Daily Mashriq


صلح کرلو یگانہ غالب سے

صلح کرلو یگانہ غالب سے

وہ ایک ضرب المثل ہے نا کہ نہ کھیڈاں گے نہ کھیڈن دیاں گے‘ یعنی نہ خود کھیلیں گے نہ ہی کسی اور کو کھیلنے دیں گے، تو وہ ان دنوں خیبر پختونخوا اسمبلی کی خواتین ارکان پر پوری اُترتی دکھائی دے رہی ہے‘ خبر یہ ہے کہ صوبائی کابینہ میں خاتون وزیر کی شمولیت کا مسئلہ درپیش ہے اور اب تک یہ بیل منڈھے اس لئے نہیں چڑھ سکی کہ خاتون وزیر کی کابینہ میں شمولیت کی راہ میں خود خواتین ارکان اسمبلی ہی رکاوٹ بن رہی ہیں۔ یہ انکشاف بھی کسی اخباری یا میڈیا رپورٹر نے نہیں بلکہ اسمبلی میں تحریک انصاف ہی کی خاتون رکن صوبائی اسمبلی سمیرا شمس صاحبہ نے مشرق ٹی وی کے پروگرام ’پوختنہ‘ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پارٹی قیادت اور وزیراعلیٰ نے خواتین ایم پی ایز کو اختیار دیا ہے کہ آپس میں فیصلہ کرلیں اور کابینہ میں شمولیت کیلئے نام دیدیں۔ تاہم خواتین ایک نام پر متفق نہیں ہیں‘ خواتین کا مطالبہ ہے کہ خواتین کو کابینہ میں دو وزارتیں دی جائیں اسی طرح مشیر اور معاون خصوصی کی حیثیت سے بھی خواتین کو نمائندگی دی جائے۔ سمیرا شمس کے مطابق وزیر اعلیٰ علاقائی نمائندگی بھی مدنظر رکھنا چاہتے ہیں اور توقع ہے کہ دیر کو بھی خواتین کوٹہ میں نمائندگی دی جائے گی۔ جون ایلیاء نے کہا تھا

