کالا دھن اور دہشتگردی کا گٹھ جوڑ

کالا دھن اور دہشتگردی کا گٹھ جوڑ

پوری دنیا میںدہشتگردی کی ہر سطح پر مذمت کی جاتی ہے سو اس تناظر میں ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ انہیں مالی سپورٹ کون کر رہا ہے کیونکہ جب تک ان کی فنانسنگ کو نہیں روکا جاتا دہشتگردی کے خاتمے کی باتیں کرنا احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے،اس سلسلے میں امریکی محکمہ خارجہ کی جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ چشم کشا ہے کہ قانونی تجارت کی آڑ میں پاکستان سے ہر سال 10 ارب ڈالر جبکہ بھارت سے 51ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ کی جاتی ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ 'انٹرنیشنل نارکوٹکس کنٹرول اسٹریٹجی رپورٹ' میں کہا گیا ہے کہ بظاہر قانونی تجارت کی آڑ میں کالا دھن سفید کرنے کا عمل (ٹی بی ایم ایل) اس وقت منشیات فروشوں، جرائم پیشہ افراد اور دہشت گردوں کیلئے سرمائے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے کیونکہ اسی سے ایک ملک کی دولت کسی دوسرے ملک میں غیرقانونی طور پر منتقل کی جاتی ہے اور اسی وجہ سے ملکوں کی معیشت کو بھی شدید نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ رپورٹ میںبجا طور پر اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ منی لانڈرنگ جرائم پیشہ افراد خاص طورپر دہشت گردوں کیلئے ریڑھ کی ہڈی کاکام دیتی ہے کیونکہ اسی کے ذریعہ دہشت گردوں کو اپنے مطلوبہ ہدف کو نشانہ بنانے کیلئے رقم مل سکتی ہے جبکہ جائز طریقے سے منتقل کی جانے والی رقم دہشت گردوںکے پاس جانے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہوتاہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیاگیاہے کہ عالمی برادری کو تجارتی منی لانڈرنگ کے ذریعے سالانہ لاکھوں ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے، ایسا معلوم ہوتاہے کہ رپورٹ میں تجارتی منی لانڈرنگ کی اصطلاح جان بوجھ کر یہ بتانے کیلئے استعمال کی گئی ہے کہ بظاہر سفید پوش تاجر حضرات منی لانڈرنگ کے اس مکروہ دھندے میں نہ صرف یہ کہ پورے پورے شریک ہیں بلکہ منی لانڈرنگ کا بڑا ذریعہ یہی نام نہاد تاجر ہیں جو انڈر انوائسنگ اور اوور انوائسنگ کے ذریعہ انتہا ئی شفاف طریقے سے رقم مختلف ممالک کو منتقل کردیتے ہیں اور ان کے دامن پر کوئی دھبہ نظر آتاہے اور نہ ہی خنجر پر کوئی چھینٹ۔یہ صحیح ہے کہ انڈر انوائسنگ اوراوور انوائسنگ کا یہ کاروبار پوری دنیا میں رائج ہے اور دنیا بھر کی بعض مشہور کمپنیاں اس مکروہ دھندے میں اپنے کلائنٹ کی پوری پوری مدد کرتی ہیں ۔

