دکان اونچی مگر پکوان پھیکا

دکان اونچی مگر پکوان پھیکا

پرویز مشرف حکومت اور ان کے بعد آنیوالی حکومتوں میں ٹیلی کمیونیکیشن کا شعبہ کافی ترقی کر چکا ہے۔ اگر ہم دوسرے ممالک پر نظر ڈالیں تو وہاں پر جو شعبہ ترقی کرتا ہے تو پھراس پراڈکٹ کے ریٹس بھی کم ہو جاتے ہیں مگر یہ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ وطن عزیز میں چیزوں کی قیمتوں میں کمی کے بجائے اس میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ واٹس اپ، میسنجر اور آئی ایم او کی وجہ سے بین الاقوامی کالز کرنے میں آسانی پیدا ہوئی ہے مگر یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اندرون ملک لوکل کالز کے ریٹس انتہائی زیادہ ہیں۔ ماضی میں ایک خاندان کا پی ٹی سی ایل کا ایک مہینے کا خرچہ 600 یا 700 روپے ہوا کرتا تھا مگر اب ایک دن میں 6 فیملی ممبر یعنی ایک خاندان کا یہی خرچہ ہوتا ہے۔ اس وقت وطن عزیز میں 140 ملین یعنی 14کروڑ سیل فونز صارفین ہیں۔ ہم غور کریں تو 100روپے کے ایک کارڈ یا ایزی لوڈ میں جو کٹوتی کی جاتی ہے جس میں سروس چارجز، ودہولڈنگ ٹیکس اور جی ایس ٹی شامل ہوتا ہے۔ تھوڑی سی بات کرنے کے بعد بیلنس ختم ہو جاتا ہے۔ میرا ان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں کے مالکان سے سوال ہے کہ جو 76 یا 77روپے جمع ہو جاتے ہیں ہمیں یہ کمپنی والے کس طرح فونز کرنے کی سہولت دیتے ہیں۔ صارف کو تو کوئی پتہ نہیں چلتا کہ پیسے کس طریقے سے کا ٹے گئے۔ اس کا ایک خاص پیمانہ ہونا چاہئے تاکہ صارف مطمئن ہو اور اس کو بھی پتہ ہو کہ مجھ سے کیا کٹوتی کی گئی اورمجھے کیا سروسز مہیا کی گئیں۔ موبائل فون صارف کو کوئی پتہ نہیں چلتا کہ پیسے کس طریقے سے کاٹے جاتے ہیں۔ اس کیلئے صارف کے پاس بھی کوئی پیمانہ ہونا چاہئے تاکہ بات چیت کے دوران اچانک اس کی کال بند نہ ہو۔ آج کل جو بجلی میٹر لگائے جاتے ہیں وہ ماضی کی بجلی میٹروں کی طرح نہیں ہیں، یہ میٹرز بہت تیز چلتے ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ صارفین کے منٹ اور سروسز کو کنٹرول کرنیوالا جو آلہ ہے وہ دور جدید کے بجلی میٹروں کی طرح ہے۔ اگر ہم مزید غور کریں تو پاکستان میں انٹرنیٹ استعمال کرنیوالوں کی تعداد 30ملین یعنی 3کروڑ ہے۔ اسی طرح مختلف کمپنیوں کی انٹرنیٹ یو ایس بی کی برانڈ بیند سپیڈ زیادہ تیز ہے مگر بہت مہنگی ہیں۔ میں ایک کمپنی کی فورجی انٹرنیٹ یو ایس بی استعمال کر رہا ہوں مگر مجھے سمجھ نہیں آتی کہ اس میں جتنا جی بی ڈیٹا ہوتا ہے وہ اتنی جلدی کیوں ختم ہو جاتا ہے اور اس کے ناپنے کیلئے ہمارے پاس کوئی فارمولا بھی نہیں۔ اگر ان کمپنیوں کے مطابق یہ پیمانہ ٹھیک ہے تو پھر یہ زیادہ پیسوں میں ہمیں کم سروسز دے رہے ہیں اور اس طرح 1500روپے کا پیکج بہت جلدی ختم ہو جاتا ہے۔ انٹرنیٹ سروس فراہم کرنیوالی کمپنیوں کو چاہئے کہ جس طرح انہوں نے سپیڈ کنٹرول کرنے کیلئے نظام بنایا ہوا ہے اس کو مزید بہتر کریں کیونکہ میرے خیال میں 1500روپے میں جو پیکج دیا جاتا ہے وہ کم ہے۔ مختلف انٹرنیٹ کمپنیوں کو چاہئے کہ وہ صارفین کے انٹرنیٹ کو کنٹرول کرنیوالے مشینوں کو آہستہ کریں۔ اس وقت حکومت کو ٹیلی کام شعبے سے 446 ارب روپے کی آمدنی ہو رہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیاں اتنے زیادہ پیسے نہ کمائیں اور اپنے صا رفین کوکند چھری سے ذبح نہ کریں۔ ساتھ ہی حکومت پاکستان اور ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو چاہئے کہ وہ ان کمپنیوں پر چیک رکھیں۔ موبائل ٹاور یا کھمبے جو آبادی کے اندر لگائے گئے ہیں ان کو آبادی والے علاقوں سے نکال کر کھلی جگہوں پر لگانا چاہئے تاکہ اس کی ریڈی ایشن سے لوگ محفوظ رہیں۔ برطانیہ کے سائنس دانوں نے موبائیل فونز کے کھمبوں پر اپنے تحقیقی مقالوں میں لکھا ہے کہ یہ شعائیں 1مربع کلو میٹر فاصلے تک جاندار اشیاء کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اندرا پراشتا آپالو ہسپتال نیو دہلی کے کینسر کے سرجن پروفیسر سامیر کاؤل کہتے ہیں کہ بچے جن کی کھوپڑی کمزور اور باریک ہوتی ہے اس پر موبائل ٹاور کی شعاؤں کے ز یادہ اثرات پڑتے ہیں۔ کینسر تحقیق سے متعلق عالمی ادا رے (IARC) کے مطابق موبائل فونز کھمبوں سے جو شعائیں نکلتی ہیں زیادہ حد تک یہ امکان ہے کہ یہ جانداروں میں دماغ کے کینسر کا سبب بنتی ہے۔ عالمی ادارہ انٹرفون نے 13ممالک کے افراد پر 10سال تک تحقیق کی اور اس تحقیق کے مطابق جو لوگ 2گھنٹے موبائل فونز کا استعمال کرتے ہیں ان میں 5117 افراد کے دماغ میں رسولی ہوئی۔ دہلی ہائی کورٹ نے آبادی والے علاقوں میں موبائل ٹاور کا سختی سے نوٹس لیا اور حکم دیا کہ رہائشی علاقوں سے موبائل ٹاور فوری ہٹائے جائیں، بھارت کے سابق وزیراعظم من موہن سنگھ نے موبائل کھمبوں کے منفی اثرات معلوم کرنے کیلئے وزارتی کمیٹی بنائی تھی۔ وزارتی کمیٹی کی ہدایات کی روشنی میں بھارتی وزیراعظم نے حکم دیا تھا کہ رہائشی علاقوں اور پبلک مقامات پر موبائل ٹاور نہ لگائے جائیں اور جو پہلے سے لگے ہیں وہ فی الفور ہٹائے جائیں۔ اگر بھارت کی سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ نے موبائل کھمبوں پر پابندی لگائی ہے تو لازمی انہوں نے یہ فیصلہ آنکھیں بند کرکے تو نہیں کیا۔

اداریہ