سینیٹ کے انتخابات اور الزامات

سینیٹ کے انتخابات اور الزامات

ہارس ٹریڈنگ کی اصطلاح جمہوریت کے ساتھ ہی مغرب سے آئی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب عام انتخابات کے بعد وزیر اعظم کے انتخاب سے پہلے منتخب ارکان اسمبلی کو سیاسی پارٹیوں کے قائدین جمع کرتے تھے تاکہ صبح جب اسمبلی کے اجلاس میں وزیر اعظم کا انتخاب ہو توان کے کچھ کبوتر دوسری پارٹی کی چھتری پر بیٹھے نظر نہ آئیں۔ سیدھا اسمبلی میںآئیں اور اپنی پارٹی کے امیدوار کو وزیر اعظم منتخب کریں۔ ان میںوہ ارکان بھی ہوتے تھے جو پارٹی ٹکٹ پر منتخب ہوئے ہوتے تھے۔ دیگر پارٹیوں کے اور آزاد حیثیت سے منتخب ہونے والے ارکان بھی جنہیں رضامند کر لیا جاتا تھا۔ سیاست سے دلچسپی رکھنے والوں کو اب تک چھانگا مانگا ' نتھیا گلی اور مری کے ریسٹ ہاؤس اورہوٹل بھولے نہیں ہیں' جہاں ایسے مواقع پر ارکان اسمبلی کو ٹھہرایا جاتا ، ان کی پرتکلف ضیافتیں کی جاتی تھیں ان کے لیے سامان حظ اور اہل حظ کا بندوبست بھی کیاجاتا تھا۔ تاکہ مخالف پارٹی کسی منتخب نمائندے کو ''خرید'' نہ لے۔ اس خرید و فروخت کو ہارس ٹریڈنگ کہا جاتا ہے۔ سبھی پارٹیوں کو یہ احتمال رہتا تھا کہ ان کے ارکان اسمبلی کو ''توڑ'' یا ''خرید'' نہ لیا جائے۔ اس لیے اٹھارہویں ترمیم لائی گئی۔ آئین کی اٹھارہویں ترمیم کے مطابق پارٹی کے سربراہ کو خواہ وہ خود منتخب نمائندہ نہ ہو ، یہ اختیار دیا گیا کہ اگر درج ذیل تین مواقع میں سے کسی ایک پر پارٹی کا کوئی رکن اس کی مرضی کے خلاف ووٹ دیدے تو پارٹی لیڈر اس کی رکنیت ختم کرنے کے لیے الیکشن کمیشن کو خط لکھ سکتا ہے۔ اور اگر یہ ثابت ہو جائے تو الیکشن کمیشن اس رکن کی رکنیت ختم کرسکتا ہے۔ وہ تین مواقع یہ تھے۔ (١)۔ وزیر اعظم کا انتخاب (٢)۔ بجٹ کی منظوری اور (٣)۔ حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد۔ بجٹ کی منظوری کے لیے اگر اکثریتی ووٹ نہ پڑے تو بجٹ منظور نہیں ہو سکتا اور اس طرح حکومتی پارٹی اقتدار سے محروم ہو جاتی ہے۔
پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن دو بڑی پارٹیاں تھیں۔ (آج بھی ہیں) ان دونوں پر ریسٹ ہاؤسز اور ہوٹلوں کو جگمگانے کا الزام لگتا تھا اوردونوں ہی منتخب ارکان کی ممکنہ بے وفائی سے پریشان رہا کرتی تھیں۔ اٹھارہویں ترمیم متفقہ طور پر منظور ہوئی۔ یعنی سبھی ارکان اسمبلی نے اس کے حق میں ووٹ دیا جن کے بارے میں یہ شک کیا جا سکتا کہ وہ یا ان میں سے چند پارٹی سے وفاداری تبدیل کر سکتے ہیں۔ پارٹی کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والا رکن ایک تو پارٹی کے پروگرام اور منشور کی بنا پر منتخب ہوتا ہے دوسرے وہ اپنے حلقہ انتخاب میں اپنے کردار و افعال اور مقبولیت اور حلقہ کے ووٹروں کی توقعات کی بنا پر بھی ووٹ لیتا ہے۔ لیکن اس ترمیم میں اسے صرف پارٹی کا وفادار سمجھا گیا ہے اور ووٹروں کی امیدوں پر پورا اترنے کی ذمہ داری سے مبرا خیال کیاگیا ہے۔اور اس کی ذاتی رائے کو بھی اس کی پارٹی کی رائے کے تابع سمجھا گیا ہے۔ اس طرح یہ سوال اپنی جگہ قائم رہ جاتا ہے کہ آیا اٹھارہویں ترمیم آزادی اظہار رائے کاتحفظ کرتی ہے یا یہ سمجھتی ہے کہ کسی رکن نے پارٹی کا ٹکٹ لے کر اپنی ذاتی رائے پارٹی کے حوالے کر دی ہے کم از کم ان تین موضوعات کے حوالے سے جن کا ذکر سطور بالا میں کیاگیا ہے۔
