ایران کا یہ ردعمل ۔۔۔آخر کیوں ؟؟

ایران کا یہ ردعمل ۔۔۔آخر کیوں ؟؟

ہم میں سے کئی لوگ سوال کرر ہے ہیں کہ آخر اچانک ایران کو کیا ہوا ؟ کہاں تو سی پیک میں شمولیت کی باتیں ہورہی تھیں کہاں چاہ بہار کے رابطے گوادر سے استوار کرنے کی تیاریاں کرنے کی بات ہورہی تھی ، کہاں اچانک ہی ایران نے سب کچھ بھول کر پاکستان کو دھمکی دے ڈالی اور اپنے جارحانہ عزائم کا بھی اظہار کر دیا ۔ بنیادی طور پر کسی ایک ملک کے حوالے سے یہ موقف درست لگتا ہے ۔ کوئی ملک اپنی سرحدوں میں دہشت گردی پسند نہیں کرتا لیکن ایران کی جانب سے یہ بات اس وقت کیے جانا جبکہ کلبھوشن یادیو ابھی لوگوں کی یادداشتوں سے محو نہیں ہوا اور اسکے اعترافات بھی لوگوں کے ذہنوں میں موجود ہیں کہ وہ چاہ بہار کے علاقے میں مقیم تھا اور وہیں سے کئی بار بلوچستان میں داخل ہو چکا تھا ۔ ایسے وقت میں ایران کو ہمارا مسلمان بھائی ملک ہوتے ہوئے ایسی جارحانہ باتوں سے کچھ احتراز کرنا چاہیئے تھا ۔ لیکن یقینا ان سب باتوں کے پیچھے محرکات اور بھی رہے ہونگے جو بظاہر ہم اس وقت سمجھ نہیں پار ہے ۔ یا شاید ہم ان باتوں کو اتنا اہم نہیں سمجھ رہے جتنی یہ ایران کے لیے اہم ہیں ۔ شاید ہم دیکھ نہیں رہے کہ ایران کے لہجے کی یہ جھنجھلاہٹ افغانستان کے باعث بھی ہو سکتی ہے ۔ شاید ہم یہ سمجھ نہیں رہے کہ افغانستان میں ہوتے بہت سے معاملات کو آج بھی پاکستان کی مرضی کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے ۔ حالانکہ پاکستان اور افغانستان کے مابین تعلقات اب بہت حد تک بد ل چکے ہیں ۔ ایران ، عین ممکن ہے کہ افغانستان میں گلبدین حکمت یار کے بڑھتے ہوئے قد سے پریشان ہو ۔حال ہی میں گلبدین حکمت یار جلال آباد سے کابل آئے ۔ ان کے قافلے کا حجم نہ صرف افغان لیڈروں کے لیے پریشان کن تھا بلکہ ہر وہ طاقت جو افغانستان کے معاملات سے اپنی وابستگی محسوس کر تی ہے وہ اس حوالے سے سوچ اور فکر کا شکار ہوگی ۔

