Daily Mashriq


کالا باغ ڈیم پر ریفرنڈم

کالا باغ ڈیم پر ریفرنڈم

وفاقی وزیر مملکت برائے پانی و بجلی عابد شیر علی نے کالا باغ ڈیم کی تعمیر پر بحث اور ریفرنڈم کرانے کی تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ کالا باغ ڈیم کا منصوبہ اتفاق رائے سے ہی بننا چاہئے۔ اگر ملک میں آبی ذخائر نہ بنے تو صوبے آپس میں دست و گریباں ہوں گے۔ لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی کے ہیڈ کوارٹر میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عابد شیر علی نے کہا کہ رمضان المبارک میں عوام کو مشکل سے بچانے کے لئے پیشگی اقدامات کر رہے ہیں۔ موجودہ حکومت کے دور میں اب تک 4200 میگا واٹ بجلی سسٹم میں شامل ہوچکی ہے جبکہ رواں ماں مزید ایک ہزار میگا واٹ بجلی سسٹم میں شامل ہوجائے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کے دور میں کالا باغ ڈیم بن سکتا تھا لیکن اس وقت چوہدری پرویز الٰہی نے کہا کہ رہنے دیں یہ سیاسی ایشو بن جائے گا۔ دوسری جانب قومی وطن پارٹی کے مرکزی چیئر مین آفتاب احمد خان شیر پائو نے کہا ہے کہ ہم تکنیکی بنیادوں پر بھی مسترد کرچکے ہیں۔ یہ ڈیم بن گیا تو پنجاب کبھی ہمارے جنوبی اضلاع کے لئے اس سے نہر نکالنے نہیں دے گا۔ چند عناصر کی کوششیں پہلے کی طرح اب بھی ناکام ہی رہیں گی۔انہوں نے کہا کہ کالا باغ ڈیم کے حوالے سے تین صوبوں کاواضح فیصلہ آچکا ہے۔ اب یہ باب بند ہوجانا چاہئے۔ ہمارے صوبے سے تعلق رکھنے والے تمام اہم ماہرین نے اس ڈیم کو صوبے کے لئے انتہائی خطرناک قرار دے رکھا ہے۔اس وقت جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ اس ڈیم کے بننے سے جنوبی اضلاع کو گریویٹی پر پانی ملے گا وہ حقائق سے نظریں چرا رہے ہیں۔ادھر گزشتہ روز گیس و پانی سے متعلق امور پر وفاق اور صوبوں میں مذاکرات بے نتیجہ ختم ہو گئے اور خیبر پختونخوا نے دو بارہ مشترکہ مفادات کونسل میں جانے کا اعلان کردیا۔ اجلاس کے دوران سندھ اور پختونخوا نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم ارسا ایکٹ کے ذریعے کی جا رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف کے ساتھ میڈیا سے گفتگو کرنے سے انکار کیا تاہم پشاور کے ایک قومی اخبار کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اجلاس میں ہم نے اپنے تحفظات پیش کئے مگر ہمارے تحفظات دور نہیں کئے گئے۔ اس لئے ہم دوبارہ مشترکہ مفادات کونسل میں جا رہے ہیں۔ وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف نے میڈیاکے ساتھ گفتگو میں کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے کی روشنی میں صوبوں کے اعتراضات کو دور کرنے کے پابند ہیں۔ یہاں یہ بات بھی مد نظر رکھنی چاہئے کہ اے این پی کی جانب سے بھی کالا باغ ڈیم کی تعمیر پر ہمیشہ سخت موقف اختیار کیا جاتا رہا ہے اور 8مئی کے ایک اخبار میں اے این پی کے مرکزی رہنما افراسیاب خٹک کا ایک بیان چھپا تھا جس میں انہوں نے ایک بار پھر بعض عناصر کی جانب سے کالا باغ ڈیم کی وکالت پر کہا تھا کہ کالا باغ ڈیم تکنیکی بنیادوں پر بھی مسترد کرتے ہیں۔ جنرل فضل حق خود اس ڈیم کے خلاف تھے۔ فیڈریشن کے تین یونٹوں کی رائے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ جب باچا خان نے اس ڈیم کے مضمرات سے قوم کو آگاہ کیا تو پھر یہ مسئلہ کسی ایک پارٹی کا نہیں بلکہ پوری پختون قوم کا مسئلہ بن گیا اور ہر جماعت نے پھر اس کی بھرپور مخالفت کی کیونکہ اس کے حوالے سے حقائق سے سب آگاہ ہوچکے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی رائلٹی ہڑپ کرنے والے آخر کس منہ سے اس ڈیم کے لئے ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چشمہ لفٹ کینال ہمارے لئے نا گزیر ہے تاکہ ہم اپنے حصے کا پانی استعمال کرسکیں۔ جہاں تک کالا باغ کی تعمیر کے حوالے سے ریفرنڈم کرانے کا تعلق ہے پنجاب آبادی کے لحاظ سے مجموعی طور پر باقی تینوں صوبوں کی آبادی سے زیادہ تعداد رکھتا ہے اس لئے باقی تین صوبے جن کی اسمبلیاں بار بار اس منصوبے کو مسترد کر چکی ہیں اس جھانسے میں کبھی نہیں آئیں گے اور اسی وجہ سے خیبر پختونخوا کے ساتھ ساتھ سندھ اور بلوچستان بھی اس حوالے سے شدید تحفظات رکھتے ہیں جبکہ تینوں چھوٹے صوبوں کی اسمبلیوں کی قرار دادوں کو کس اخلاقی اور آئینی طور پر نظر انداز کرکے ریفرنڈم کی تجویز پیش کی جا رہی ہے۔ ماسوائے اس کے کہ انتخابات کے قریب آنے کی وجہ سے لیگ (ن) ایک بار پھر کالا باغ ڈیم کے سوال پر پنجاب سے ووٹ بٹورنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس سے پہلے چوہدری پرویز الٰہی بھی کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا نعرہ لگاتے ہوئے انتخابات میں اپنا حصہ لینے سامنے آچکے ہیں چونکہ حکمران جماعت پر اس وقت ایک جانب پانامہ لیکس اور دوسری جانب ڈان لیکس کے حوالے سے اس کے مخالفین تابڑ توڑ حملے کر رہے ہیں اور اقتدار میں آنے سے پہلے وہ پیپلز پارٹی پر کرپشن اور لوڈشیڈنگ کے حوالے سے اعتراضات کرکے میدان میں اتری تھی مگر صرف چھ مہینے میں لوڈشیڈنگ سے جان چھڑانے کے اسکے دعوے پورے نہیں ہوئے اس لئے وہ ایک بار پھر انتخابی معرکہ جیتنے کے لئے پرانی شراب کو نئی بوتل اور نئے لیبل (ریفرنڈم) کے ساتھ پنجاب کے عوام کو اپنے حق میں کرنے کے لئے سامنے آنے کی حکمت عملی اختیار کر رہی ہے۔ اگرچہ لیگ(ن) کے رہنماء اچھی طرح جانتے ہیں کہ چھوٹے صوبے کسی بھی صورت میں اس ڈیم کی تعمیر کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ جہاں تک جنرل پرویز مشرف کے دور میں ڈیم کی ممکنہ تعمیر میں کامیابی کے دعوے اور چوہدری پرویز الٰہی کی جانب سے اس کی تب مخالفت کا تعلق ہے تو بے شک جنرل موصوف کے دور میں ایک خاص نقطہ نظر سے پی ٹی وی پر متعدد مذاکرے کرائے گئے مگر ان مذاکروں میں خیبر پختونخوا' سندھ اور بلوچستان کے ماہرین کو پہلے تو اپنا موقف پیش کرنے سے اینکرز گفتگو کو کاٹ کر روک دیتے تھے اور اگر پھر بھی کوئی ایک آدھ جملہ یا فقرہ ان کے منہ سے نکل جاتا تھا تو بعدمیں انہیں ایڈٹ کرکے پروگرام آن ایئر جانے دیا جاتا تھا۔ یوں ان صوبوں کے درست موقف سے پنجاب کے عوام کو محروم رکھ کر یکطرفہ پروپیگنڈے پر مشتمل پروگرام پیش کئے گئے تھے۔ تاہم جنرل مشرف کو اصل حقائق معلوم ہونے اور ڈیم کی زبردستی تعمیر کے حوالے سے چھوٹے صوبوں کے سخت اور شدید رد عمل کا اندازہ ہو جانے کے بعد ہی موصوف نے نہ صرف اس ڈیم کی تعمیر کا خیال دل سے نکال دیا تھا بلکہ بھاشا ڈیم کی تعمیر کا حکم دیا تھا۔ لیکن بد قسمتی سے جو لابی کالا باغ ڈیم کی ہر قیمت پر تعمیر کے لئے جتی ہوئی ہے اس نے پہلے بھاشا ڈیم کو گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے مابین متنازعہ بنانے کی کوشش کی اور بعد میں اس کی رائلٹی کے حوالے سے گلگت بلتستان کو حصہ دلوانے کے نام پر اس کے نام میں بھی ملاوٹ کرکے اسے حیلوں بہانوں سے ناکام کرنے کی کوشش کی کیونکہ اگر یہ ڈیم تعمیر ہو جاتا ہے تو نہ صرف کالا باغ ڈیم کے مقابلے میں اس سے کہیں زیادہ پن بجلی پیدا ہوتی ہے بلکہ اس سے تربیلا ڈیم کی طبعی عمر میں بھی بیس سال کا اضافہ ہو جاتا ہے۔ لیکن اس کی تعمیر اب بھی سوالیہ نشان بنتا جا رہا ہے اور یہ بات بالکل درست ہے کہ ابھی تک خیبر پختونخوا کو تربیلا کی رائلٹی بھی پوری نہیں دی جا رہی ہے تو کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے بعدکیا صورتحال ہوگی بلکہ درحقیقت کالا باغ ڈیم ایک اور غازی بھروتہ منصوبہ بن جائے گا۔ جسے پانی تو خیبر پختونخوا کے دریائوں سے دیا جا رہا ہے اور نتیجے کے طور پر دریائے اٹک خشک ہو کر محض ایک ندی کی صورت اختیار کرچکا ہے جبکہ غازی بھروتہ کی رائلٹی پنجاب وصول کرتا ہے۔ یوں کالا باغ ڈیم کے لئے ریزروائر سے تو خیبر پختونخوا کے بیشتر علاقوں کو زیر آب لاکر اور لاکھوں افراد کو نقل مکانی پر مجبور کرکے تباہی اور بربادی سے دو چار کیا جائے گا مگر اس سے صحرائے چولستان کو سیراب کرنے' سندھ کا پانی روکنے اور رائلٹی پنجاب کو دی جائے گی بلکہ خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع کو بھی کچھ نہیں ملے گا۔ اس لئے اس کی تعمیر کیسے قومی مفاد میں ہوسکتی ہے؟۔

متعلقہ خبریں