Daily Mashriq


پاک ایران اعلیٰ سطحی رابطہ

پاک ایران اعلیٰ سطحی رابطہ

ہفتہ کے روز وزیراعظم عمران خان نے ایران کے صدر حسن روحانی سے ٹیلی فون پر خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا دونوں ملکوں نے انسداد دہشتگردی کیلئے انٹیلی جنس تعاون پر اتفاق کیا۔ ایرانی صدر نے دوٹوک انداز میں کہا کہ کسی تیسرے فریق کو ہمارے درمیان تاریخی اور غیرمعمولی تعلقات کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ پاک ایران اعلیٰ سطحی رابطہ نہ صرف خوش آئند ہے بلکہ اس سے ان عناصر اور قوتوں کی حوصلہ شکنی ہوگی جو حالیہ پاک بھارت کشیدگی میں ایران کو بھارت کا اتحادی بنا کر پیش کر رہے تھے تاکہ دو بااعتماد دوست ممالک میں فاصلے بڑھیں اور ان سے وہ پاکستانی سماج میں اپنے مذموم عزائم کی تکمیل میں فائدہ اٹھا سکیں۔ افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر حکمران جماعت کے حامیوں کی بڑی تعداد پاک ایران تعلقات کی تاریخ سے عدم آگاہی پر ایسے ایسے شوشے چھوڑنے میں مصروف ہے جس سے پاکستان کی سماجی وحدت کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ پاک ایران دوستی نہ صرف تاریخ ساز بلکہ مثالی ہے ایران نے پاکستان کو سب سے پہلے تسلیم کیا اور اقوام متحدہ کی رکنیت کیلئے بھرپور حمایت کی۔ 1965ء اور 1971ء کی جنگوں کے دوران ایران نے مصلحتوں میں پڑے بغیر کھل کر پاکستان کو سپورٹ کیا، 65ء کی جنگ میں عالمی سطح پر پاکستان کا مقدمہ ایران اور انڈونیشیا نے پیش کیا، بدقسمتی سے بعض عناصر اپنی روزی روٹی کیلئے مختلف برادر اسلامی ممالک کے بارے میں بے پرکیاں اُڑاتے رہتے ہیں۔ اصولی طور پر یہ حکومت کا فرض ہے کہ وہ نہ صرف ایسے عناصر پر نظررکھے بلکہ دوست ممالک کیخلاف زہریلے پروپیگنڈے میں مصروف افراد اور گروہوں کیخلاف قانونی کارروائی کرے،ایٹمی دھماکوں کے وقت ایران ان دو تین برادر مسلم ممالک میں شامل تھا جس نے پاکستان کی مالیاتی بحران سے نکلنے کیلئے غیرمشروط مدد اسکے باوجود کی کہ وہ امریکی پابندیوں کا شکار تھا، زہریلے پروپیگنڈے سے بنائی جانیوالی مذموم فضا میں پاک ایران اعلیٰ سطحی رابطہ حوصلہ افزاء ہے اس سے امن دشمن قوتوں کی حوصلہ شکنی ہوگی

نیشنل ایکشن پلان پر مشاورت کیلئے قومی قیادت کو دعوت

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل کا فیصلہ قومی مفاد میں کیا گیا۔ انہوں نے وزیراعظم عمران خان کی طرف سے حزب اختلاف کے قومی رہنماؤں کو دعوت دیتے ہوئے کہا کہ آئیں ملکر بیٹھیں اور نیشنل ایکشن پلان کے حوالے سے اپنی آراء دیجئے، حکومت تعمیل کرے گی۔ نیشنل ایکشن پلان پر عمل اور اس حوالے سے اپوزیشن کو مل بیٹھنے کی دعوت خوش آئند ہے۔ انتہا پسندی اور غیرریاستی عسکریت پسندی کی کوئی شکل کسی بھی سماج اور نظام میں قابل قبول نہیںہوتی۔ عوام الناس یہ امید کر رہے ہیں کہ شدت پسندوں اور کالعدم عسکری تنظیموں کیخلاف حکومت نے حال ہی میں جو اقدامات شروع کئے ہیں یہ وقتی ہرگز نہیں ہوں گے بلکہ طویل المدتی حکمت عملی وضع کی جائے گی تاکہ اس امر کو یقنی بنایا جاسکے کہ مستقبل میں نئے سرے سے اصلاحی وقانونی اقدامات کی ضرورت نہ پڑے۔ ہماری دانست میں قومی رہنماؤں کو مشاورت کیلئے دی گئی حکومتی دعوت قبول کرلینی چاہئے یہ کسی ایک فرد، طبقے یا جماعت کا نہیں 22کروڑ پاکستانیوں کا ملک ہے اس کا حال اور مستقبل اجتماعی توجہ کے طالب ہیں۔ قومی قائدین کو مل بیٹھ کر اس امر پر غور کرنا چاہئے کہ ماضی میں نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل کیوں نہ ہوسکا اور اب ایسے کیا اقدامات اٹھائے جانے چاہئیں جن سے حالیہ اقدامات تعطل کا شکار نہ ہوں۔ یہاں ہم حکومت سے یہ بھی درخواست کریں گے کہ وہ شدت پسندوں اور کالعدم عسکری تنظیموں کے سہولت کاروں کیخلاف بھی قوانین کے مطابق کارروائی کرے اور اس امر کو بھی مدنظر رکھے کہ کسی ٹھوس اصلاحی پروگرام کے بغیر معاشرے سے شدت پسندی کا خاتمہ ممکن نہیں۔ بہت ضروری ہو گیا ہے کہ جدید وقدیم درسگاہوں کے نصاب ہائے تعلیم کو ازسرنو مرتب کیا جائے۔ سماجی وحدت واخوت کے منافی کسی فہم کی کسی بھی سطح پر حوصلہ افزائی نہ کی جائے۔ ہمیں امید ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر قومی رہنماؤں سے مشاورت کی دعوت محض لفاظی نہیں ہوگی بلکہ حقیقی معنوں میں اس پر عمل بھی ہوگا اور قومی رہنما بھی ملک کے وسیع تر مفاد میں حکومت کی دعوت قبول کرلیں گے۔

متعلقہ خبریں