Daily Mashriq


فاٹا کاانضمام' امکانات و خدشات

فاٹا کاانضمام' امکانات و خدشات

اگرچہ اس موضوع پر کئی برسوں سے بحثیں ہوتی رہی ہیں کہ فاٹا کو الگ صوبہ بنایا جائے یا صوبہ پختونخوا میں ضم کیا جائے۔ فائدہ بحیثیت مجموعی پہلی صورت میں زیادہ ہوگا یا دوسری صورت میں کمزور ہی سہی ایک رائے یہ بھی رہی ہے کہ فاٹا کو اسی طرح رکھا جائے البتہ اس علاقے کو ترقی دے کر اس کے عوام کو بھی وہی سہولتیں بہم پہنچائی جائیں جو مملکت خداداد کے دیگر صوبوں کے لوگوں کو حاصل ہیں۔ لیکن بہرحال ملک کی پارلیمنٹ نے بالآخر اس قبائلی پٹی کو صوبہ خیبر پختونخوا میں شامل کرنے کے حوالے سے بل منظور کرلیا ہے جس کی تفصیلات اور اس سے متعلق ضروری اقدامات پانچ سال کے اندر اندر طے کئے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ حکومت و پارلیمنٹ کا یہ فیصلہ قبائلی عوام اور ملک کے لئے ہر لحاظ سے فائدہ مند ثابت ہو۔ 

لیکن اس حوالے سے بحثیں اب بھی جاری ہیں اور ان بحثوں میں سے ایک بحث کے کچھ نکات پچھلے دنوں درہ خیبر کے شمال کی سمت شلمان کے اونچے پہاڑوں کی ایک چوٹی پر اہل الرائے کے ایک حلقہ میں زیر گفتگو رہے۔ ان پر گفتگو اس نشست میں ہوگی لیکن پہلے چند اور ہلکی پھلکی باتیں ہوجائیں۔ہمارے استاد محترم فرمایا کرتے تھے کہ مہینہ میں اپنے گھر اور کام کرنے کے مقام سے چند گھنٹوں کے لئے سہی ذرا باہر نکلنا چاہئے کہ اس سے انسان کو نئے ماحول میں تازہ سانس لینے کے علاوہ کچھ اچھی چیزیں بھی دیکھنے کو مل جاتی ہیں۔ ہمارے استاد محترم اپنے دور پروفیسری و چیئر مینی میں اپنے رفقاء کار کو ویک اینڈ پر گاڑی میں بٹھا کر اکثر دیر' سوات اور کلر کہار کی طرف لے جاتے جس سے نہ صرف رفقاء کار کو ایک خاص ماحول سے نکل کر فطرت کو دیکھنے کا موقع ملتا بلکہ کئی ایک موضوعات پر کھل کر بحث و مباحثہ ہوتا۔ اس دفعہ یہ موقع ہمیں ہمارے پی ایچ ڈی کے سکالر احسان اللہ جنیدی نے فراہم کیا۔ جنیدی صاحب نے شلمان کے پہاڑوں کی ایک چوٹی پر کام لب و دہن کا انتظام کرکے اپنے اساتذہ کو فاٹا کے ایک خوبصورت اور اہم علاقے (طورخم' شلمان) میں بیٹھ کر پختونخوا کے ساتھ انضمام کے موضوع پر کھل کر بحث کا موقع فراہم کیا جس کے اہم نکات کچھ یوں تھے۔قبائلی علاقہ جات' وزیرستان سے لے کر مہمند ایجنسی تک کو کنٹرول کرنے کے لئے برطانوی سامراج نے جو قانون سازی کی یعنی ایف سی آر وہ یقینا بنیادی انسانی حقوق کے ساتھ لگا نہیں کھاتی تھی ۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ قیام پاکستان کے بعد بھی اس علاقے میں پولیٹیکل ایجنٹ کو سیاہ و سفید کا مالک بنائے رکھا گیا۔ اس نظام نے ہمارے کتنے لوگوں کو دولت کا پجاری بنا کر کرپشن کی راہ پر ڈالا اور افغانستان جنگ کے دوران اور بعد میں کس طرح یہ علاقہ منشیات اور اسلحہ کا گڑھ بنا اور 9/11 کے بعد ایک ایسی صورتحال پیدا ہوئی کہ امریکہ کے کئی ایک سیاستدانوں نے اسے دنیا کا خطرناک ترین علاقہ قرار دیا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں یہاں اتنے ڈرون حملے ہوئے کہ شاید ہی دنیا میں اس سے پہلے کہیں اور ہوئے ہوں۔ ان ڈرون حملوں میں کتنے بے گناہ' معصوم رزق خاک ہوئے اور ظلم و بربریت کی کیسی داستانیں تاریخ کا حصہ بنیں یہ کہانی طویل بھی ہے اور ستم گر بھی لہٰذا پھر سہی کیونکہ ہم نے مجلس میں فاٹا کے پختونخوا میں انضمام کے فوائد اور نقصانات وغیرہ پر اپنی اپنی آراء پیش کیں۔

