Daily Mashriq

بے صدا معیشت

بے صدا معیشت

سوال یہ نہیں ہے کہ ہندوستانی وزیرخارجہ سشما سوراج ابوظہبی میں حال ہی میں انعقاد پذیر ہونے والی اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کی کانفرنس میں کیوں آئیں۔ اس سوال کا جواب تو انتہائی آسان ہے۔ اس تنظیم کی رکنیت حاصل کرنے کیلئے نصف صدی سے گھات لگائے ملک کی وزیرخارجہ اگر یہ موقع گنوا دیتیں تو شاید اگلے برسوں میں پلوں کے نیچے سے اتنا پانی بہہ چکا ہوتا کہ رکنیت کا سوال ہی اپنی موت آپ مرجاتا۔ سوال یہ بھی ہرگز نہیں ہے کہ اجلاس میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دہشتگردی کا ذکر کرتے ہوئے پاکستان کا نام نہ لیتے ہوئے بھی اشارے کنائے میں اس کا ذکر کر دیا۔ سوال صرف یہ ہے کہ تنظیم کے بانی رکن پاکستان کے ہندوستانی وزیر خارجہ کے مدعو کئے جانے پر معترض ہونے کے باوجود میزبان ملک نے اپنی دعوت واپس کیوں نہ لی؟ اسلامی تعاون تنظیم کے اجلاس میں غیرمسلم اکثریت والے ملک کی غیرمسلم وزیر خارجہ کا خطاب بھی ہوگیا۔ ان کی تقریر کے دوران میرے ذہن میں تاریخ نے اپنے ورق اُلٹے۔1970 میں خلیج عرب کے کنارے پر سکڑی سمٹی ننھی ریاستوں نے اتحاد کیا اور نسبتاً متحدہ عرب امارات کا ایک بڑا وجود قائم کیا۔ تیل دریافت تو ہو چکا تھا لیکن ابھی اس کے دام کوڑیوں میں تھے۔ 1973 کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد جب شاہ فیصل مرحوم نے اس سیاہ سیال کی یورپ کو فروخت پر پابندی لگائی تو مغرب میں چلتی گاڑیوں اور مشینوں پر موت کا سکوت چھا گیا۔ امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر کی شٹل ڈپلومیسی اور منتوں نے اس پابندی کے خاتمے میں بنیادی کردار ادا کیا اور مغرب میں حرکت لوٹ آئی۔ تاہم اس دوران اوپیک کو احساس ہو چکا تھا کہ اس کے زیرزمین ایک دولت سو رہی ہے۔ تیل کی قیمتیں بڑھیں اور خلیجی ممالک بھی زندگی کی راحتوں سے آشنا ہونے لگے۔ پٹرو ڈالروں کا سیل رواں آیا۔ پیشتر ازیں صدیوں صحراؤں میں بگولے رقص کرتے رہے تھے۔ بادیہ نشین رہگزاروں میں تلاش رزق اور جستجوئے آب میں سرگرداں رہتے تھے۔ ساحلوں کے قریب رہائش پذیر دن بھر سمندر میں غوطے لگاتے، سیپیاں ڈھونڈھتے اور ان میں سے نکلے موتی اپنی متاع عزیز سمجھتے۔ صحیح معنوں میں زندگی ہتھیلی سے ہونٹوں تک کے مختصر فاصلے میں چکر لگاتی رہتی تھی۔ پھر تیل کی قیمتیں عروج آشنا ہوئیں۔ خلیج عرب کے اطراف کا علاقہ آنکھیں کھولے اردگرد کی دنیا کو حیرت سے تکنے لگا۔ زندگی اور پیشرفت کی تڑپ جاگی۔ تعمیرات کا آغاز ہوا لیکن ایک مسئلہ تھا ان ریاستوں کی اپنی آبادی انتہائی کم تھی۔ مدد کیلئے پاکستان کی طرف ہاتھ بڑھے اور ہماری افرادی قوت دبئی چلو کا نعرہ لگاتی ان صحراؤں میں آخیمہ زن ہوئی۔ پاکستانیوں نے50درجہ کے حرارت میں دن رات ایک کر دئیے۔ پسینے سے شرابور بدن سنگ وخشت اپنے شانوں پر رکھے کثیرالمنزلہ عمارات بلند کرتے رہے۔ اس وقت وہاں کسی اور ملک کی افرادی قوت کا وجود نہ تھا۔ ہر عمارت کے ہر پتھر پر پاکستانی انگلیوں کے نشان ثبت ہوتے رہے۔ صحرا میں عجوبہ روزگار منصوبے سر اُٹھاتے رہے اور پاکستانی ان کی تشکیل میں اپنے بدن توڑتے رہے۔ جتنا بڑا احسان پاکستانیوں نے خلیجی ممالک پر کیا ہے اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ متحدہ عرب امارات کی ہر شاہراہ، ہر عمارت، ہر گلستان پر پاکستان کا احسان ہے لیکن پھر اسلامی تعاون تنظیم کے اجلاس میں مہمان خصوصی کے طور پر سشما سوراج کی شرکت اور خطاب؟ اس کا سبب اسلامی تعاون تنظیم کے بنیادی منشور میں نہیں ملے گا اور ہندوستانی وزیرخارجہ کو خطاب کی اجازت دینے کی وجہ عالم اسلام سے اظہار بغاوت بھی نہیں ہے۔ بغیر تنظیم کے57رکن ممالک سے مشورہ کئے بغیر ہندوستانی وزیرخارجہ کو اجلاس میں مدعو کرنے کی وجہ بالکل واضح ہے۔ حالیہ برسوں میں ہونیوالی تبدیلیوں پر نظر ڈالیں۔ متحدہ عرب امارات کے ولی عہد شہزادہ محمد بن زید النہیان نے اپنے دورۂ پاکستان میں میزبان ملک کو3ارب ڈالر نقدی کی صورت میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو قرض دیا جبکہ3.2ارب ڈالر کا تیل متاخرہ ادائیگیوں پر دینے کا وعدہ کیا۔ یہ تیل ہماری60فیصد ضرورت پوری کریگا دوسری طرف متحدہ عرب امارات کی حکومت ہندوستان میں75ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کریگی بنگلور میں متحدہ عرب امارات کے تیل کو ذخیرہ کیا جائیگا جسے مشرقی ایشیائی ریاستوں کو ارسال کیا جائیگا وزیرخارجہ عبداللہ بن زایدالنہیان نے بنگالو رو میں خلائی تحقیقاتی مرکز کا دورہ کیا اور متحدہ عرب امارات اور ہندوستان کے مابین خلائی تحقیق کے باہمی منصوبے کا آغاز کیا۔ دونوں ملکوں کے درمیان نقل وحرکت کو آسان بنانے کیلئے ممبئی اور فجیرہ کے درمیان زیربحر تیز رفتار ریل گاڑی کی تعمیر کی جائیگی تقریباً 2000کلومیٹر طویل اس آبی سرنگ سے ہندوستان تازہ پانی متحدہ عرب امارات کو برآمد کریگا اور اسی راستے سے امارات سے تیل کی درآمد ہوگی، گزشتہ برس ان دونوں ملکوں کی2طرفہ تجارت کا تخمینہ40ارب ڈالر تھا جو2020 تک 100ارب ڈالر تک لے جایا جائیگا۔ پاکستان کی امارات سے باہمی تجارت صرف8.5 ارب ڈالر ہے تو اب تو واضح ہوگیا ہوگا۔ متحدہ عرب امارات نے شریمتی سشما سوراج کو ارسال کی گئی دعوت کیوں منسوخ نہ کی،3ارب ڈالر کا قرض، 3.2 ارب ڈالر کا متاخرہ ادائیگی پر تیل اور گوادر میں شاید10ارب ڈالر کا سرمایہ کاری کا وعدہ! ضعیف معیشت بے صدا ہوتی ہے۔ ایسے میں شاہ محمود قریشی کی کون سنتا؟

متعلقہ خبریں