Daily Mashriq


سی ڈی اے اب کیوں جاگی ہے؟

سی ڈی اے اب کیوں جاگی ہے؟

اسلام آباد انتظامیہ اور وفاقی ترقیاتی ادارے سی ڈی اے نے چیئر مین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی بنی گالہ میں رہائش گاہ کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔ عمران خان کی اپنی درخواست پر لئے گئے از خود نوٹس کیس میں سپریم کورٹ کی طرف سے 24اپریل کو جاری حکم کی تعمیل میں متعلقہ اداروں نے اپنا جواب جمع کراتے ہوئے موقف اختیار کیاگیا ہے کہ عمران خان کی رہائش گاہ سمیت 122عمارات غیر قانونی ہیں اس لئے ان کو گرانے کی ضرورت ہے۔ جواب میں دیگر مسائل کی بھی نشاندہی کی گئی ہے اور ماحول کو خراب کرنے کی ذمہ داری بھی (غیر قانونی) تعمیرات کرنے والوں پر ڈال دی گئی ہے۔ فاضل عدالت نے دوران سماعت بعض استفسارات بھی کئے اور برہمی کااظہار کرتے ہوئے وفاق' پنجاب اور خیبر پختونخوا حکومتوں کے جواب مسترد بھی کئے اور درختوں کی کٹائی پر بھی سخت موقف اپنایا ۔ اس حوالے سے مقدمے کا فیصلہ کیا ہوتا ہے اس سے قطع نظر صرف ایک سوال اسلام آباد انتظامیہ اور سی ڈی اے حکام سے پوچھا جاسکتا ہے کہ آج جب کئی سال بعد لگ بھگ 122عمارتوں کو غیر قانونی قرار دیا جا رہاہے تو جب لوگ اتنی بڑی تعداد میں یہ عمارتیں تعمیر کر رہے تھے اس وقت سی ڈی اے کے متعلقہ اہلکار کہاں تھے۔ ان عمارتوں کے نقشے پاس کرنے کی اجازت کس نے دی اور اس وقت ماحول کو تباہ کرنے کے لئے بڑی تعداد میں درختوں کی غیر قانونی کٹائی کی اجازت کس قانون کے تحت دی گئی۔ ظاہر ہے بغیر ملی بھگت کے اتنی بڑی تعداد میں ''غیر قانونی'' عمارتیں کیسے تعمیر کی جا سکتی ہیں اور یقینا جنگلات کی کٹائی میں ملوث افراد کو بھی اجازت انہی اداروں کی جانب سے ملی ہوگی۔ اس لئے اب دوسروں کو ''غیر قانونی'' طور پر تعمیرات کرنے کی سزا کیونکر دی جاسکتی ہے اور کروڑوں روپوں سے تعمیر کردہ جائیدادوں کو گرانے کا اقدام کیا ایک غیر اخلاقی حرکت نہیں ہوگی؟ بقول شخصے سب کچھ لٹا کے ہوش میں آئے تو کیا کیا؟۔

متعلقہ خبریں