Daily Mashriq


یومِ خواتین کی ریلی میں ’اذان کا احترام‘ نہ کرنے پر ترک صدر کی تنقید

یومِ خواتین کی ریلی میں ’اذان کا احترام‘ نہ کرنے پر ترک صدر کی تنقید

انقرہ: ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے ’اذان کاا احترام‘ نہ کرنے پر استنبول میں عالمی یومِ خواتین پر نکالی جانے والی ریلی کے شرکا کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

فرانسیسی خبررساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق حکام کی جانب سے استقلال چوک پر کسی قسم کے مظاہرے کی اجازت نہ دینے کے احکامات پر پولیس کی جانب سے ہزاروں افراد پر آنسو گیس کے شیل فائر کیے گئے حالانکہ گزشتہ برس یہ تقریب پر امن طور پر منعقد ہوئی تھی۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک غیر مصدقہ ویڈیو میں دیکھا گیا تھا کہ شاہراہ پر مرد و خواتین مارچ کرتے ہوئے اذان کے دوران بھی مسلسل نعرے بازی کررہے تھے۔

ترک صدر نے کہا کہ ’سی ایچ پی (مرکزی اپوزیشن جماعت) اور ایچ ڈی پی (پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی) کی قیادت میں ایک گروپ نے یومِ خواتین پر اذان کے دوران سیٹیاں بجا کر اور نعرے بازی کر کے بدتمیزی کا مظاہرہ کیا۔

خیال رہے کہ تقسیم چوک کو جانے والی شاہراہ روایتی طور پر ریلیاں منعقد کرنے کا مقام ہے۔

ترک صدر نے ایک مختصر ویڈیو اور اپوزیشن جماعت کی 2011 کی ریلی کی فوٹیج چلائی جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ اس میں ترکی کا جھنڈا موجود نہیں۔

ترکی کے جنوبی شہر اضنہ میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے طیب اروان کا کہنا تھا کہ ’اپوزیشن ہمارے پرچم اور ہماری اذان کی توہین کر کے ہمارے مستقبل اور آزادی پر حملے کررہی ہے‘۔

خیال رہے کہ 31 مارچ کو ہونے والے انتخابات کے پیشِ نظر ترک صدر روزانہ سیاسی ریلیوں میں شرکت کررہے ہیں جس میں وہ اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔

انہوں نے سی ایچ پی(مرکزی اپوزیشن جماعت) پر ایچ ڈی پی (پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی) کے ساتھ گٹھ جوڑ کرنے کا الزام بھی لگایا، واضح رہے کہ طیب اردوان کے مطابق ایچ ڈی پی کرد باغیوں کی سیاسی چہرہ ہے۔

رائے عامہ کے اندازوں کے مطابق ترک صدر کی جسٹس اینڈ ڈیموکریٹک پارٹی کی پوزیشن مضبوط ہونے کے باوجود ترک کرنسی ’لیرا‘ کی قدر میں کمی کے باعث گھریلوں اخراجات پر پڑنے والے اثر اور معاشی سست روی کے باعث یہ امکان موجود ہے کہ اپوزیشن جماعتیں بڑے فوائد حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکتی ہیں۔

طیب اردوان اکثر اس بات کا ذکر کرتے ہیں انکی اسلام پسند جماعت نے ترکی میں مسلمانوں کو بڑے پیمانے پر آزادی دی ہے، جہاں چند سال قبل تک اداروں اور یونیورسٹیوں میں خواتین کے اسکارف پہننے پر پابندی عائد تھی۔

دوسری جانب ناقدین ان کو جدید ترکی کی سیکیولر بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔

واضح رہے کہ سلطنتِ عثمانیہ کے زوال کے بعد 1923 میں ترک ریپبلک قائم ہونے کے بعد کھڑے ہونے والے تنازعات میں اذان کا معاملہ نمایاں تھا جس کے بعد 132 سے لے کر 1950 تک عربی کے بجائے ترک زبان میں اذان دی جاتی رہی۔

تاہم گزشتہ برس سے اس تنازعہ نے ایک مرتبہ پھر اس وقت سر اٹھایا جب سی ایچ پی کے رکنِ اسمبلی اوزترک الماس نے عربی کے بجائے ترک زبان میں اذان رائج کرنے کا مطالبہ کیا۔

متعلقہ خبریں