سرچ کمیٹی کے سربراہ کا رد عمل

سرچ کمیٹی کے سربراہ کا رد عمل

ایک مدت ہوئی ہم اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے فارغ ہو چکے ہیں یہ ایک قدرتی امر ہے کہ کسی بھی شعبے سے وابستہ شخص ، زندگی بھر اُسکے سحر میں گرفتار رہتا ہے ۔ ہم اس سے پہلے بھی بے شمار دفعہ عرض کر چکے ہیں کہ وہ آدمی بڑا خوش نصیب ہوتا ہے جسے قسام ازل کی جانب سے رزق کا وسیلہ اُسکی خواہش کے مطابق عطا کر دیا جائے ۔ ہمارا شمار بھی ایسے ہی خوش بختوں میں سمجھئے چنانچہ ہمیں شعبہ تعلیم سے وابستگی کے دوران کبھی بھی پچھتاوا نہیں ہوا ، اُس میں ایک بار داخل ہونے کے بعد کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اورا پنی صلاحیتوں کے مطابق اُسکی خدمت میں عمر عزیز کا ایک طویل عرصہ صرف کر دیا ۔ ہم یہ کبھی نہیں کہتے کہ ماضی میں تعلیمی شعبے میں کبھی کوئی خامی نہیں رہی ، لیکن یہ پورے یقین کے ساتھ دعویٰ رکھتے ہیں کہ کچھ عرصہ پہلے تک یہ شعبہ مالی بد عنوانیوں سے بالکل پاک تھا ،اس میں آج کی طرح ، میگا سکینڈل کبھی سامنے نہیں آئے ۔ بڑے تعلیمی اداروں میں میرٹ کی بنیاد پر تقرریاں ہوتی رہی ہیں اور اُن کے سربراہوں نے کبھی بھی اپنی ملازمت کو جلب زر کا وسیلہ نہیں بنایا ، یہ تمام واقعات دیکھ کر ہمیں بے حد رنج ہوتا ہے ، اورا پنی تحریروں میں اس نوع کی خامیوں کی نشاندہی کی کوشش کرتے ہیں ۔ اس امر میں دوآراء کی گنجائش کبھی نہیں رہی ، کہ ملک وقوم کی ترقی کے لئے تعلیمی نظام کا قبلہ درست کر نا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ تعلیم کا شعبہ جسکی بنیادی ترجیحات میں امانت دیانت کا درس شامل ہے اگر اُسے بھی بد عنوانی کا گھن لگ جائے تو اس سے بڑا کو ئی دوسرا المیہ نہیں ہوسکتا۔ یہ جو ہم بعض قومی اداروں بالخصوص تعلیم کے شعبے پر اظہار خیال کرتے ہیں اس میں ہماری کسی سے ذاتی پر خاش کا شائبہ تک نہیں ہوتا نہ خود اشتہاری کا شوق رکھتے ہیں بلکہ پورے خلوص نیت کے ساتھ اصلاح احوال کا جذبہ سامنے ہوتا ہے ۔ ہمیں اس وقت بڑی خوشی ہوتی ہے جب کوئی ہمارے اس جذبے کو سمجھتے ہوئے نہ صرف ہماری تحریروں پر مثبت رد عمل ظاہر کرتا ہے بلکہ آئند ہ کے لئے اصلاح احوال کی یقین دہانی بھی کر دی جاتی ہے ہم نے اپنی ایک گزشتہ تحریر میں صوبے کی جامعات میں اُن کے سربراہوں کی تقرری کے عمل میں میرٹ کی پامالی پر ،کچھ حقائق قوم کے سامنے پیش کئے تھے ۔ خوش قسمتی سے ہماری یہ تحریر وائس چانسلر ز سرچ کمیٹی کے سربراہ بہت ہی محترم ڈاکٹر عطا الرحمن کی نظروں سے بھی گزری اور انہوں نے ہماری گزارشات پر برقی مراسلے کے ذریعے اپنے تاثرات سے آگاہ کیا۔ ہم نے بھی پورے دلائل اور دستاویزات کے ساتھ ایک بار پھر انہیں اپنی تحریر میں پیش کئے گئے حقائق کی وضاحت سامنے رکھی ۔ محترم ڈاکٹر عطاء الرحمن کے برقی مراسلے کے مطابق امید واروں کے انتخاب پر تمام کمیٹی متفق تھی ۔ دوسری بات ڈاکٹر صاحب نے یہ لکھی کہ ہم نے جن امید واروں کو پہلے نمبر پر درج کیا تھا اُن میں کسی کی بھی تعیناتی نہیں ہو ئی بلکہ دوسرے اور تیسرے نمبر پر درج امید واروں کی تقرری کی گئی ، جس پر سرچ کمیٹی نے حکومت سے باقاعدہ احتجاج بھی کیا ۔ ڈاکٹر صاحب نے ہمیں مشورہ دیا ہے کہ اس ضمن میں کمیٹی کے فیصلے کوہدف تنقید نہ بنا یا جائے اور اس کے ساتھ یہ یقین دہانی بھی کی کہ کمیٹی کے تمام اراکین کے امانت و دیانت پر شک جائز نہیں وہ مانے ہوئے ماہرین تعلیم ہیں چنانچہ وہ کبھی بھی میرٹ کی پامالی نہیں ہونے دینگے ۔ ہم محترم ڈاکٹر کی خدمت میں ایک بار پھر یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ ہم نے کبھی یہ نہیں لکھا کہ تعیناتی یا نامزدگی کا فیصلہ متفقہ تھا یا نہیں ہم نے تو صرف یہ حقیقت گوش گزار کی تھی کہ پہلے نمبر کے امید وار اہل تھے یا اسکے بر عکس تھے ۔ ہم نے کمیٹی کے اراکین کی دیانت و امانت پر بھی کوئی اعتراض نہیں کیا ، ہمارے تو سیدھے سادھے سوالات تھے کہ وطن عزیز کے نادار اور غربت زد ہ عوام امن چاہتے ہیں ایک پر امن ماحول میں دو وقت کی روٹی کا حصول اُن کا مقصد ہوتا ہے ۔تعلیمی اور صحت کے ادارے سے اچھے سلوک کے متمنی ہیں چنانچہ کسی بھی محکمے میں ملازمتیں دیتے وقت اہلیت کے بنیادی تقاضوں کو پیش نظر رکھا جائے ۔جب قومی اداروں کے سربراہ کی تقرری میں میرٹ کو نظر انداز کیا جائے تو پھر ایسے کسی سربراہ میں اُس کے فرائض کی ادائیگی میں امانت و دیانت کی کیا توقع رکھی جا سکتی ہے۔ اس ضمن میں ہم بے شمار مثالیں پیش کر سکتے لیکن فی الوقت ہم اُنہیں نظر انداز کرتے ہیں ہم نے عرض کیا تھا کہ جامعات آرڈ یننس کے مطابق وائس چانسلر کی آسامی کے لئے اعلیٰ تعلیمی معیار لازمی شرط ہے ، لیکن ماہرین تعلیم کی کمیٹی نے جس امید وار کے انتخاب کی سفارش کی اُن کے تعلیمی کوائف میں دو تھرڈ ڈویژن شامل تھے ، جبکہ ایسا کوئی امید وار کسی یونیورسٹی سے لیکچر رشپ کا بھی اہل نہیں ہوتا ۔ اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے قوانین کے مطابق ایک تھرڈ ڈویژن کو ایم فل یا پی ایچ ڈی کی ڈگری رکھنے والے کے لئے نظر اندازکیا جا سکتا ہے مگر دو تھرڈ ڈویژن کے حامل امیدوار جامعہ میں اعلیٰ منصب کاقطعاًاہل نہیں۔ میں نے اپنی گزشتہ تحریر میں گزارش کی تھی کہ جامعات آرڈیننس انجینئر نگ و ٹیکنالوجی کی جامعات کے لئے انجینئر نگ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری لازمی تھی لیکن یہاں بھی میرٹ کو نظر انداز کر دیاگیا ، یہ عملاً اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یا تو سرے سے امید واروں کے تعلیمی کوائف کی جانچ پڑتال ہی نہیں ہوگی اور یا پھر اُن کے لئے بنیادی قواعد سے ارا دتاً صرف نظر کیا گیا ہے ۔ دستاویزات سے ثابت ہوتا ہے کہ میرٹ کی پامالی ہوئی ہے ۔ یہ سکروٹنی کمیٹی کی غلطی تھی یا بعد میں کسی سے سر زد ہوئی ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں ہم تو ، تحریک انصاف کے منشورکے مطابق کاروبار حکومت میں میرٹ کی پابندی چاہتے ہیں۔ ہم نے تو ایک محب وطن شہری اور تعلیم کے شعبے سے طویل وابستگی کی وجہ سے اپنی تحریر کو اس تا ثرات اور خدشات سے آگاہ کرنے کی کوشش کی ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کوتوفیق عطا فرمائے کہ اپنی صلاحیتوں کے مطابق آئندہ نسل کے لئے ایک صاف ستھرے معاشرے کو یقینی بنائیں خدا کرے ہماری یہ چند سطور قومی مستقبل سنوارنے کا سبب بنیں اور ہم اپنے اکا برین کے الفاظ پر مبنی فیصلوں کی دل کھول کر تعریف کر سکیں ۔ 

اداریہ