جنرل باجوہ کی سینئر اینکرز سے گفتگو

جنرل باجوہ کی سینئر اینکرز سے گفتگو


پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ روز سینئر اینکرز سے ملکی صورتحال ، علاقائی سلامتی کے معاملات اور عالمی امور پر تفصیلی گفتگو کی اور اپنا نقطہ نظر واضح کیا ، انہوں نے کہا کہ وہ ایک مضبوط پاکستان چھوڑ کرجانا چاہتے ہیں ، فوج سمیت سب کے احتساب پر زور دیتے ہوئے جنرل باجوہ نے کہا کہ وہ ملک میں جمہوریت کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں ، فوج آئین او ر قانون کے ساتھ کھڑی ہے ، انہوں نے کہا کہ سیاستدان اختلافات ختم کر وانے کیلئے کیوں ایجنسیوں سے رابطے کرتے ہیں ، انہوں نے واضح کیا کہ اسلام آبا دکا دھرنا انہوں نے ختم کروایا ، جبکہ بلوچستا ن حکومت ختم کرنے میں فوج کا کوئی کردار نہیں ، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کشمیر میں مسلح جدوجہد کا اب کوئی وجود نہیں ، بھارت سے تعلقات بہتر ہونے چاہئیں ، ملک کو ہتھیاروں سے پاک دیکھنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلحہ صرف ریاست کے پاس ہونا چاہیئے ، انہوں نے فوج کے بجٹ کے حوالے سے بھی بات کی اور کہا کہ اس حوالے سے حقائق سے بات کرنی چاہیئے ۔ افغان امن عمل کی حمایت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بے بنیاد الزام تراشی نہیں ہونی چاہیئے۔ جنرل قمر جاوید باجووہ نے سینئر اینکرز کے ساتھ ملاقات میں جس طرح ملکی ، علاقائی اور عالمی امور پر اپنے خیالات ظاہر کئے ہیں ان سے زمینی حقائق کی نشاندہی ہوتی ہے ، بد قسمتی سے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی حکومت کے خلاف 2013ء کے انتخابات کے بعد جس طرح دھرنوں کی سیاست کا آغاز کیا گیا تب سے ملک کے اندر یہ تاثر قائم کیاگیا کہ جیسے دھرنے والوں کی پشت پناہی میں ایک اہم ادارے کا ہاتھ ہے ، جبکہ نہ اس وقت متعلقہ ادارے کی جانب سے حقیقی طور پر دھرنوں کی حمایت کا کوئی تاثر پیدا ہوا تھا اور نہ ہی آج ایسی کوئی صورتحال موجود ہے جنرل قمر جاوید باجوہ نے واضح طور پر ملک میں مارشل لاء کے امکان کو مسترد کر کے بال ایک بار پھر سیاستدانوں کے کورٹ میں لا پھینکا ہے جو دن رات حکومت کی مخالفت میں اس حد تک بھی جانے کو تیار نظر آتے ہیں کہ خواہ کچھ بھی ہو جائے بس کسی طور حکمران جماعت کو اقتدار سے علیحدہ کر دیا جائے ، اس حوالے سے گزشتہ کئی مہینوں سے مختلف قسم کے شوشے چھوڑے جارہے ہیں جن میں اگر ایک جانب سینیٹ انتخابات پر سوالیہ نشان ثبت کئے جارہے تھے ۔ جو بہر حال اب ان انتخابات کے کامیاب انعقاد سے غلط ثابت ہو چکے ہیں ، تو کبھی وقت سے پہلے حکومت کے جانے کی پیشگوئیاں کی جاتی رہیں ، اور کبھی تین سال کیلئے ٹیکنو کریٹ حکومت کے قیام کی باتیں کی جاتی رہی ہیں ۔ اور ان تمام پیشگوئیوں کا محور اسٹیبلشمنٹ کے مضبوط ادارے کو قرار دینے کا غلط تاثر قائم کرکے عوام کے ذہنوں میں شکوک وشبہات پیدا کئے جارہے تھے ، تاہم آرمی چیف نے اپنے بیان میں یہ کہہ کر ان لوگوں کے پھیلائے ہوئے پروپیگنڈے کو باطل کر دیا ہے کہ فوج سیاست سے الگ ہے اور ملک میں کوئی مارشل لاء نہیں آئے گا ، جنرل باجوہ کی اس وضاحت کے بعد ان سیاسی حلقوں سے گزارش کرنے میں کوئی امر مانع نہیں ہونا چاہیئے کہ وہ اپنے مفروضوں پر مبنی خود ساختہ بیانیہ کو تج کر آنے والے انتخابات پر اپنی توجہ مرکوز کریں ، کیونکہ ان کی غلط بیانیوں سے ملکی سیاسی فضا جس قدر مکدر ہو چکی ہے اس سے ملک میں افہام وتفہیم کی فضا کو شدید نقصان پہنچنے کا احتمال ہے ۔ سیاست کو ان لوگوں نے ذاتی اغراض و مقاصد کیلئے جتنا زہر ناک کرنا تھا اور جس کی وجہ سے ملک میں خانہ جنگی کی سی صورتحال پیدا ہونے کے امکانات پیدا ہو چکے ہیں خدارا وہ اب مزید اس سے باز آجائیں ۔ بد قسمتی سے ملکی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا بھی اس حوالے سے دو حصوں میں تقسیم دکھائی دیتا ہے اور ایک حصہ اگر حکمران جماعت کی حمایت پر آمادہ ہے تو دوسرا حصہ بعض سیاسی جماعتوں کے حکومت مخالف بیانیہ کو حرزجاں بنا کر اپنی تو پوں کے دہانے مقتدر جماعت کی جانب کئے ہوئے الزامات کی بوچھاڑ کئے ہوئے ہے ، جبکہ غیر جانبدار لوگ کم کم ہی نظر آتے ہیں ، اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر فریقین کے حمایتی جس طرح مادرپدر آزاد الزامات کی گولہ باری کر رہے ہیں انہیں دیکھ کر تو انسانیت بھی سر شرم سے جھکانے پر مجبور دکھائی دے رہی ہے ، احترام آدمیت اور شائستگی کا دور دور تک نام و نشان نظر نہیں آتا ۔ سیاسی مخالفت ذاتی دشمنی میں ڈھل چکی ہے ، اور انہیں یہ احساس تک نہیں کہ ہمارے دشمن ہماری آزادی اور خود مختاری کیلئے کس قسم کے چیلنجز پیدا کر کے ہمیں صفحہ ہستی سے مٹانے کے درپے ہیں ۔ مگر ہمیں اس کا کوئی احساس نہیں ہورہا اور ہم ذاتی اغراض و مقاصد کے دلدل میں دھنسے ہوئے باہمی آویزش کو بڑھا وا دینے میں مگن ہیں ۔ اب جبکہ موجودہ حکومت کی مدت ختم ہونے والی ہے اور نئے انتخابات کیلئے نگران حکومتوں کا قیام عمل میں آنے والا ہے ، ہم سیاسی رہنمائوں سے درد مندانہ گزارش کرتے ہیں کہ وہ ذاتی دشمنیوں کی بنیادپر ہونے والی سیاست کو چھوڑ کر ملک وقوم کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلئے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں اور انتخابی میدان میں شائستگی کے ساتھ ایک دوسرے کا سامنا کریں ۔

اداریہ