Daily Mashriq


ادویات کو غریبوں کی پہنچ سے دور نہ کریں!

ادویات کو غریبوں کی پہنچ سے دور نہ کریں!

حالیہ دنوں میں ادویات کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے کی خبریں پڑھنے اور دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ یہ مسئلہ قطعی طور پر صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ مہنگی اور ناقابلِ برداشت حد تک بڑھتی قیمتوں کا مسئلہ ایک عرصے سے جاری ہے اور ادویات کی قیمتیں انتخابی اور پالیسی ایجنڈوں کا حصہ رہی ہیں۔ امریکا میں صدر ڈونلڈٹرمپ کے منتخب ہونے کیساتھ ہی یہ مسئلہ منظرِعام پر آیا۔ ڈیموکریٹ پارٹی نے ادویات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو انتخابی مہم کا حصہ بنایا اور یوں انہیں مڈٹرم انتخابات میں اس کے زبردست ثمرات بھی حاصل ہوئے۔ اس کے برعکس پاکستان میں سیاسی جماعتیں گزشتہ2ماہ سے ادویات کی بڑھتی قیمتوں کے معاملے پر نہ جانے کیوں چپ سادھے ہوئے ہیں۔ کہیں کہیں تو ادویات کی قیمتوں میں100فیصد کا اضافہ بھی دیکھا گیا ہے حالانکہ قانونی طور پر صرف15فیصد کے اضافے کی اجازت ہوتی ہے۔ اس پورے معاملے میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) تو بالکل ہی غیرمؤثر نظر آرہی ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق خاص برانڈ کے نام کیساتھ بیچی جانے والی ایک اینٹی بایوٹک جو امیبائی امراض اور دوسری بیماریوں کے علاج میں استعمال کی جاتی ہے (کی قیمت500روپے سے بڑھ کر900 روپے تک پہنچ چکی ہے ایک دوسری دوائی کی قیمت 79 سے بڑھ کر426تک جا پہنچی ہے۔ جب دواں کی دکان سے میں نے خود جا کر قیمتوں کے بارے میں جاننا چاہا تو پتہ چلا کہ تولیدی صحت کی ایک دوائی کی قیمت500روپے سے بڑھ کر800روپے تک پہنچ چکی ہے۔ادویات کی قیمتوں میں اس قسم کا اضافہ کا ایک مستحکم طریقہ کار کا حصہ بن چکا ہے، جس کے ذریعے قانونی طور پر اضافے کی اجازت سے کہیں زیادہ ادویات کی قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں۔ ہر چند سال بعد (ڈریپ) قیمتوں میں اضافہ کردیتی ہے اور وہ بھی اس شرح سے کئی گنا زیادہ جس کی اجازت نہیں ہوا کرتی حالانکہ عدالت نے اس عمل پر سوال بھی اٹھایا مگر یہ سلسلہ نہیں رکا۔ پھر جب یہ معاملہ قانونی راہداریوں تک پہنچا تب بھی ادویات مہنگی ہی رہیں اور اس حوالے سے بھی کوئی ریگولیٹری کارروائی دیکھنے کو نہیں ملی۔ پڑوسی ممالک میں اضافی قیمتیں کم کروائی گئیں اور جو اضافی پیسے دئیے جاچکے تھے انہیں بھی واپس دلوا دیا گیا۔پاکستان کی صورتحال میں خرابی صرف ڈریپ کے ریگولیٹری فرائض کے تناظر میں نظر نہیں آتی بلکہ یہ خرابی قابلِ استطاعت ادویات کو لیکر فارما کے کھلے عزم میں بھی نظر آتی ہے۔ یہ ملک اس خطے کے ان ممالک میں سے ایک ہے جہاں ادویات کی قیمتیں سب سے زیادہ ہیں۔ قیمتوں میں حالیہ اضافے غریب اور شدید بیمار مریضوں کیلئے کسی عذاب سے کم نہیں۔ ایسی بھی رپورٹس موصول ہوئی ہیں جن کے مطابق یا تو مریض علاج کیلئے دیگر طریقے اختیار کر رہے ہیں یا پھر روزانہ لی جانے والی خوراک میں مجبوراً وقفہ دے رہے ہیں۔اس صورتحال پر قابو پانے کیلئے ضرورت اس امر کی ہے کہ ڈریپ کا نگران ایک ایسے بورڈ کو بنایا جائے جس میں سول سوسائٹی، مریضوں وصارفین کیلئے کام کرنیوالے گروپس، عوامی مفاد کے مقدمات لڑنے والے وکلا، ڈاکٹرز، دواسازوں اور میڈیا پرسنز کے دیانتدار نمائندگان شامل ہوں۔علاوہ ازیں، اصلاحات کے بعد تشکیل پانے والی باڈی اس طریقہ کار کو عوام کے سامنے پیش کرے جس کے تحت قیمتیں طے کی جاتی ہیں، ساتھ ہی ساتھ تمام ویب سائٹ پر اضافے کی تشہیر کی جائے اور یہ بھی بتایا جائے کہ کن اصولوں کے تحت اضافہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ جہاں اصولی حد سے زیادہ اضافہ ہو وہاں ایک مؤثر شکایتی طریقۂ کار متعارف کروایا جائے جبکہ صحت اور صحت سے متعلقہ دیگر شعبوں کی پارلیمانی کمیٹیاں وسیع پیمانے پر تشہیر کیساتھ ہونیوالی قیمت طے کرنے کی سماعتوں میں غیرملکی ماہرین اور سول سوسائٹی کے نمائندگان کو مدعو کریں تاکہ اس عمل میں شفافیت اور احتساب پیدا کیا جاسکے۔شفافیت کو ہر طرح سے ممکن بنانے کیلئے اراکین کی جانب سے اپنے دیگر پیشوں اور کاروبار کو ظاہر کرنے پر ہی ان کے نام کمیٹیوں میں شامل کئے جائیں تاکہ کسی قسم کا متصادم مفاد آڑے نہ آئیں۔ برٹش ہاؤس آف کامنز میں ہمیشہ اس اصول پر عمل کیا جاتا ہے۔ حالیہ سالوں میں اعلیٰ عدالتوں نے ادویات کی قیمتوں کے معاملے میں مداخلت کی ہے مگر جہاں تک قیمتوں کے اضافے کو پرانی حیثیت میں بحال کرنے کا تعلق ہے تو قیمتوں کے حوالے سے عوامی مفاد کے کیسز کو حل کرنے اور اس کی سماعت میں اس قدر طویل وقت لگتا ہے کہ ان سے کوئی خاطرخواہ اثر ہی نہیں ہوتا۔ یہاں عدالتوں کو قیمت طے کرنے کے طریقۂ کار میں شفاف اور منصفانہ عمل متعارف کروانے کیساتھ صحت اور قابلِ استطاعت علاج معالجے وادویات کے حق کے تحفظ کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا جو بہت پہلے ہی ادا کرلینا چاہئے تھا۔ جہاں تک سول سوسائٹی، شہریوں، مریضوں کیلئے کام کرنے والے گروپس اور صحت کی آگاہی دینے والوں کا تعلق ہے تو انہیں چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں لاتے ہوئے ایک دوسرے کے تعاون کیساتھ کام کرنے ہونگے تاکہ قیمتوں کو طے کرنے کے طریقۂ کار اور ریگولیٹری کو ہر طرح سے عوامی مفاد میں بہتر بنانے کیلئے ایک مستقل نگرانی کا کردار ادا کرسکیں۔ اس کام میں شامل تمام اسٹیک ہولڈرز کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ایک مساوی اور قابلِ استطاعت صحت کی طرف قدم بغیر رکے بڑھتا رہے بلکہ تیزی سے بڑھتا رہے۔

متعلقہ خبریں