Daily Mashriq


’’طاقت اور بندھے ہوئے گھوڑے‘‘

’’طاقت اور بندھے ہوئے گھوڑے‘‘

ہم جیسے قبیلے کے لوگوں کا تو بابائے قوم کی اس بات پر شروع دن سے پکا یقین ہے کہ پاکستان اُس دن قائم ہوا تھا جس دن برصغیر پاک وہند کا پہلا غیرمسلم اسلام کی نعمت سے فیض یاب ہوا تھا اور یوں جس طرح مکہ مکرمہ میں نبی کریمؐ کی اعلان بعثت کیساتھ دوقومی نظرئیے کی تکمیل قیامت تک کیلئے ہوئی تھی، پاکستان اسی دو قومی نظرئیے کی بنیاد پر وجود میں آیا۔ پاکستان، انگریزوں، ہندوؤں اور بعض مذہبی وقوم پرست عناصر کی مخالفت کے باوجود جس طرح قائم ہوا اور یہ قیام جس طرح ستائیسویں رمضان المبارک بروز جمعۃالمبارک کو عمل میں آیا تو ہمارے قبیل کے لوگوں نے اپنے بزرگوں سے سنا اور پڑھا کہ قیام پاکستان معجزہ خداوندی کے تحت ممکن ہوا۔ ان ہی سطور میں متعدد بار اس نکتے کو عرض کیا گیا کہ پاکستان کی مثال حضرت صالحؑ کی معجزہ کے طور پر سامنے آنے والی اونٹنی کی ہے۔ جن لوگوں نے اُس اونٹنی کا خیال نہیں رکھا اور اُس کے درپے آزار ہوئے، اُن کے بارے میں قرآن کریم میں جو لفظ آیا ہے وہ ہے فسوّٰھم یعنی اُنہیں برابر کر دیا‘‘۔ہمارا یہ بھی ایمان ہے کہ پاکستان محض ایک ملک کے طور پر اس لئے وجود میں نہیں لایا گیا ہے کہ بس اسلامی ممالک کی تعداد میں ایک ملک کا اضافہ ہی ہو بلکہ پاکستان مسلمانان برصغیر کی بے مثال جدوجہد کے ذریعے اُسی زمانے میں لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر وجود میں آیا جب ساری اسلامی دنیا میں اس نظرئیے کا تصور دُھندلا گیا تھا۔ ترکی،کمال اتاترک کے طفیل جدیدیت کے منشور کے تحت ترک نیشنلزم کا شکار ہوکر خلافت اسلامی کی قبا اُتار چکا تھا

چاک کردی ترک ناداں نے خلافت کی قبا

سادگی مسلم کی دیکھ، اوروں کی عیاری بھی دیکھ

عربوں میں بھی ترک خلافت کے ردعمل اور لارنس آف عربیا کے بچھائے گئے جال کے سبب عرب نیشنلزم کا صور پھونکا گیا تھا اور وہ بھی اس انداز میں کہ عوام کو تو یہ جھانسہ دیا گیا کہ خلافت، عجم (ترکوں) کے بجائے ہاشمیوں کا حق ہے لیکن خود خلافت کی خلعت کو تارتار کر کے بیچنے پر آمادہ ہوگئے۔

