اعصا ب کا کھیل

اعصا ب کا کھیل

جنگ صر ف اعداد و اسباب کا کھیل نہیں ہوتا بلکہ جنگ بنیادی طور پر اعصاب کا کھیل ہوتا ہے ۔جو فریق کسی جنگ میں ذہنی شکست کھاجائے اسے دنیا کی کوئی طاقت اور جنگی ساز وسامان بھی فتح نہیں دلا سکتا اور جو فریق جنگ میں مضبوط اعصاب کا مالک رہے وہ اعداد وشمار اور ظاہری جمع تفریق کو خاطر میں لائے بغیر جنگ کا پانسہ پلٹ ڈالتا ہے۔اسی لئے جنگوں میں افواہ بازی ،شوشے ،پروپیگنڈہ کا کاروبار زوروں پر ہوتا ہے۔میڈیا کے ذریعے ایک دوسرے کے کشتوں کے پُشتے لگائے جانے کے دعوے کئے جاتے ہیں ۔ایک دوسرے کے علاقے کو ہتھیانے اور جہازوں کو مار گرانے کی کچھ حقیقی اور بہت سی فرضی کہانیاں سنائی دیتی ہیں۔مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ مخالف فریق کے اعصاب چٹخ جائیں ۔عوام بددل اور مایوس ہو کر اپنی حکومت اور مسلح افواج کی پشت سے ہٹ جاتے ہیں۔وہ جنگ کو ایک بوجھ سمجھ کر حمایت کا ہاتھ کھینچ لیتے ہیں ۔عوام کے اندر پیدا ہونے والی بد دلی کی لہریں رفتہ رفتہ حکومت ،مسلح افواج اور فیصلہ ساز اداروں کی دہلیز پار کرنے لگتی ہیں اور ایک شکست خوردہ ذہنیت وجود میں آتی ہے۔