اب جب سینیٹ کے انتخابات ہوئے ہیں تو ایک بار پھر ہارس ٹریڈنگ کے الزامات لگائے گئے۔ الیکشن کمیشن نے سینیٹ کے انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کا الزام لگانے والوں کو 14مارچ کو طلب کر لیا ہے۔اور کہا ہے کہ الزامات کے ثبوت ساتھ لائیں۔ ظاہر ہے کہ یہ ثبوت پیش نہیں کیے جا سکیں گے ۔ ووٹ خریدنے کی کوئی رسید نہیں دیتا اور نہ فروخت کرنے والا اقرار کرتا ہے۔ عدم ثبوت کی بنا پر الیکشن کمیشن تو سرخرو ہو جائے گا لیکن خود سیاستدانوں نے اپنے ہی اعلیٰ اور محترم ایوان کی ساکھ کو جو نقصان پہنچایا ہے اس کی تلافی کون کرے گا؟ اب ایوان بالا کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب ہونے والے ہیں ۔ سیاسی جوڑ توڑ عروج پر ہے ۔ مسلم لیگ ن 30ووٹ کے ساتھ باقی مطلوبہ ووٹوں کے لیے اتحادیوں اور آزاد ارکان سے رابطے کر رہی ہے۔ پیپلزپارٹی 20ووٹ کے ساتھ سرگرم ہے ۔ تحریک انصاف کے عمران خان نے اپنے 12یا 13ووٹ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو کی جھولی میں ڈال دیئے ہیں کہ وہ بلوچستان کے آزاد ارکان کو ساتھ ملا کر پیپلز پارٹی کے ساتھ معاملت کریں، شرط یہ رکھی ہے کہ چیئرمین سینیٹ بلوچستان سے اور ڈپٹی چیئرمین فاٹا سے ہو۔ اس طرح پیپلز پارٹی ان ووٹوں کی شمولیت کے بل پر اس پوزیشن میں ہو گی کہ وہ مسلم لیگ ن کی طرح چھوٹی پارٹیوں اور آزاد ارکان سے مزید رابطے کر سکے۔ تاہم دونوں بڑی پارٹیاں اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ اپنی عددی قوت کے بل پر اپنی مرضی کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین منتخب کروا سکیں۔ تادم تحریر دونوں نے امیدواروں کے ناموں کا اعلان نہیں کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ابھی ترغیباتی عمل جاری ہے۔ آئین کے مطابق رائے شماری خفیہ ہوگی۔ نتیجہ جو بھی آئے گا اس میں کوئی پارٹی جیتے گی تو کوئی ہارے گی بھی۔ کیا ایک بار پھر کہاجائے گا ہارس ٹریڈنگ ہو ئی اور کچھ ارکان نے اپنا ووٹ ترغیب وتحریص کی بناپر ڈالا یا ایسے وعدے وعید کی بنا پر ڈالا جن کا اعلان کیا جانا مناسب نہیں سمجھا گیا؟ پارلیمنٹ کا ایوان بالا نہایت محترم ادارہ ہے۔اس کے ارکان پر ہارس ٹریڈنگ کے الزامات عائد کر کے سیاستدانوں نے خود اپنے ہی محترم ادارے کی بے توقیری کی ہے۔ بہتر یہ ہے کہ رائے شماری خفیہ کی بجائے کھلے عام کر دی جائے۔ سینیٹ کے انتخاب میںاٹھارہویں ترمیم کی قدغن بھی حائل نہیں ہے۔ ہر رکن اپنے ضمیر کی آوازکے مطابق رائے دے سکتا ہے ۔ امید کی جانی چاہیے کہ اہل سیاست اس محترم ایوان کی بے توقیری نہیں کریں گے اور عوام نے انہیں جو ووٹ دیا ہے اس کا احترام ملحوظ رکھیں گے۔

اداریہ