بیچتا ہے ہاشمی ناموس دین مصطفیؐ

خاک وخوں میں مل رہا ہے ترکمان سخت کوش

یوں جزیرہ نما عرب آج نظریاتی لحاظ سے اتنی سخت مخالفتوں میں بٹ گیا کہ آج شام، یمن، عراق اور لیبیا کا حال سب کے سامنے ہے، غضب خدا کا، قطر کی ناکہ بندی خود اپنوں نے کی ہے لیکن ٹھیک اُس زمانے میں مسلمانان ہند نے ماڈرنزم اور نیشنلزم اور دیگر کئی ازم کو پس پشت ڈالتے ہوئے صرف ایک نعرۂ مستانہ بلند کیا کہ پاکستان کا مطلب کیا، لاالہ الااللہ۔ یہ نعرہ پرسوز اتنا پراثر تھا کہ سات برس کے اندر اندر دنیا میں سب سے بڑی اسلامی مملکت کے وجود کی بنیاد بنا اور ایک ہزار میل کے فاصلے کے باوجود مشرقی ومغربی پاکستان یک جان دو قالب میں ڈھل گئے لیکن اس نعرۂ قدوس ومبارک کے مخالفین اس پاک وطن کے پیچھے ایسے لگ گئے کہ چوبیس برس کے اندر ہی مشرقی بازو الگ کر کے ہی رہے، اور اس پر نعرۂ توحید کے مخالفین اور دشمنوں نے بڑی بغلیں جھانکیں لیکن دوقومی نظرئیے کا حامل قافلہ سخت جاں اپنے نصب العین اور منزل کی سمت رواں دواں رہا۔ ورنہ دسمبر1971ء کے بعد بھی ہوائیں بہت تند وتیز رہیں لیکن اللہ کی شان دیکھئے کہ ذوالفقار علی بھٹو جیسے جدید ذہن ونظریات کی شخصیت سے وہ کام لیا گیا جو شاید اُس وقت کوئی اور نہ کرسکتا۔

ہوا ہے گو تند وتیز لیکن چراغ اپنا جلا رہا ہے

وہ مرد درویش جس کو حق نے دیئے ہیں انداز خسروانہ

اور پھر پاکستان ایٹمی طاقت کا حامل ملک بن گیا ورنہ یار ملکوں نے 1971ء کے بعد مسلسل یہی کوشش جاری رکھی کہ کس طرح اس کے حصے بخرے کئے جائیں (خدا نہ کرے، خاکم بدہن) اس حوالے سے پاکستان کے پڑوسی اور دنیا کی بڑی جمہوریت لیکن بہت ہی کوتاہ نظر نے 1982میں راجھستان سیکٹر پر بڑی فوج جمع کردی لیکن جنرل ضیاء الحق نے راجیوگاندھی کے کان میں جو افسوں پھونکا، اُس کے اثرات کافی دیر تک قائم رہے، لیکن نریندر مودی کی صورت میں بھارت پر جو بلا مسلط ہوئی، اس نے پچھلے دنوں LOC پر جو صورتحال بنائی اور جس طرح اسرائیل اور مملکت خداداد کے کئی ایک دیگر دشمنوں نے (جنہیں اللہ جانتا ہے) ملکر مشرقی اور مغربی سرحدات کے درمیان اپنی دانست میں مکروہ عزائم کی تکمیل کیلئے سینڈوچ بنانا چاہا لیکن جسے اللہ رکھے اُسے کون چکھے۔

بھارتی اور اسرائلی سورماؤں اور اُن کے پشتیبانوں کو اللہ تعالیٰ نے جس طرح مملکت خداداد کے ہاتھوں رسوا کر کے رکھ دیا، کیا اب بھی پاکستان کو مدینہ کی ریاست کے مثل نہیں مانتے؟ کیا اب بھی یار لوگوں کو غزوہ بدر اور غزوہ خندق کی یاد نہیں آتی۔ ہمیں تو اپنی تاریخ یاد ہے ذرا ذرا اور ساتھ ہی ہمیں ویلیم شیکسپیئرکے تاریخی ڈرامے ’’جولئیس سیزر‘‘ کے کردار رومن آمر کا اپنے دوست مارکس جنیس بروٹس سے کہے گئے سوالیہ جملے کی یاد آئیEttu Brute? (You Brutus)۔

ہمیں اللہ اور اللہ تعالیٰ کے رسولؐ پر پختہ ایمان ویقین ہے کہ مملکت خداداد کی حفاظت غیبی مدد کے ذریعے بھی ہوگی لیکن ہمیں بھی ہردم چوکس رہنا ہوگا کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

’’تم جس قدر استطاعت رکھتے ہو (ان کفار) کیلئے طاقت اور بندھے ہوئے گھوڑے تیار رکو‘‘۔

متعلقہ خبریں