شکست خوردگی کے اس زہر کی آخری منزل اگلا مورچہ اور اس مورچے میں موجود شخص اور اس کے ہاتھ اور بندوق کی لبلبی پر جمی ہوئی انگلیاں ہوتی ہیں۔قوم کا تذبذب ان ہاتھوں پر رعشہ طاری کرتا ہے اور یوںکپکپاتے ہاتھوں کا نشانہ خطا ہونے لگتاہے ۔اس طرح فریق مخالف فتح پانے یا کم از کم ایسے حالات پیدا کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے جب وہ شرائط کے ساتھ صلح کی میز سجانے اور اپنا فیصلہ منوانے میں کامیاب ہوجاتا ہے ۔مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے کے پورے سفر کا جائزہ لیا جائے تو اعصابی جنگ کی اہمیت کا انداز ہ ہوتا ہے ۔لسانی مسئلے سے شروع ہو کر شملہ معاہدے تک پورے سفر میں ہم اعصابی جنگ ہارتے چلے گئے ۔پروپیگنڈہ ،افواہیں اور سازشیں اپنا رنگ جماتی اور دکھاتی رہیں ۔اسلام آباد کی سڑکوں سے پٹ سن کی بُو محسوس ہونے سے پچھمی طوفانوں کی نسبت تک مشرقی پاکستان میں ہم نے قدم بہ قدم اعصابی کھیل میں شکست کھائی اور یہی شکست پلٹن میدان کی عملی شکست میں ڈھل گئی اور پھر شملہ کے کمزور معاہدے پر منتج ہوئی۔جس میں پاکستان کو کشمیر جیسے اہم مسئلے پر قریب قریب سرینڈر کرانے کی ہی کوشش کی گئی تھی یہ تو ذوالفقار علی بھٹو کی ذہانت تھی کہ وہ اگر مگر کے ساتھ حتمی سرینڈر سے دامن بچا نے میں کامیاب ہوگئے۔لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں پاکستان سپر لیگ کا فائنل میچ درحقیقت اعصاب کا ہی کھیل تھا یہ ایک تلخ مگر ناگزیر فیصلہ تھا ۔گزشتہ دنوں پاکستان کے طول وعرض میں دہشت گردوں نے پے درپے دھماکوں کے ذریعے جو قیامت برپا کی اس کی دو ظاہری وجوہات تھیں ۔اول یہ کہ دہشت گرد جنرل راحیل شریف کے بعد آنے والی فوجی قیادت کا ذہن پڑھنا چاہتے تھے دوم یہ کہ وہ پاکستان سپر لیگ کے فائنل میچ کا پاکستان میں انعقاد روک کر دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتے تھے کہ پاکستان بدستور سیاحوں ،کھلاڑیوں ،سرمایہ کاروں ،سفارت کاروں کے لئے خطرناک ملک ہے۔کسی ملک کی معیشت اور معاشرت کو تباہ کرنے کے لئے یہ تاثر کافی ہوتا ہے کہ وہ ملک اپنے مہمانوں کی حفاظت کی اہلیت نہیں رکھتا ۔کسی قوم کے لئے اس سے المناک بات کیا ہوتی ہے کہ دنیا میں اس کا حوالہ ،شناخت اور پہچان منفی ہو کر رہ جائے۔
پاکستان آج اسی المیے کا سامنا کررہا ہے۔ایسے میں چند دن کے لئے پاکستان دنیا بھر میں ایک مثبت حوالے سے مشہور ہوا ۔یوں لگ رہا تھا کہ پاکستان کے لوگ آپس میں دوستانہ میچ نہیں کھیل رہے بلکہ بین الاقوامی کرکٹ میں پاکستان کا جوڑ دوسری ٹیموں سے پڑ رہا ہے۔میاں نوازشریف سے نجم سیٹھی تک بہت سے لوگوں نے اس معرکے کو سر کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا ۔فوج نے اعصابی جنگ کے اس رائونڈ کو پرامن بنانے میں اہم کردار ادا کیا ۔سراج الحق اور شیخ رشید نے حکومت مخالف ہونے کے باوجود سٹیڈیم میں پہنچ کر اس چھوٹی سی خوشی کو عوام کے درمیان رہ کر سلیبریٹ کیا۔ یہ انٹرنیٹ کے ذریعے سماجی رابطوں اور سوشل میڈیا کا عہد ہے ۔سماجی رابطوں کی درجنوں ویب سائٹس اور ایپس اس وقت دنیا کو ایک گلوبل ویلج بنائے ہوئے ہیں۔ ٹویٹر ان میں سب سے باوقار اور معتبر ویب سائٹ ہے جس پر سیاسی اور سنجیدہ لوگ اپنا پیغام دوسروں تک پہنچاتے ہیں۔بی بی سی کے مطابق ٹویٹر پر دنیا بھر کے ٹرینڈ میں اولین نمبر پر پی ایس ایل کا لاہور فائنل تھا ۔ساتویں نمبر پر پی ایس ایل کے چیئرمین نجم سیٹھی ٹرینڈ کر رہے تھے ۔پاکستان کے ٹرینڈز میں دس میں سے نو ٹرینڈز پی ایس ایل فائنل سے متعلق تھے۔ نارمل قوموں کایہی وطیرہ ہوتا ہے ۔وہ کھیلوں ،قومی دنوں ،ثقافتی اور مذہبی تہواروں میں رسیاں تڑوا کر باہر نکل آتے ہیں ۔خوف کے سائے میں سانس لینے والی قومیں ڈپریشن کا شکار ہوکر ابنارمل کہلاتی ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر میچ اس قدر بھاری اخراجات اور حفاظتی اقدامات کے ماحول میں نہیں ہو سکتا اور نہ ہی یہ مستقل رجحان اور رواج اپنایا جا سکتا ہے مگر بارہا انا کا پرچم لہرانا ضروری ہوتا ہے۔لاہور میں جو میچ کھیلا گیا وہ دو ٹیموں کے درمیان نہیں بلکہ پاکستان اور پاکستان دشمنوں کے درمیان اعصابی جنگ تھا اور پاکستان اس جنگ کا ایک رائونڈ جیت گیا ہے۔

اداریہ