Daily Mashriq

مودی جی! خطے کے لوگوں پر رحم کھائیے

مودی جی! خطے کے لوگوں پر رحم کھائیے

پاک بھارت کشیدگی میں کمی لانے کیلئے ازبس ضروری ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اپنی انتخابی سیاست کو پانی پت کا میدان بنا کر پیش کرنے کی بجائے سنجیدگی کیساتھ خطے کے لوگوں بالخصوص بھارت اور پاکستان کو درپیش ان مسائل کو مدنظر رکھیں جن سے صرف نظر کی وجہ سے مختلف طبقات کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں۔ حالیہ دنوں کی ابتر صورتحال میں پاکستان نے جس تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کیا وہ نہ صرف قابل ستائش ہے بلکہ اس میں بھارت کی سول وملٹری قیادت کیلئے یہ پیغام بھی ہے کہ جنگی جنون کے بڑھاوے سے تعمیرنو کا عمل متاثر ہوتا ہے بلکہ اس سے فاصلے کم کرنے کی سنجیدہ کوششوں کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے۔ خاکم بدہن اگر زمینی حقائق اور مسائل سے چشم پوشی کیساتھ مودی سرکار نے اپنے سیاسی ایجنڈے کی ناکامی سے توجہ ہٹانے کیلئے جنگی جنون کو ایڈونچر میں بدلنے کی کوشش کی بھی تو اس کے نتائج کسی کیلئے بھی بہتر نہ ہوں گے۔ ماضی کی باقاعدہ اور غیراعلانیہ پاک بھارت جنگوں کے نتائج کسی سے مخفی نہیں۔ یہ امر بھی بجا ہے کہ اگر بھارت نے اپنے طرزعمل اور دیگر معاملات پر نظرثانی نہ کی تو حالات مزید بگڑیں گے۔ یہاں اس امر کی طرف توجہ دلانا ضروری ہے کہ کیا پاکستان اور بھارت کے محنت کش طبقات کے خون پسینے کی کمائی جنگی ساز وسامان بنا کر فروخت کرنے والے اداروں کے مالکان کی قسمت میں لکھ دی گئی ہے؟ محنت کش طبقات کی کمائی اور محنت ہر دو کو اگر علم‘ ترقی‘ تحقیق کے میدانوں میں استعمال کیا جائے تو خطہ ایک بار پھر دنیا میں وہ مقام حاصل کر سکتا ہے جب یہ تہذیبی ومادی وسائل سے مالامال خطے کے طور پر معروف تھا۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ حالیہ کشیدگی کے آغاز پر دونوں ممالک کے ہائی کمشنر صاحبان ہنگامی صورتحال میں صلاح مشورے کیلئے اپنے اپنے ملک آئے ہوئے تھے وہ گزشتہ روز فرائض منصبی ادا کرنے کیلئے اپنے ممالک سے تعیناتی کے مقامات کیلئے روانہ ہوگئے۔ ہفتہ کو چینی وزارت خارجہ نے ایک بار پھر پاکستان اور بھارت کو تلخیاں بھلا کر اچھے تعلقات استوار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ادھر یورپی یونین کی پارلیمنٹ کے 40ارکان نے وزیراعظم عمران خان اور بھارتی وزیراعظم کے نام اپنے خط میں پاک بھارت کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری مذاکرات پر زور دیا ہے۔ خط میں ایل او سی پر کشیدگی کو خطرناک قرار دیتے ہوئے دونوں ممالک سے حالات معمول پر لانے کیلئے اقدامات کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ پاک بھارت کشیدگی کے حالیہ دنوں میں ماسوائے نریندر مودی ان کے اقتدار پرست ہمنواؤں اور انتہا پسند ہندو تنظیموں کے علاوہ شاید ہی کسی نے مودی سرکار کے جنگی جنون کو درست قرار دیا ہو، خود بھارتی حزب اختلاف کے رہنما تواتر کیساتھ یہ کہتے چلے آرہے ہیں کہ محض انتخابی نتائج چرانے کیلئے جنگ کا طبل بجانے والے مودی بھارت اور انسانیت پر ترس کھائیں۔ بھارتی اہل دانش کی متفقہ رائے یہ ہے کہ نریندر مودی نے اقتدار میں آنے سے قبل قومی تعمیرنو کے حوالے سے عوام کو جو خواب دکھلائے تھے وہ چکناچور ہوچکے۔ بھارت کے متوسط اور کچلے ہوئے طبقات پر یہ تلخ حقیقت عیاں ہوچکی ہے کہ بی جے پی عوامی فلاح وبہبود کے ایجنڈے پر نہیں بلکہ سرمایہ دار اشرافیہ کے مفادات کے تحفظ کیلئے اقدار میں آئی تھی۔ بھارت کی صورتحال کا بغور جائزہ لیا جائے تو حقیقت بھی یہی ہے اپنے سرمایہ دار انوسٹروں کے مفادات کے تحفظ کیلئے پچھلے پانچ سالوں کے دوران مودی حکومت سے جو بن پایا وہ کیا گیا، عوام دشمن اقدامات سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کیلئے ایک منصوبے کے تحت ہندوتوا اور انسانیت کشی کے پروگرام کو آگے بڑھایا گیا۔ مذہبی اور طبقاتی بالادستی کے جنون کو پرتشدد کارروائیوں میں بدلنے کا مقصد یہی تھا کہ بھارتی عوام کے مختلف مذہبی وسماجی طبقات کو اپنی پڑی رہے تاکہ وہ اپنی حکومت کی نالائقیوں پر توجہ دے سکیں نہ انہیں یہ سوال کرنے کا موقع مل سکے کہ جس قومی ترقی‘ برابری اور وسائل واختیارات میں عام آدمی کو شریک کرنے کے وعدے پچھلے انتخابی عمل سے قبل کئے گئے تھے وہ کیا ہوئے۔ یہ بجا ہے کہ بظاہر نریندر مودی کی انتہا پسندانہ پالیسیوں، رویوں اور آگ لگا دینے والی تقاریر سے بی جے پی کے شدت پسند ماحول پر چھائے ہوئے ہیں مگر اسی صورتحال کے درمیان یہ امید افزا خبریں بھی سامنے آرہی ہیں کہ بھارت میں انتخابی نتائج کے حوالے سے کروائے گئے مختلف سروے مودی حکومت کی پالیسیوں کی ناکامی اور جنگی جنون کو مفاد پرستی قرار دے رہے ہیں۔ سروے رپورٹس کے نتائج ہی وزیراعظم مودی کے خواب چکنا چور ہونے کی نشاندہی کر رہے ہیں بوکھلاہٹ میں وہ جس راستے پر چل پڑے ہیں اس پر چلنے سے بھارت کے لوگوں کی کوئی خدمت نہیں کر پائیں گے بلکہ اپنی تندمزاجی اور پاکستان دشمنی کے سودے فروخت کرکے وہ ایسے مسائل پیدا کر جائیں گے جن پر اگلے ادوار میں قابو پانا مشکل ہو جائے گا۔ تصادم کی بجائے مذاکرات پر زور دینے والے عالمی رہنماؤں‘ تنظیموں اور ممالک کی درخواستوں پر ٹھنڈے دل سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ دنیا کے مختلف خطوں میں پھیلی ایک دہائی کے دوران ہونے والی جنگوں کے نتائج سب کے سامنے ہیں ان جنگوں سے خزانوں کی بارش ہوئی نہ ترقی کے راستے کھلے بلکہ جنگ سے متاثرہ علاقوں میں غربت‘ عدم تحفظ اور دیگر مسائل نے ڈیرے ڈال لئے۔ سو ارب سے زیادہ آبادی والے ملک بھارت میں تو جنگ کے بغیر ہی غربت‘ جہالت‘ چھوت چھات‘ ذات برادری کے تعصبات‘ مذہبی انتہا پسندی اور دوسری ناہمواریوں کا جادو سر چڑھ کربول رہا ہے۔ جنگ مسائل کاحل ہرگز نہیں اسی طرح پاک بھارت اختلافات بھی میدان جنگ میں طے نہیں ہوں گے۔ درپیش مسائل کا حل نظام کی بہتری عوام کیلئے ٹھوس اقدامات میں ہے اور پاک بھارت اختلافات کو طے کرنے کی جگہ میدان جنگ نہیں مذاکرات کی میز ہے۔ تلخ سچائی یہ ہے کہ جنگ کی تباہ کاریوں کے بعد بھی مذاکرات ہی کرنا ہوں گے تو کیوں نہ مذاکرات کا راستہ اب اختیار کیا جائے تاکہ دوریاں اور نفرتیں ختم ہوں اور بہتر تعلقات کار کی بنیاد رکھی جائے۔

متعلقہ خبریں