کرن اترنے کی آہٹ سنائی دیتی ہے

کرن اترنے کی آہٹ سنائی دیتی ہے

جے سالک یا د آگئے ہیں ، اس قسم کے تماشے وہ لگائے رکھتے تھے ، جیسا کہ گزشتہ روز جمشید دستی نے دکھا یا اور عوام میں مقبولیت کا نیا ڈھونگ رچاتے ہوئے سابق وفاقی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کے آبائی علاقہ سنا نواں میں جوتے پالش اور جوتے مرمت کا کھو کھالگا لیا۔ اس موقع پر جمشید دستی نے علاقہ مکینوں کے جوتے خود پالش کر کے افتتاح کیا ۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جمشید دستی نے کہا کہ ایم این اے شپ کے بعدمزدوری کر سکتا ہوں ، اس قسم کے تماشے اقلیتوں کے ایک رہنما ء اور سابق ممبر قومی اسمبلی جے سالک بھی لگا کر خود کر نمایا ں کرنے کی ایسی حرکتیں کیا کرتے کہ ان حرکتوں پر '' احمقانہ '' کی چھاپ آسانی سے لگ سکتی تھی، جب گوہر ایوب خان قومی اسمبلی کے سپیکر تھے تو ان کے ساتھ الجھ کر موصوف بغیر جوتیوں کے قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرکے اس وقت کی اسمبلی میں احتجاج ریکارڈ کروایا کرتے،جوتے پالش کرنا کوئی بری بات نہیں، حلال رزق کمانے کا ایک باوقار طریقہ ہے بشر ط یہ کہ ہم اسے معاشرے میں پیشوں کے حوالے سے باوقار قرار دید یں اور محض خود کو میڈ یا کی نظروں میں لانے کے لئے نہ اپنائیں ، اس حوالے سے مغربی معاشرہ ہم سے بہت آگے ہے جہاں ہر شعبے کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جا سکتا ہے۔ فنانشل ٹائمز کی وقائع نگار لوسی کیلا وے نے جوتے پالش کرنے والے ایک تعلیم یافتہ فرانسیسی کا حال لکھا ہے جو بینکاروں سے زیادہ خوشحال ہے ، خاتون وقائع نگار کو اس نے بتایا کہ مجھے کسی کو متاثر کرنے کی ضرور ت نہیں ہے ۔ جوتے پالش کرنے والے مارک نے بتایا کہ دوسری اچھی بات یہ ہے کہ اس کام سے ذہنی سکون ملتا ہے ، گندے جوتوں کا ایک جوڑا لیکر آٹھ منٹ میں چمکا دیتا ہوں ، وقائع نگار نے اپنے تاثرات ظاہر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جب میں چمکتے ہوئے جوتے پہن کر چلتی ہوں تو زیادہ بہتر ، اچھا اور با اعتماد محسوس کرتی ہوں ، دوسروں کو مسرت کا احساس دینا خوشی کے حصول کا قابل اعتماد ذریعہ ہے ، جی ہاں ، یہ ایک پہلو ہے ، اسی لئے خوشیوں والے پیشوں میں مالی مشیروں اور تجارتی وکلا کے مقابلے میں (حسن کاروں ) اور زلف تراشوں کا حال کہیں بہتر ہے ۔ فرانسیسی پالشی کے نظریہ کو اگر دیکھا جائے تو ایسی ہی بات پشاور کے ہمارے ایک کر مفرما خورشید ایڈووکیٹ میں بھی نظر آتی ہے ، موصوف چند برس پہلے صوبہ خیبر پختونخوا کے ایڈووکیٹ یا شاید ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بھی رہ چکے ہیں ، جبکہ ان کی شہرت سابق آمر جنرل (ر) مشرف کے انتہائی قریبی ساتھی بیر سٹر احمد رضا قصوری کے چہرے پر ''پالش ' ' ڈال کر ان کے چہرے کو سیاہ کرنے کے واقعے کے حوالے سے ہے ،بہرحال انہی خورشید ایڈووکیٹ نے جو انسانیت کی بالا دستی کے علمبر دار ہیں ، چند برس پہلے حسن ابدال میں پنجہ صاحب کی یاترا پر آئے ہوئے سکھوں کی مقدس عباد ت گاہ جاکر وہاں سکھوں کے جوتوں کو پالش لگا لگا کر ان جوتوں کو چمکانے میں سارا دن گزارا اور اس کام میں سکون محسوس کیا ۔ یہاں تک کہ سکھ برادری کی جانب سے خورشید ایڈووکیٹ کو امرتسر کے دورے کی دعوت دی گئی اور وہاں بھی وہ اپنے ساتھ پالش کے ڈبے ، برش اور جوتوں کو چمکانے والا کپڑا لے کر گئے اور وہاں کے سکھوں کے جوتے پالش کرتے ہوئے ان کی خوشنودی حاصل کی ، اس کام سے جو ذہنی سکون انہیں ملا اس کا جواب نہیں ہے۔ سجاد بابر نے شاید خورشید کے دل کی کیفیت کو الفاظ کا پیر ہن ان الفاظ میں پہنا یا ہے کہ 

