا جاتا ہے کہ چرا کار ے کند عاقل کہ بازآید پشیمانی ۔

تاتا را کی حدود میں بڑھتی وارداتیں

تھانہ تا تارا حیات آباد کی حدود میں گورنر خیبر پختونخوا کے پروٹوکول آفیسر سے مسلح افراد کا گاڑی چھین کر فرار ہو جانے سے سیف حیات آبا د کا سارا تصور ہی گہنا جانا فطری امر ہے ۔ حیات آباد میں بظاہر سیکورٹی کا نظام کافی بہتر ہوا ہے لیکن جب تک اس قسم کی وارداتوں کی مئو ثر روک تھام نہ کی جائے تمام اقدامات ظاہر بینوں ہی کیلئے اطمینان کا باعث تو بن سکتے ہیں عوام کو جان ومال کے خطرات بہر حال لاحق رہیں گے ۔ فیز 6تھانہ تا تارا سے اتنا دور نہیں کہ پولیس کو وہاں گشت کرنے اورپہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہو بلکہ یہ تھانہ سے محض ایک یا دومنٹ کے فاصلے پر واقع ہے راستے میں پولیس چوکی بھی آتی ہے جہاں پولیس کا ناکہ ہوتا ہے ۔ سٹی پولیس کی گاڑیاں بھی گشت کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ سیف حیات آباد کی گاڑیاں نہ صرف دکھائی دیتی ہیں بلکہ اس کے عملے کی کار کردگی بھی قابل اطمینان بتائی جاتی ہے ایف سی کے موٹر سائیکل سوار دستے بھی علاقے میں وقتاً فوقتاً گشت پر ہوتے ہیں تھانہ پولیس کی موبائل گاڑی بھی مارکیٹوں سے اشیاء خوردنی سمیٹنے دیکھی جاتی ہے ۔ رات کے اوقات میں پرائیویٹ کمپنی کے گارڈ ز شہریوں کی اپنی زرا عانت سے تعینات ہیں اور ان کا گشت خاصا مئو ثر بتا یا جاتا ہے مگر ان تمام حفاظتی اقدامات کے باعث اس طرح کے واقعے کا ہونا سارے انتظامات پر پانی پھیرنے کا باعث ہے۔ ہم قبل ازیں بھی اس امر کی نشاندہی کر چکے ہیں کہ حیات آباد کو جرائم پیشہ عناصر سے پاک کرنے کیلئے جگہ جگہ قائم قحبہ گری کے اڈوں کو ختم کرنا ہوگا جہاں جرائم پیشہ عناصر کو آمد ورفت اور داد عیش کے ساتھ واردات کے موزوں وقت تک ٹھہر ے رہنے کی سہو لت میسر ہوتی ہے مگر اس پر چند اں توجہ نہیں دی گئی۔ بارد گر عرض ہے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اور آئی جی پولیس ان معلوم مراکز کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیں اور انسداد فواحش کے ساتھ جرائم پیشہ عناصر کی استراحت گاہوں کاخاتمہ کرکے حیات آباد کو محفوظ بنا یا جائے ۔ تا تارا پولیس کو خصوصی طور پر اس امر کی ہدایت کی جائے کہ وہ اس ضمن میں صرف نظر کرنے کی بجائے بلا امتیاز کارروائی عمل میں لائے ۔ توقع کی جانی چاہیئے کہ اس ضمن میںمزید تساہل کا مظاہرہ نہیں کیا جائے گا تاکہ حیات آباد کو ہر لحاظ سے محفوظ اور صاف ستھرا بنایا جا سکے ۔

متعلقہ خبریں