Daily Mashriq

بڑی عبرت کی بات ہے

بڑی عبرت کی بات ہے

ہم دیکھا کرتے تھے کہ جب کسی فلمی ایکٹریس کی مقبولیت میں کمی ہو رہی ہوتی تھی تو وہ خود اپنے سکینڈل اخباروں میں لگوایا کرتی تھیں۔ بدنام جو ہوںگے تو کیا نام نہ ہوگا کے مصداق بڑی حرکتیں کی جاتی تھیں۔ لوگوں کی توجہ مرکوز رہے، مقبولیت کیسی بھی ہو، نظریںجمی رہیں تو فلمیں ملتی رہیں گی۔ وہ کامیاب بھی رہتی تھیں کیونکہ ان کا کام ہی ایسا تھا۔ لوگوں کی دلچسپی برقرار رکھنا، ان کی زندگی او رکیریئر کیلئے بہت اہم تھا۔ اب لگتا ہے یہی حکمت عملی دوسرے شعبوںمیں بھی اپنائے جانے لگی ہے کیونکہ لوگوں کی نظروں میں رہنا ضروری ہے۔ بچپن سے بلوغت کا سفر بھی بہت مشکل ہوتا ہے۔ بچہ کتنی ہی نفسیاتی پریشانیوں سے گزرتا ہے۔ زندگی کٹھن ہے اور محتاط ماحول کے پالے ہوئے بچے ان کی کٹھنائیوں کو جھیلنے کیلئے تیار نہیں ہوتے۔ خاص طور پر ہمارے گھروں میں بچیوں کو بہت محبت اور خیال سے پالا گیا ہوتا ہے۔ انہیں زندگی جھیلنی پڑے تو اکثر وہ خود میں سمٹ جاتی ہیں اور دل میں یہ خیال رکھتی ہیں کہ ان کی اذیت کا احساس ان کے مدمقابل لوگ خود کریں گے۔ ماں باپ کی طرح بانہیں وا کریں گے اور انہیں پیار سے بہلائیں گے۔ جب ایسا نہیں ہوتا تو وہ اپنی اذیت کو ذرا بڑھا کر دکھاتی ہیں یا ایسا ردعمل دیتی ہیں جس سے ان کا احتجاج لوگوں پر واضح ہوسکے اور لوگ محبت سے ان کی جانب متوجہ ہوں جو معاملات اس لڑکی کو ٹھیک محسوس نہیں ہو رہے، لوگ ان رویوں پر نظرثانی کریں اور ان کی مرضی کے مطابق صورتحال کی درستگی کریں۔ اکثر اوقات ایسا نہیں ہوتا اور بچی خاص اذیت میں رہنے کے بعد سیکھتی ہے کہ زندگی میں اس کا کردار بدل چکا ہے۔ کئی بار وہ اس سارے معاملے سے سیکھ ہی نہیں پاتیں اور منفی جذبات کو اپنی شخصیت کا حصہ بنا لیتی ہیں۔ اس سے نہ صرف خود ان کا نقصان ہوتا رہتا ہے بلکہ ان کے اردگرد موجود لوگ بھی پریشانی کا شکار رہتے ہیں۔ ایسی کتنی ہی مثالیں ہمارے آس پاس مسلسل موجود رہتی ہیں۔ میاں نواز شریف کی موجودہ صورتحال کو دیکھ کر میں مسلسل یہ سمجھنے کی تگ ودو میں مصروف ہوں کہ ان کے مزاج کے اس رنگ کو کس آئینے سے دیکھنا چاہئے۔ سیاست میں خودنمائی اور ستائش کا جذبہ اور خواہش دونوں ہی مہمیز ہو جاتی ہیں۔ پھر ذہنی بلوغت سے ذرا فاصلے پر کھڑے سیاسی لیڈران بڑی پریشانیوں کا شکار رہتے ہیں۔ وہ جنہیں بہت محنت، محبت اور لاڈ سے پالا گیا ہو ان کے حالات اور بھی زیادہ خراب ہوتے ہیں۔ احتساب کی بات کرنے میں اور خوداحتساب کے آنکڑے میں پیر پھنس جانے میں بھی زمین وآسمان کا فرق ہوتا ہے۔ حقیقت کے کلاڈیسکوپ میں کتنی ہی ٹوٹی چوڑیاں لگتی ہیں تبھی تو ہر بار ایک نیا منظر، ایک نیا پہلو، ایک نیا ڈیزائن سامنے آتا ہے اور وہ جنہیں ننانوے گدوں کے نیچے پڑا مٹرکا دانہ چھیننا ہو جو اپنی خواہش کے لئے اسلام آباد سے لاہور موٹروے بنا لیتے ہوں ان کے لئے احتساب کے کوڑے ننگی پیٹھ پر کھانا جان لیوا ہے۔ ان لوگوں کی طبیعت میں خودکشی کی جانب رغبت پیدا ہو جانا بھی کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ میاں نواز شریف کی جانب سے موجودہ حرکات وسکنات کے محرکات کو سمجھنا اس وقت قطعی مشکل نہیں رہتا جب ان سب باتوں کو ذہن میں رکھا جائے اور میاں نواز شریف کی مشکل کو سمجھا جائے۔ ایک بوڑھا باپ جس کی اولاد، اس کے کمائے ہوئے بدعنوانی کے پیسے پر عیش کررہی ہے اور وہ جیل کی صعوبت کاٹ رہا ہے کے لئے مر جانے کی خواہش کرنا بھی درست ہے۔ وہ ضرور سوچتے ہوں گے کہ بھلا انہیں یہ سب ایسی اولاد کے لئے کرنے کی کیا ضرورت تھی جس نے اس بڑھاپے میں انہیں جیل کاٹنے کے لئے تنہا چھوڑ دیا، اب وہ کہیں کہ انہیں علاج کے لئے ہسپتال ہی نہیں جانا تو اس بات میں کتنے ہی جذبات پنہاں دکھائی دیتے ہیں۔ ہر بار اس جذبات کے کلاڈیسکوپ کو گھمائیں تو ایک نیا جذبہ سامنے آتا ہے۔ اس میں خودنمائی کا جذبہ بھی ہوگا اور زندگی کی تلخ حقیقتوں کیخلاف ایک سہما ہوا احتجاج بھی، اولاد کی بے وفائی کا دُکھ اور بڑھاپے کی تھکن بھی اور یہ جلن بھی کہ ان سے زیادہ بدعنوان لوگوں پر اس حکومت نے ابھی تک ہاتھ ہی نہیں ڈالا۔ نہ تو اس وقت منطق سُجھائی دیتی ہوگی نہ ہی معاملات پر فہم کی گرفت محسوس ہوتی ہوگی۔ ایک عجب اذیت ہوگی جو چاروں طرف دانت نکوسے کھڑی نظر آتی ہوگی۔ یہ جذبے اور یہ اذیت نہ ہم اور آپ سمجھ سکتے ہیں اور نہ ہی اس کا پورے طور احاطہ کرسکتے ہیں۔ ہم نے تو کتنے ہی دن اور کتنی راتیں شدید گرمیوں میں بھی پنکھے کے بغیر گزاری ہوں گی، ان کی اذیت کا ہم بھلا کہاں سوچ سکتے ہیں جنہوں نے نہ کبھی گرمی دیکھی اور نہ ہی سردی کی چبھن محسوس کی۔ اس ساری صورتحال کو بھلا ہم کیا سمجھیں گے۔ اعتراز احسن کو دیکھیں کیسے کھٹور اور سنگدل ہوئے بیٹھے ہیں کہ کہتے ہیں نواز شریف کو کچھ ہوا تو اس کے ذمہ دار وہ خود ہوں گے حالانکہ کوئی نواز شریف سے پوچھے، ان کے اندر کی ڈری سہمی روح اس پوری قوم کو اپنے بچوں کیساتھ ساتھ اپنی حالت کی موردالزام ٹھہراتی ہے۔ انہیں نہیں معلوم کہ مکافات عمل کیا ہوتا ہے، انہوں نے اپنے تئیں نہ جرم کیا، نہ بدعنوانی اور یہ بھی ایک بہت بڑی اذیت ہے کہ وہ اپنی نظر میں بے گناہ ہیں اور سزا کاٹ رہے ہیں، عجب قصہ ہے اور بڑی عبرت کی بات ہے۔

متعلقہ خبریں