عجیب بات یہ ہے کہ وہاں پر موجود فاٹا کے کئی ایک پڑھے لکھے لوگوں نے صدیوں سے رائج ملک ازم کی تحسین کی۔ اس کے باوجود کہ ایک صاحب نے پی اے کے ہاتھوں وجہ بتائے بغیر کسی کو کئی ہفتوں مہینوں تک حبس بے جا میں رکھنے کو برطانوی سامراج کی بلکہ پختون دشمنی کی یاد گار قرار دیا۔ اس پر جواب آیا کہ قیام پاکستان کے بعد اس کی اصلاح اور بہتری ضروری تھی نہ کہ اصلاح کے نام پر فاٹا کو ایک ایسے نظام کا حصہ بنانا جس میں پولیس' پٹواری ' عدلیہ اور گواہوں کی مشکلات مسائل کو اور بھی الجھا دیتے ہیں۔ جبکہ فاٹا میں روایتی جرگہ نظام کے ذریعے بڑے بڑے مسائل دو تین دن کے اندر حل ہوجاتے۔ اس پر میں نے گرہ لگائی کہ کیا ملک کرپٹ نہیں ہوتے تھے۔ کیا قبائلی عوام بالخصوص جوان نسل ان کے خلاف نہیں تھی۔ کیا اس دور میں بھی ایک آدمی ایک ووٹ سے محروم ہونا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں۔ کیا اس ترقی یافتہ دور میں بھی قبائلی عوام کا زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم رہنا قابل رحم نہیں۔ ایک اہم سوال یہ سامنے آیا کہ کیا جمہوریت کے اس دور میں فاٹا کے انضمام کے حوالے سے وہاں کے عوام میں ریفرنڈم کا انتظام ممکن نہ تھا تاکہ اصل سٹک ہولڈرز کی رائے سامنے آتی۔ اسی طرح کے اور بھی کئی ایک دلچسپ اور معقول سوالات سامنے آئے جن پر شرکاء مجلس نے کھل کر بحث کی۔ ایک اہم سوال ڈیورنڈ لائن کابھی زیر بحث آیا۔ اگر چہ ہمارے نقطہ نظر کے مطابق انگریز کے بر صغیر سے جانے کے بعد یہ مسئلہ ہمیشہ کے لئے حل ہوچکا لیکن بعض افغانی اب بھی وقت بے وقت یہ راگنی الاپتے ہیں اور پچھلے دنوں یہ آواز پھر اٹھی۔ اس لئے اگرچہ پاکستان کی پارلیمنٹ نے فاٹا کے انضمام کا فیصلہ کرلیا ہے لیکن اب بھی اس مسئلے میں کئی ایک اہم نکات وفاقی اور صوبائی حکومت کو مل کرحل کرنا ہوں گے تاکہ فاٹا کے عوام کو ریلیف ملے اور اس علاقے میں ترقی ہو اور پاکستان مضبوط و مستحکم ہو۔

متعلقہ خبریں