کرن اترنے کی آہٹ سنائی دیتی ہے
میں کیا کرومجھے خوشبو دکھائی دیتی ہے
بات جمشید دستی کے حوالے سے چلی تھی اور اسی حوالے سے جے سالک بھی یا د آگئے تھے ، اب تو پتہ نہیں کہ جے سالک ان دنوں کس حال میں ہیں اگر چہ ان کی محولہ حرکتوں کے علی الرغم موصوف ایک اچھے انسان ہیں اور انہوں نے جو بھی حرکت کی اس کی پشت پر حکومت کی پالیسیوں کے خلاف علم احتجاج بلند کرنا تھا ، جبکہ جمشید دستی نے پہلے اپنے علاقے میں وہاں جا گیرداروں طاقتور افراد کو چیلنج کرکے ایک جیالے کی حیثیت سے انتخابی معرکہ جیتا ۔
مگر مخالف کی جانب سے ان کی تعلیمی اسناد کو چیلنج کرنے اور اس حوالے سے بوگس اسناد کی بنیاد پر انہیں قومی اسمبلی کی ممبر شب سے محروم کر دیا گیا تھا ، تاہم تب تک ڈگری والی شرط ختم ہونے کی وجہ سے انہوں نے اپنی نشست آزاد امیدوار کے طور پر دوبارہ جیت لی تھی کیونکہ وہ اپنے علاقے میں عوامی خدمت کے حوالے سے بہت مقبول ہیں ۔ اس کے بعد انہوں نے پیپلز پارٹی چھوڑکر اپنی جماعت پاکستان عوامی راج پارٹی قائم کی جس کے وہ خود سربراہ ہیںاور اب انہوں نے عوامی جوتوں کی مرمت اور پالش کا کھوکھا کھول لیا ہے تاکہ بقول موصوف کے ایم این اے شپ کے بعد ( اگر علاقے کے طاقتور جاگیرداروں نے انہیں ہرادیا ) کم از کم محنت تو کر سکیں گے یعنی روٹی تو کسی طور کما کھائے مچھند رحالانکہ اگر وہ اپنے عوام کی بے لوث خد مت کرتے رہیں گے تو شاید انہیں الیکشن میں ہرانا مخالفین کیلئے مشکل امر ہو جائے اور جیسا کہ فرانسیسی پالش والے مارک نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ریٹائرمنٹ کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تو جمشید دستی کو بھی سیاست سے ریٹائرمنٹ کے بارے میں نہیں سوچنا چاہیئے۔ ویسے بھی ہمارے ملک میں سیاستدان اس قسم کی سوچ پر وان نہیں چڑھاتے
جس کو بھی توفیق دیتا ہے خدا
آندھیوں میں وہ جلاتا ہے چراغ