Daily Mashriq


شطرنجی بساط پرچوسر

شطرنجی بساط پرچوسر

ویسے بات تو فرحت اللہ با بر نے درست فرمائی ہے کیوں کہ اب تک جو منظر نا مہ ابھر ا ہے وہ اس کھیل سے مما ثل نہیں ہو پا رہا ہے جس کے لیے غیر مرئی قوتیں بر سرپیکا ر ہیں۔ یو ں تو بلو چستا ن میں تبدیلی سے ہی مستقبل کے کھیل کا اند ازہ ہو چلا تھا تاہم وہ مراد بر نہیں آئی جس کے ذریعے حکومتی پارٹی کی اکثریت کو مٹایا جا سکتا۔ آصف زرداری کے بارے میں یہ تاثر عام ہے کہ وہ شطر نج کی بساط بچھا کر چوسر کا کھیل کھیل جا تے ہیں اور سب کو دم بخود کر دیتے ہیں۔ سینٹ کے انتخابات کے نتائج بھی اس امر کی گواہی دے رہے ہیں ، اسی طر ح انہو ں نے سابق پاکستانی سفیر برائے امر یکا حسین حقانی کے ذریعے جو پنگاہ لیا تھا اس وقت بھی وہ نو از شریف کی طر ح پیٹ نہیں گئے تاہم ڈاکٹر عاصم کی گرفتا ری بھی ہلچل پیدا نہ کر سکی اور انہوں نے نو از شریف کی طر ح باغی ہو نے کا اعلا ن کر کے خود کو ایسا وفادار بنا دیا کہ سینٹ کے انتخابات خود بول اٹھے کہ آئندہ مستقبل کیاہو گا لیکن اب نو از شریف بھی منجھ گئے ہیں ۔ گو سینٹ کے انتخا بات سے پہلے ہی با ت کھل گئی تھی کہ پی پی اور تحریک انصاف کا کیا کر دار ہوگا انہی کا لم میں کا فی پہلے اس کو ذکرکیا جا چکا ہے کہ وارثین پا کستان چاہتے ہیں کہ مسلم لیگ ن کی سینٹ میں اکثریت نہ ہو پا ئے تاکہ عام الیکشن سے پہلے ایسا کوئی قانو ن نہ بن پائے جس کے ذریعے نو از شریف فائد ہ پا جا ئیں۔ اس سب کا وشو ں کے با وجو د مسلم لیگ کو گہن نہ لگا یا جا سکا تو اب دوہر ی شہر یت کا شو شا چھو ڑ دیا گیا ہے، حالا نکہ الیکشن کمیشن کو چاہیے تھا کہ وہ کا غذات نا مزدگی کی وصولی کے وقت ہی اس امر کا تعین کر لیتا کہ دوہر ی شہریت رکھنے والاکوئی امید وار موجو د تو نہیں ہے ۔جیسا کہ محولہ بالاذکر کیا گیا ہے کہ سینٹ کی شطرنج جس انداز سے سجائی گئی تھی اس کے بارے میں ایک معا عصر نے بھی انکشاف کیا تھا کہ ایم کیو ایم کا رخنہ ظاہر ی ہے تاکہ مسلم لیگ ن کو انتخابی ضعف پہنچے ، جیسا کہ پی پی کے ساتھ این آراو سے اندازہ ہو رہا ہے کہ سینٹ میں پی پی کے نمائند و ں کو زیا دہ تعداد میں کا میا ب کر انے کی غرض بھی یہ ہی تھی جس کے لیے ایم کیو ایم کی گروپ بندی سے کا م لیا گیا ۔ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ایم کیو ایم بھی اب قریب ساتھیو ں میں شما ر ہو نے والی ہے اور بعض حلقو ںکو تجویز دی گئی ہے کہ الطا ف حسین کی بجائے افضا ء الطا ف حسین کو قائد قرا ر دیدیا جا ئے جس کے نتیجے میں ایم کیو ایم کے تما م دھڑے یکجا ہوسکتے ہیں ۔آصف زرداری جن کو اس امر پر نا ز ہے کہ دنیا تسلیم کر تی ہے کہ وہ با د شا ہ ہی نہیںبادشا ہ گر بھی ہیں مگر ان کے یہ گر سینٹ کے چیئر مین کے انتخا ب میں چوٹ کھا گئے اور نو از شریف نے سیا ست میں آصف زرداری سے جیت حاصل کر لی اس طر ح وارثان پا کستان گر وپ کو ایک نئی مصیبت میں مبتلا کر دیا ہے اور وہ بھی چند الفا ظ کی ادائیگی کے ساتھ کہ سینٹ کے لیے رضا ربانی کا نا م لے دیا۔ وہ جانتے تھے کہ آصف زرداری اس نا م کو قبول نہیںکر یں گے ، اس لیے کہ آصف زر داری اور رضا ربانی کے درمیان کوئی اختلا ف ہے بلکہ نوا زشریف جا نتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کو رضا ربانی قابل قبول نہیں ہیں اس لیے وہ قبول نہیںکر پائیں گے جس سے پی پی کے اند ر ایک نیا پنڈورا بکس کھول جا ئے گا۔پی پی کوسینٹ کے چیئر مین کی نشست جیتنے کے لیے تحریک انصاف کے ووٹو ں کی ضرورت ہے اور آصف زرداری کو یقین ہے کہ ایک انگلی کے اشارے پر یہ ووٹ ان کو حاصل ہو جائیں گے چنا نچہ اس امر کی یقین دہا نی چیئر مین پی ٹی آئی کے فیصلے سے ہو گئی کہ انہوں نے بلو چستا ن کے وزیراعلیٰ کے بر قعے میں تحریک انصاف کے سینیٹر پی پی کو پیش کر دیے ، وہ یہ کھیل براہ راست نہیں کھیل سکتے تھے کیو ں کہ انہو ں نے مسلم لیگ ن اور پی پی کو دشنام طر از ی میں ہمیشہ ایک ہی پلیٹ فارم پر کھڑ ا کیا ہے ۔ عمر ان خان نیا زی نے پہلے اپنے سینیٹروں کو وزیراعلیٰ ٰبلو چستان کا بر قع پہنا یا بعد ازاں پارٹی کی کو ر کمیٹی کا اجلا س طلب کر کے یہ تاثر دیا کہ تحر یک انصاف کے سینیٹر مسلم لیگ ن اور پی پی کو ووٹ نہیں دیںگے مگر ان کی جانب سے بلوچستان اور فاٹا سے امید وار لانے کی شرط نے پی پی کے لیے لانجھا کھڑ ا کر دیا ہے۔ آصف زرداری کو اس سے غرض نہیںہے کہ چیئر مین سینٹ پی پی کی گر فت میں ہو یا نہ ہو تاہم وہ چاہتے ہیں مسلم لیگ ن یا پی ٹی آئی کی گر فت میں نہ ہو چنا نچہ وہ ایسے نا م پر راضی نظر آتے ہیں جس کو پیا چاہے ۔ پیا بلو چستان سے حاصل بزنجو کو قبول نہیں کر یں گے ، سیاسی جغا دریو ں کا کہنا ہے کہ اگر پی پی کا امید وار سینٹ کا الیکشن جیت گیا جو پی ٹی آئی کے ووٹو ں سے ہی ممکن ہے تو یہ عمر ان خان کے لیے ایک بہت بڑی سیا سی ناکامی کا باعث ہو گا کیو ں کہ اس سے امپائر کی انگلی کی نشا ندہی ہو جا ئے گی ، عمر ان خان سیا سی سو جھ و بو جھ سے کا م لیتے تو خو د کو سینٹ کے چیئر مین کے انتخابات سے الگ کر لیتے توبہتر ہو تا مگر ایسا محسو س ہو رہا کہ شادی کے بعد پے درپے سیاسی نا کا میو ں کی وجہ سے وہ یاسیت کا شکا ر ہو چلے ہیں ، کندھے اب سیاسی بو جھ اٹھانے سے مضمحل نظر آنے لگے ہیں کیوں کہ وہ تما م ضمنی انتخا بات کے نتائج اور سینٹ کے انتخابات سے یہ نتیجہ اخذ کر چکے ہیں کہ مسلم لیگ ن کی عام انتخا بات پر گرفت ڈھیلی نہیں پڑ ی ہے بلکہ مضبوط تر ہو تی جا رہی ہے ۔پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن کے جلسے بھی اب اس امر کی غما زی کر نے لگے ہیں کہ دونو ں کی تفریق سے نہ تو اغما ض برتا جا سکتا ہے اورنہ ہی اغما ز ہو سکتا ہے ۔

متعلقہ خبریں