امریکی محکمہ خارجہ کی اس رپورٹ میں چین، روس، میکسیکو اور بھارت کو غیر قانونی پیسوں کی لین دین کے 4 بڑے ممالک کے طور پر ظاہر کیا گیا ہے اور بتایاگیا ہے کہ ایسے ہی طریقوں کے ذریعے پاکستان کو بھی سالانہ 10ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہو رہا ہے۔گزشتہ روز 'انٹرنیشنل نارکوٹکس کنٹرول اسٹریٹجی' کے نام سے شائع ہونے والی امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹ میں ٹریڈ بیسڈ منی لانڈرنگ (ٹی بی ایم ایل) کو ایسے طریقہ کار کے طور پر ظاہر کیا گیا ہے جس کے ذریعے ملزمان قانونی کاروبار کو استعمال کرکے اپنے غیرقانونی ذرائع کو تحفظ دیتے ہیں۔یہی عمل تاجروں اور کرنسی مافیا کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ سالانہ اربوں ڈالر کی منی لانڈرنگ کی جائے، یہی طریقہ کالے دھن کو صاف کرنے کا سب سے جدید اور اچھا طریقہ ہے، جب کہ ٹی بی ایم ایل کے ذریعے غیر قانونی لین دین کی شناخت کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔پاکستان میں ایک تہائی آبادی کے غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے کے باوجود ٹیکس سے بچنے کے لیے ہرسال بیرون ملک منتقل کیے گئے پیسوں کا تخمینہ 10 ارب ڈالر سے زائد لگایا گیا ہے۔رپورٹ میں بھارت کو غیر قانونی پیسوں کی لین دین کے حوالے سے دنیا کے چوتھے بڑے ملک کے طور پر پیش کیا گیا، رپورٹ کے مطابق بھارت میں دیہی علاقوں میں غیر رسمی مالیاتی نیٹ ورکس کے قائم ہونے اور رسمی مالیاتی اداروں تک لوگوں کی بڑے پیمانے پرعدم رسائی کی وجہ سے زیادہ تر منی لانڈرنگ ہوتی ہے۔رپورٹ میں امریکی تھنک ٹینک کی گلوبل فنانشل انٹیگریٹی (جی ایف آئی) رپورٹ کا بھی حوالہ دیا گیا۔
جی ایف آئی رپورٹ میں چین پہلے نمبر پر ہے، جو ہر سال غیر قانونی پیسوں کی لین دین کی وجہ سے 139 ارب ڈالر کا نقصان اٹھا رہا ہے، 104 ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ کے ساتھ روس دوسرے جب کہ 52 ارب 80 کروڑ ڈالر کے ساتھ میکسیکو اس فہرست میں تیسرے نمبر پر ہے۔افغانستان کے حوالے سے اس رپورٹ میں کہا گیا کہ دہشت گردوں اور باغیوں کو اسمگلنگ کے ذریعے دی جانے والی نقد مالی معاونت منی لانڈرنگ کی وجہ ہے، جب کہ انفارمل ویلیو ٹرانسفر سسٹم (آئی وی ٹی ایس) یعنی پیسوں کی غیر رسمی منتقلی کے نظام کی خلاف ورزی اور غیر قانونی پیسوں کی لین دین ملکی سلامتی اور ترقی کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے۔افغانستان افیون کی پیداوار اور برآمد کے حوالے سے دنیا کا سب سے بڑا ملک رہا ہے اور وہاں کرپشن عوامی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ رہی ہے۔افغان عوام کے مفادکے لیے حکومت نے مالی جرائم کا مقابلہ کرنے کے لیے قانون پاس کیا اور قواعد و ضوابط بھی بنائے، مگر ان پر عمل درآمد کرانے کے حوالے سے اسے چینلجز کا سامنا ہے۔بھارت کوروایتی طریقوں سے پیسوں کی منتقلی کے لیے قواعد و ضوابط بنانے، دوسری سہولت فراہم کرنے اور موبائل بینکنگ سمیت ادائیگیوں کے نئے طریقے متعارف کرانے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے۔بھارت میں منی لانڈرنگ کے لیے استعمال ہونے والے زیادہ ترطریقوں میں فنڈز کو چھپانے کے لیے ایک سے زائد بینک اکاؤنٹس کھولنے، قانونی آمدنی کے ساتھ غیر قانونی گھپلے کرنے، نقد رقم کے ذریعے بینک چیکس کی خریداری اور ان فنڈز کو غیر قانونی طریقوں کے ذریعے نیلام کرنے کے طریقے شامل ہیں۔امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹ کے تناظر میںدیکھا جائے تو دہشتگردی اور کالا دھن کا گہرا گٹھ جوڑ ہے اگر ہم دہشتگردی کوختم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس سے پہلے دہشتگردوں کی مالی معاونت کا سدباب کرنا ہو گا ۔

اداریہ