اگلا نشانہ پاکستان ؟

اگلا نشانہ پاکستان ؟


قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ کسی سپر پاور کی خواہش نہیں کہ افغانستان میں امن ہو۔ امت مسلمہ کی موجودہ صورتحال پر بحث ہونی چاہیئے ، کل کو ہم بھی نشانہ بن سکتے ہیں اور ہم ان کے نشانے پر ہیں ۔ پاکستان بھی ہدف ہے ان طاقتوں کا جنہوں نے عراق ، شام اور لیبیا میں خون کی ہولی کھیلی ، انہوں نے کہا نائن الیون کے بعد اگر ہم امریکہ کے سامنے ہتھیار نہ ڈالتے تو یہ جنگ ہماری چاردیواری کے اندر نہ آتی ، امت مسلمہ کا شیرازہ بکھیرا جارہا ہے ، اور آلہ اقتل بھی ہمارے ہاتھوں میں ہے ، ہم نے روس کے خلاف امریکا کے کہنے پر جعلی جہاد لرا ، اور وہ آج بھی چاہتے ہیں کہ پاسکتان ان کے مفادات کا تحفظ کرے ، انہوں نے کہا ساری دنیا کو معلوم ہے داعش کو عراق اور شام سے اب افغانستان کو ن لیکر آیا ہے اور داعش کے پیچھے کون ہے ، ہم نے روس کے خلاف میڈان امریکا جہاد لڑا لیکن اب پاکستان نے پرا کسی نہ بننے کا فیصلہ کر لیا ہے ، ہمیں طعنہ دیا جاتا ہے کہ ہم حقانی نیٹ ورک کے سہولت کار ہیں ، جن کے پاس افغانستان کی 43فیصد سرزمین کا قبضہ ہو ان کو ہماری کیا ضرورت ہے ۔ جہاں تک وزیرخارجہ کے خیالات کا تعلق ہے ان پر ممکن ہے کہ ملک کے اند ربعض حلقے مخالفانہ ردعمل کا اظہار کریں کیونکہ بد قسمتی سے آج تک ہمارا قومی بیانیہ ہی افغان سرزمین پر روس کے خلاف لڑی جانے والی جنگ کو اُس دور میں حکومتی سطح پر جہاد قرار دیکر اس جنگ میں آنکھیں بند کر کے کو دپڑنے اور اس پر فخر یہ انداز میں اظہار اطمینان ہی رہا ہے ، اور یہ اسی بیانیہ ہی کا شاخسانہ ہے کہ جس امریکی پراکسی وار کو ہم نے نہ صرف ملک کے اندر بلکہ امریکی سرپرستی میں بیرونی دنیا سے جنگجوئوں کو دعوت دیکر اور اپنی جنگ قرار دے کر لڑا جس کے نتیجے میںنہ صرف سوویت یونین کا شیرزہ بکھر گیا ، اور وسط اشیائی ریاستوں پر اس کی گرفت ڈھیلی ہونے کی وجہ سے یہ ریاستیں اس کے ہاتھ سے نکل گئیں بلکہ اسی جنگ کے نتیجے میں امریکہ نے نہ صرف ویت نام میں سوویت یونین کے ہاتھوں ہزیمت اٹھائی تھی اس کا بدلہ امریکہ نے ہمارے کاندھوں پر بندوق رکھ کر چکا یا اور وہ عالمی سطح پر واحد طاقت کی حیثیت اختیار کر کے آج دنیا بھر میں مسلمان ملکوں کے اندر جابجا سازشوں کے تانے بنتا اور مسلمان ممالک کو ایک دوسرے سے لڑا کر ان کی قوت کو کمزور سے کمزور تر کرنے میں مصروف ہے ، جبکہ بقول خواجہ آصف یہ مسلمان ممالک اسلام دشمن قوتوں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں ، چاروں اور نگاہ ڈالنے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اس وقت مسلمان ممالک آپس کی دشمنیوں میں الجھ کر اسلام دشمن قوتوں کیلئے ان کے مذموم مقاصد کی تکمیل میں مدد گار اور سہولت کار بنے ہوئے ہیں اور کئی اسلامی ملکوں میں جنگ زدہ عوام کی جو قابل رحم حالت ہے ، ان پر بارود کی بارش نے جہاں سینکڑوں عوام کو لاشوں کے ڈھیروں میں تبدیل کردیا ہے ، عمارتیں کھنڈرات بن چکی ہیں ، اور بچے کھچے لوگ ایک نوالہ روٹی ، پانی تک کیلئے ترس رہے ہیں ، مگر ہمسایہ ملکوں کے بارڈر بند کر کے جو ظلم ان پر روا رکھا جارہا ہے وہ انتہائی عبرتناک اور اسلام کے ان آفاقی اصولوں کے خلاف ہے جن میں ایک مسلمان کو دوسرے کا بھائی قرار دیتے ہوئے ایک ایسے بدن سے تشبیہہ دی گئی ہے جس کے ایک عضو میں درد کو پورا جسم محسوس کرتا ہے ، لیکن یہاں تو صورتحال یہ ہے کہ آج بمشکل ہی کوئی ایک مسلمان ملک دوسرے بر ادر مسلم وطن کے ساتھ مسلم بھائی چارے کی حقیقی روح کے مطابق قریبی تعلقات رکھتا ہو ، شام کے معاملے پر اس کے ہمسایہ مسلم ممالک جس طرح تقسیم کردیئے گئے ہیں اور وہاں پر داعش جیسی تنظیم قائم کر کے قتل و غارت گری کا بازار گرم کیا گیا ، اس کے نتائج پوری دنیا دیکھ رہی ہے ، اس حوالے سے ایک اہم مسلم ملک کی ہاں میں ہاں نہ ملانے اور یمن میں پاکستانی افواج بھیجنے سے انکار پر پاکستان کے خلاف محولہ ملک نے جورویہ اختیار کر رکھا ہے وہ قابل افسوس ہے ، اسی طرح داعش کو جن قوتوں نے تخلیق کیا اور اس کی وجہ سے نہ صرف مظلوم عوام کو بے گناہ قتل کر کے الٹا اسلام کو بد نام کیا ، اس سے پوری دنیا واقف ہے اور اب اسی داعش کو افغان سرزمین پر پہنچا کر جنوبی اشیاء کے خطے میں خون کے دریا بہاتے جارہے ہیں ، یہ بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ، یوں آج سے لگ بھگ چاردہائیاں قبل جس آگ کو اس خطے میں بھڑکا یا گیا ، اب داعش کی مد د سے اس آگ کو افغانستان کے راستے پاکستان کی سرزمین پر بھڑکتے ہوئے شعلوں میں بدلنے کی کوششیں کی جارہی ہیں ، اس لئے وزیر خارجہ نے صورتحال کی درست نشاندہی کی ہے کہ عراق اور شام کے بعد اگلا نشانہ پاکستان ہے ، تاہم پاکستان اب ان قوتوں کی خواہش کو عملی صورت دینے کو تیار نہیں ہے جن قوتوں نے ایک پراکسی وار میں پاکستان کو دھکیلا ، اس صورتحال پر جس قومی بیانیہ کی ضرورت ہے اس اتفاق رائے کیلئے پارلیمانی جماعتوں کو اپنا کردار ادا کرنے میں کوئی پس و پیش نہیں کرنی چاہیئے ۔

اداریہ