Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

حضرت ابوبکر صدیقؓ نے مسند خلافت پر متمکن ہونے کے بعد مجمع عام میں سب سے پہلی تقریر پرجو فرمائی، وہ اپنی سادگی، اثراندازی اور جامعیت میں بے مثال تھی، اس سے یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ ایک حاکم کی حکومت کی پالیسی کیا ہونی چاہئے، آپؒ نے فرمایا: ’’اے لوگوں! بخدا، میں نے کبھی خفیہ یا اعلانیہ حکومت کی تمنا نہیں کی، میں تم پر حاکم بنایا گیا ہوں، درآں حالیکہ میں تم سے بہتر نہیں ہوں، اب تمہارا فرض یہ ہوگا کہ اگر میں اچھا کام کروں تو میری اطاعت کرو، لیکن اگر میں ٹیڑھا ہو جاؤں تو مجھے سیدھا کرو۔ یاد رکھو! سچائی امانت ہے اور جھوٹ بددیانتی ہے، تم میں سے کمزور ترین آدمی بھی میرے نزدیک طاقتور ہے، جب تک کہ میں اس کا حق اسے نہ دلوادوں اور تم میں سے قوی ترین شخص بھی میرے نزدیک کمزور ہے جب تک کہ میں اس سے دوسروں کا حق حاصل نہ کر لوں، یاد رکھو! جو قوم خدا کی راہ میں جہاد کرنا چھوڑ دیتی ہے رب تعالیٰ اسے ذلیل وخوار کر دیتے ہیں اور جس قوم میں بدکاری پھیل جاتی ہے، خدا اسے کسی مصیبت میں گرفتار کر دیتا ہے۔

(سچی اسلامی کہانیاں، ص 10)

عثمان بن سردارؒ فرماتے ہیں کہ میری والدہ بہت عبادت گزار تھیں، ان کے دن رات یاد الٰہی میں بسر ہوتے تھے۔ ایک مرتبہ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہ آسمان کی طرف ہاتھ اُٹھا کر دعا مانگ رہی تھیں اور کہہ رہی تھیں: اے میرے آقا! موت کے وقت مجھ کو شرمندہ نہ فرمائیے گا، قبر میں میرے لئے سامان وحشت نہ پیدا کیجئے گا۔ جب ان کا انتقال ہوا تو میں نے ایک روز خواب میں والدہ کو دیکھا، میں نے پوچھا کیا حال ہے؟ اس پر انہوں نے فرمایا: اے میرے بیٹے! موت کی تکلیف بہت سخت ہوتی ہے، اس سے مجھ کو بھی گزرنا پڑا ہے، پھر اس کے بعد سے تو میں آرام میں ہوں۔ میں نے دریافت کیا: آپ کو کسی چیز کی ضرورت ہے؟ اس پر والدہ نے فرمایا: ہاں! میرے لئے دعا برابر کرتے رہئے، اس چیز سے بڑا سکون وآرام ملتا ہے۔

(کچھ دیر اہل حق کیساتھ، صفحہ، 110)

حضرت خبیب عجمیؒ انتقال کے وقت بہت ہی گھبرا رہے تھے، کسی نے عرض کیا کہ آپ جیسے بزرگ اور ایسی گھبراہٹ؟ فرمانے لگے سفر بہت لمبا ہے تو شہ خرچ پاس نہیں ہے، کبھی اس سے پہلے اس قسم کا راستہ نہیں دیکھا، آقاؐ کی زیارت کرنی ہے، کبھی اس سے پہلے زیارت نہیں کی، ایسے خوفناک منظر دیکھنے ہیں جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھے، مٹی کے نیچے اکیلے ہی قیامت تک رہنا ہے، کوئی انس پیدا کرنے والا وہاں نہیں ہوگا اور کوئی ساتھی ساتھ نہیں ہوگا، پھر اس کے بعد حق تعالیٰ کی بارگاہ میں کھڑا ہونا ہے، مجھے یہ ڈر ہے کہ وہاں یہ سوال ہوگیا کہ خبیب! ساٹھ برس میں ایک تسبیح بھی ایسی پیش کردے جس میں شیطان کا کوئی دخل نہ ہو تو اس کا کیا جواب دوں گا؟ جی ہاں! یہ اس شخص کے خیالات ہیں جن کا ساٹھ برس کی عمر میں ذرا بھی دنیا کی طرف جھکاؤ نہیں ہوا۔ ایک ہم ہیں کہ گناہ کرتے ہیں اور ایسے بے فکر رہتے ہیں۔ (قبر کی پہلی رات ، ص126)

متعلقہ خبریں