اب نہیں کوئی بات خطرے کی

اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے

صورتحال تو کچھ ایسی ہی دکھائی دیتی ہے اور خواتین کو فیصلہ کرنے کیلئے آپس ہی میں نہایت کامیابی کیساتھ اُلجھا دیاگیا ہے۔ اس پر مجھے ایک آنکھوں دیکھا واقعہ بھی یاد آگیا ہے‘ یہ ان دنوں کی بات ہے جب ذوالفقار علی بھٹو سقوط ڈھاکہ کے بعد بقیہ (موجودہ) پاکستان کے صدر کی حیثیت سے صوبہ سرحد اور سابقہ قبائلی علاقوں ( موجودہ خیبر پختونخوا) کے گیارہ روزہ دورے پر تھے۔ کئی وفاقی وزراء‘ گورنر اور پارٹی رہنماء بھی ان کیساتھ تھے۔ ان دنوں ڈیرہ اسماعیل خان اور بنوں کے پارٹی رہنمائوں کی جانب سے یونیورسٹی کے قیام کیلئے مطالبات سامنے آرہے تھے اور دونوں شہروں کے پیپلز پارٹی رہنماء اپنے شہر میں یونیورسٹی کے قیام پر بضد اور ایک دوسرے کے مدمقابل تھے‘ میں نے آنکھوں دیکھا واقعہ اس لئے لکھا ہے کہ اس تمام دورے کے دوران ریڈیو پاکستان کی جانب سے ہماری ٹیمیں ہر جگہ ریکارڈنگ کیلئے پہنچتی تھیں جبکہ میں میڈیا کی اس ٹیم کا حصہ تھا جس میں غیر ملکی اور ملکی اخباری نمائندے بھی شامل تھے اور ہیلی کاپٹر کے ذریعے دن رات صدر بھٹو کے دورے کی کوریج کر رہے تھے‘ ڈیرہ اسماعیل خان میں اس وقت کی صوبائی حکومت نیپ۔جوئی کے زیرانتظام ایک بہت بڑے جلسے کا اہتمام کیاگیا تھا جبکہ پیپلز پارٹی کے ڈی آئی خان اور بنوں کے رہنمائوں نے بڑی تعداد میں جلسے میں شامل ہو کر بینرز پر یونیورسٹی کے قیام کے حوالے سے مطالبات بھی درج کرا رکھے تھے اور اپنے اپنے مطالبات کیلئے نعرے بھی لگا رہے تھے۔ بھٹو بڑا کائیاں سیاسی رہنماء تھا اس نے موقع کی نزاکت کا احساس کرتے اور صورتحال کا جائزہ لیتے ہی بھانپ لیا تھا کہ صورتحال نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن والی ہے۔ اس وقت کے وزیر قانون اور وزیر تعلیم حفیظ پیر زادہ کو جنہیں وہ جلسوں میں ’’سوہنا منڈا‘‘ کے لقب سے یاد کرتا تھا آگے کردیا‘ پیر زادہ نے وفاقی وزیر تعلیم کی حیثیت سے ڈی آئی خان اور بنوں کیلئے ایک یونیورسٹی کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی کیلئے تمام فنڈز وفاقی حکومت دے گی تاہم یہ یونیورسٹی کہاں قائم کی جائے یہ فیصلہ ہم وزیراعلیٰ مفتی محمود (مرحوم) پر چھوڑتے ہیں اور یہ ان کی صوابدید ہے کہ وہ جہاں چاہیں یونیورسٹی قائم کریں۔ اس اعلان پر جلسہ گاہ میں تالیاں بجنا شروع ہوئیں اور پیپلز پارٹی کے ڈی آئی خان اور بنوں کے رہنماء خوش ہوگئے، تاہم بھٹو کی یہ چال جلسے کی آدھ گھنٹہ بعد ہی مفتی محمود (مرحوم) نے ڈی آئی خان سرکٹ ہائوس میں ایک پریس کانفرنس کرکے ناکام بنا دی بلکہ اُلٹا انہی کی جانب پھیر دی کہ آخر وہ بھی تو ایک کہنہ مشق سیاسی رہنماء تھے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مفتی صاحب نے کہا کہ ہم وفاقی حکومت کے شکر گزار ہیں کہ یہاں کے عوام کے دیرینہ مطالبے پر یونیورسٹی کے قیام کیلئے فنڈز کی فراہمی کا اعلان کردیا ‘ تاہم یونیورسٹی کہاں قائم ہونی چاہئے یہ فیصلہ بھی وفاقی حکومت ہی کرسکتی ہے‘ البتہ ہم صوبائی حکومت کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے مرکزی حکومت ڈیرہ یا بنوں میں سے جہاں چاہے یونیورسٹی کے قیام کیلئے اراضی دینے کو ہروقت تیار ہیں چونکہ تعلیم مرکز کے اختیار میں ہے اس لئے یہ فیصلہ بھی صدر بھٹو خود کریں کہ وہ کہاں یونیورسٹی قائم کرنا چاہتے ہیں ہم تو زمین دینے کیلئے تیار ہیں۔ اس پریس کانفرنس کے ذریعے مفتی صاحب نے بھٹو مرحوم کی جانب سے صوبائی حکومت کی طرف پھینکے گئے بال کو واپس مرکزی حکومت کے پول کی طرف زبردست ہٹ لگا کر موڑ دیا۔ یوں پیپلز پارٹی کی یہ چال ناکام بنا دی گئی۔

بیا جاناں تماشا کن کہ در انبوہ جانبازاں

بہ صد سامان رسوائی سربازار می رقصم

اب موجودہ صوبائی حکومت نے بھی تحریک کی خواتین ارکان اسمبلی کو اسی صورتحال سے دو چار کردیا ہے اور بال اُٹھا کر خواتین ہی کے کورٹ میں پھینک دیا ہے کہ خود ہی فیصلہ کرلیں کس کو وزیر بنانا ہے اور کون وزارت سے محروم رہتی ہے‘ مگر خواتین بھی بڑی کائیاں ہیں نہ صرف دو وزارتیں مانگ لیں بلکہ مشیر اور معاون خصوصی کی نشستیں ہتھیانے کی حکمت عملی اختیار کرکے بال واپس حکومت کے کورٹ میں دھکیل دی ہے۔

صلح کرلو یگانہ غالب سے

وہ بھی اُستاد تم بھی اک اُستاد

متعلقہ خبریں