مشرقیات

مشرقیات

سلم سیدنا عمر فاروق کے خادم تھے۔ ان کی کوشش ہوتی کہ وہ ان کے ساتھ ساتھ رہیں ۔ ایک دن وہ ان کے ساتھ بازار کی طرف گئے ۔ راستے میں سیدنا عمر کو ایک خاتون ملی۔ اس نے کہا : امیر المومنین ! میرا خاوند فوت ہوگیا ہے۔ اس نے اپنے پیچھے چھوٹے چھوٹے بچے چھوڑے ہیں ۔ پھر اس عورت نے اپنا تعارف کرواتے ہوئے بتایا: میں خفاف بن ایماء غفاری کی بیٹی ہوں۔ میرے والد حدیبیہ میں رسول اللہ ۖ کے ساتھ موجود تھے۔ سیدنا عمر اس کی بات سنتے رہے پھر گھر تشریف لے گئے اور گھر میںبندھے ہوئے ایک طاقتور اونٹ پر دو ( 2)بورے ڈالے ۔ ان میں کھانے پینے کی چیزیں بھر یں ۔ کچھ نقدی اورکپڑے بھی رکھے ۔ پھر اس کی نکیل اس عورت کے سپر د کی اور فرمایا: اسے لے جائو اس کے ختم ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ تمہارے دن پھیر دے گا۔ پھر ارشاد فرمایا : ''میں نے اس کے باپ اور بھائی کو اس حالت میں دیکھا تھا کہ انہوںنے ایک قلعے کا لمبے عرصے تک محاصرہ کیا۔ پھر ان دونوں نے اسے فتح کر لیا۔ جب صبح ہوئی تو ہم مال فے میں سے ان کا حصہ وصول کررہے تھے'' مطلب یہ تھا کہ اس خاتون کے باپ اور بھائیوں کی اسلام کیلئے جس قدر خدمات ہیں ان کے مقابلے میں ہم اس خاتون کوکچھ نہیں دے رہے ۔ ایک دفعہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک شامی باشندے کو جو بڑا طاقتور اور جنگجو رہ چکا تھا غائب پایا تو اس کے بارے میں دریافت فرمایا: وہ شامی کہاں ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: امیر المومنین ! وہ تو پکا شرابی بن چکا ہے ۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے کاتب کو بلایا اور یہ لکھنے کا حکم دیا۔''عمر بن خطاب کی طرف سے فلاں شخص کی طرف السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔بسم اللہ الرحمن الرحیم اس کتاب کا نزول اللہ کی طرف سے ہے جو نہایت غالب خوب جاننے والا ہے ۔ گناہ بخشنے والا اور توبہ قبول کرنے والا ہے سخت سزا( دینے) والا بڑے فضل والا ہے اس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے''۔سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس خط کو مکمل کرایا اور اپنے ایلچی سے فرمایا ۔یہ خط اسے اس وقت دینا جب وہ ہوش میں ہو۔ پھر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے تمام حاضرین سے فرمایا کہ اس کیلئے دعا کرو۔ جب اس شخص کے پاس حضرت عمر کا خط پہنچا تو وہ اسے پڑھنے لگا اور کہنے لگا مجھ سے میرے رب نے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ مجھے معاف فرمائے گا اور مجھے اپنی سزا سے ڈرایا ہے۔ پھر رونے لگا اس نے شراب نوشی سے توبہ کرلی۔سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس معاملے کی خبر پہنچی تو فرمایا: اگر تم کسی کو دیکھو کہ وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا ہے تو اس کیلئے اسی طرح دعا کرو اور اسے راہ راست پر لانے کی کوشش کرو۔''اس کے خلاف شیطان کے مددگار مت بنو''۔
(تفسیر القرطبی)

اداریہ