خواہش کا لا محدود سفر

خواہش کا لا محدود سفر

قلم کا گھوڑا بھی بڑا سرکش ہوتا ہے کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم اسے ہزار قابو کرنے کی کوشش کریں یہ ہمارے اختیار میں نہیں ہوتا۔ اس کا جس طرف جی چاہے اسی طرف سر پٹ بھاگنے لگتا ہے ہمارے ساتھ جب بھی کبھی ایسی صورتحال پیش آتی ہے ہم اسے آزاد چھوڑدیتے ہیں ۔بس ہمارا کام صرف اتنا ہوتا ہے کہ یہ جس طرف جائے ہم اس کے پیچھے پیچھے بھاگتے رہیں ۔آج بھی کچھ ایسی ہی کیفیت ہے ذہن میں ڈھیر سارے خیالوں نے اودھم مچا رکھا ہے۔ سوال پر سوال اٹھ رہے ہیں کچھ سمجھ نہیں آتی کہ بات کو کس طرف سے شروع کیا جائے بس زندگی کی جولانیوں نے الجھا کر رکھ دیا ہے۔ زندگی کا کردار بھی بڑا عجیب ہے یہ آپ سے محبت کا دم بھرتی ہے اٹکھیلیاں کرتی ہے۔ حسین خوابوں میں الجھائے رکھتی ہے۔ 

مزے مزے کے مترنم گیت اپنی مدھر آواز میں سناتی ہے اور جب آپ اس کی رعنائیوں میں پوری طرف گم ہوجاتے ہیںاور بے اختیاری کی یہ مدہوش کن کیفیت آپ کو لوریاں سنا سنا کر سلادیتی ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وقت کی نبض رک گئی ہو۔۔ہیں خواب میں ہنوز جو جاگے ہیں خواب میں والی کیفیت ہوتی ہے ۔اور جب آنکھ کھلتی ہے تو وقت کا سرکش گھوڑا کہیں بہت دور نکل چکا ہوتا ہے وقت جو کسی کے اختیار میںنہیں اور پھر رخش عمر کس سے تھما ہے نگاہوں کو خیرہ کردینے والے مناظر اور چکا چوند کردینے والی خواہشات اپنے اندر کب جھانکنے دیتی ہیں۔ اپنے آپ سے بات کرنے کا وقت بھی تو نہیں ملتا اور وقت ملے بھی تو کیسے؟ ورڈزورتھ نے سچ ہی تو کہا تھا کہ '' زمین ہمارے لیے اپنی گود خوشیوں سے بھر دیتی ہے '' اور کرہ ارض کا یہ چند روزہ مکین ساری خوشیاں اپنے دامن میں سمیٹ لینا چاہتا ہے۔ خواہشات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ اسے اپنے حصار میں جکڑ لیتا ہے۔ صوفیوں نے شاید اسی لیے ترک خواہش کی بات کی ہے۔ قناعت کا حوالہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے سادہ زندگی کا حسن بھی اسی کے دم سے ہے یہ سب زندہ حقائق ہیں نجات کی باتیں ہیں لیکن ایسی خواہشات کا کیا کیجیے کہ جن پر دم نکلنے کی بات تو اس نے بھی کی ہے جو خود رنج کا خوگر تھا ۔ ہم سب اپنی لا محدود خواہشات کے قیدی ہی تو ہیں۔ کائنات کی سب سے پہلی اور مایوس کن خبر کے دامن میں تکمیل آرزو کے سوا کیا تھا؟ بھائی نے بھائی کو خواہش کی بھینٹ چڑھا دیا اور کائنات کا سب سے متحرک کردار جس کے بارے میں اقبال نے کہا تھا قصہ آدم کو رنگیں کر گیا کس کا لہو! کیا اس کا راندہ درگاہ ہونا ایک متکبرانہ خواہش کا نتیجہ نہیں تھا؟کائنات کے یہ سارے کردار اپنی اپنی خواہشات کے دائروں میں گھوم رہے ہیں۔لیکن انسان کی بے بسی ملاحظہ کیجیے کہ ڈھیر ساری خواہشات اور مشقت بھری جدوجہد کے باوجود بھی کتنے بے اختیارہیں ویسے تشنہ آرزوئوں کی تکمیل کا جذبہ عروج آدم کی داستان ہے اگر یہ سب کچھ نہ ہو تو انسان کی تہی دستی دیدنی ہو ۔ روشن چراغوں کا یہ انمول سلسلہ اپنے انجام کو پہنچ جائے۔ ہر ارتقاء خواہش سے جنم لیتا ہے خواہش مرجائے تو انسان مر جاتا ہے انسان نے پرندوں کی طرح اڑنا چاہا ، اڑنے کی اس خواہش نے تہذیب جدید کے قصہ ناتواں میں چار چاند لگا دیے کائنات کی پہنائیاں سمٹ کر رہ گئیں پہاڑ، دریا ، سمندر کھلی کتاب ہو گئے پہاڑوں کی تہوں اور سمندروں کی اتھاہ گہرائیوں نے اپنے بہت سے راز اگل دیے یہ اور بات کہ ہمارا قیام اس فانی دنیا میں بہت مختصر مدت کے لیے ہے اور اس مختصر قیام کے پس پردہ خالق کائنات کا ایک بہت بڑا مقصد پوشیدہ ہے۔ مگر اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہمارا قیام دوسروں کے لیے ہے ہماری خوشیاں دوسروں کی مسکراہٹ سے وابستہ ہیں اور پھر ہماری حیات مستعار کی تعمیر اس کے سکھ دوسروں کی محنت کی بدولت ہیں ہمارا وجود ہماری زندگی دوسروں کے مقروض ہیں۔پیٹ بھرنے کی ضرورت اور تن ڈھانپنے کی خواہش سے شروع ہونے والا یہ سفر آج وسعت عالم کا احاطہ کیے ہوئے ہے تہذیب کے ارتقاء کے ساتھ ساتھ زاویے بدلتے چلے گئے۔ دراصل زندگی اور جاننے کی خواہش نے ایک دوسرے کے وجود کو دوام بخشا ہے ابدیت عطا کی ہے ورنہ آج ہم کسی غار کے دھانے پر بیٹھ خودرو جھاڑیوں کے پتے چبا رہے ہوتے۔ نادریافت کو دریافت کرنا ہی ہمارا مقصد حیات ہے۔ کائنات کے یہ اسرار ہی سچے آرٹ اور سائنس کے حصول کا ذریعہ ہیں جو حیران نہیں ہوتا اپنی چاروں طرف پھیلی ہوئی کائنات پر سوال نہیں اٹھا تا وہ اپنے ہونے کا دعویٰ کیسے کرسکتا ہے؟

اداریہ