گلبدین حکمت یار کی اپنی ایک تاریخ ہے ۔ ایک کردار ہے ۔افغانستان کے حوالے سے ایک قد کاٹھ ہے ۔ اس قد کاٹھ کا اضافہ اگر صاف صاف دکھائی دینے لگے تو کچھ حلقوں میں تشویش اور بے چینی بڑھنے لگتی ہے اور کچھ حلقوں کے چہروں کی طما نیت میں اضافہ محسوس ہونے لگتا ہے ۔ ایران یقینا انہی حلقوں میں شامل ہے جہاں ایک پشتون لیڈر کے قد میں اضافہ دیکھ کر پریشانی اور جھنجلاہٹ میں اضافہ ہونے لگتا ہے ۔ اب تک افغانستان کے سیاسی افق پر کئی چھوٹے چھوٹے لیڈر دکھائی دے رہے تھے ۔ بڑے لیڈروں میں پشتون لیڈ ر کی موجود گی نہ ہونے کے برابر تھی ۔ حامد کرزئی اور اشرف غنی افغانستان کی حکومت کا چہرہ تھے لیکن ایک ایسے وقت میں جب حالات میں تبدیلی کی خوشبو محسو س کی جا سکتی ہے ۔ ایک پشتون لیڈر کا یوں ابھر کر سامنے آنا کئی نئی جہتوں کو زندہ کرتا محسوس ہو تا ہے ۔ گلبدین حکمت یار اس وقت پاکستان کے بارے میں کیا جذبات رکھتے ہیں یہ شاید اس وقت اتنا اہم نہیں۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ افغانستان میں پشتون لیڈر کی طاقت بڑھتی نظر آرہی ہے ۔ پاکستان کی افغانستان کے حوالے سے پالیسی میں کوئی تبدیلی ہے یا نہیں یا میری اس حوالے سے کیا رائے ہے ، میں اس وقت اس بات کو یہاں اضافی تصور کرتی ہوں کیونکہ اس وقت بات دوسرے حوالے اور نقطئہ نظر سے ہور ہی ہے ۔ اس وقت ایران کے لہجے کی جھنجھلاہٹ میں مجھے ان واقعات اور بنتے ہوئے حالات کا رد عمل زیادہ دکھائی دے رہا ہے ۔
گلبدین حکمت یار کے پاکستان کے حوالے سے جذبات یا ترجیحات اس وقت اہم نہیں ، زیادہ اہم بات یہ ہے کہ گلبدین حکمت یار کا ایران یا بھارت دونوں کی ہی جانب کوئی مثبت جھکائو نہیں بلکہ انہیں انکے قریبی حلقوں میں دونوں ہی ممالک کے خلاف تصور کیا جاتا ہے کہ دوسری جانب یہ بات بھی اس وقت انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ حال ہی میں افغانستان میں صدارتی محل میں اپنی حالیہ تقریر میں گلبدین حکمت یار نے حامد کرزئی کی کئی باتوں کا انتہائی سختی سے جواب دیا اور یہ بھی کہا کہ اگر افغانستان کے لیڈ ران ملک کے حالات کی درستگی کے حوالے سے سنجیدہ ہوتے تو دہشتگردی اور بڑھتی ہوئی بے محابہ عسکریت کا معاملہ کب سے حل ہو چکا ہوتا ۔ گلبدین حکمت یار کی اس واپسی سے یقینا ایران خوش نہیں ہوگا اور چونکہ اس خیال کو بین الاقوامی سطح پر خاصی تقویت حاصل ہے کہ پاکستان اور گلبدین حکمت یار کے درمیان تعلق کا پل اب بھی موجود ہے ۔ اور اگر کسی طور اس وقت روابط موجود نہیں تو گلبدین حکمت یار کی طبیعت کا پاکستان کی طرف جھکائو کسی بھی وقت روابط کو دوبارہ استوار کرنے کا سبب بن سکتے ہیں ۔ دوسری طرف اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ پاکستان کے لیے پشتون لیڈر وں سے وابستگی محسوس کرنا بھی ایک معمول کی کیفیت ہے ۔
ایران کے بھارت سے تعلقات اچھے ہیں ۔ پاکستان میں سی پیک کے ثمرات کے حوالے سے ایران ابھی تک اپنے رد عمل کا تعین نہیں کر پایا ہے ۔ وہ یقینا یہ دیکھ رہا ہے کہ امریکہ اور بھارت کے درمیان قربت بڑھ رہی ہے لیکن یہ بات بھی کسی سے چھپی ہوئی نہیں کہ امریکہ اب ایک ڈھلتی ہوئی طاقت ہے ۔ جبکہ اس خطے میں چین ، روس اور کچھ فاصلے پر موجود ترکی کا جو اکٹھ اور بلاک بنتا نظر آرہا ہے اس کا منفی رد عمل یقینا امریکہ اور اسکے حواریوں کو بھگتنا پڑے گا ۔ ایک ایسے وقت میں اس خطے میں بھارت کا یہ فیصلہ کس حدتک عقل مندی یا دور اندیشی پر مبنی ہے اسکے بارے میں مختلف آراء دی جارہی ہیں۔ بہر حا ل ایران نے اپنے اس ردعمل سے ہو سکتا ہے اپنا جھکائو ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے جو شاید مثبت نہیں اس وقت پاکستان کو ایک ایسی خارجہ پالیسی اپنا نے کی ضرورت ہے جس میں وہ اس خطے میںکم سے کم دشمن رکھے ۔ اس لیے اس معاملے کو اس روشنی میں حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے اور ایران کوبھی بہت سوچ سمجھ کر فیصلے کرنے کی ضرورت ہے ۔

اداریہ