Daily Mashriq


قوم کے عیش کرنے کے دن آگئے

قوم کے عیش کرنے کے دن آگئے

حکومت جب مفاد عامہ کے کاموں کو اپنی ترجیحات میں شامل کرے اور جس طبقے کی بدولت کاروبار سرکار چلتا ہے اس کے نان نفقہ کا خیال رکھے اس کی مالی مراعات میں اضافہ کرے' اسی حکومت کی تعریف ہم پر لازم ہے۔ وہ جو کہتے ہیں سڑکوں وڑکوں کی تعمیر سے قومی ترقی کا اندازہ نہیں لگتا ان سے ہمیں یہ پوچھنے دیجئے کہ قومی ترقی کو ماپنے اور جانچنے کا کیا پیمانہ ہوگا۔ ایک زمانہ تھا جب ہم سفر کے خطرات سے محفوظ رہنے کے لئے گھر سے لاہور جاتے وقت بازو پر امام ضامن باندھ کر نکلتے۔ وہ تو خیر ہم اب بھی کرتے ہیں اور پھر بارہ گھنٹوں تک جی ٹی روڈ پر ذلیل و خوار ہونے کے بعد لاہور پہنچنا نصیب ہوتا۔ مردان سے پشاور تک کا راستہ ڈیڑھ گھنٹے سے آدھے گھنٹے تک سمٹ آیا ہے۔ یہ سب کچھ سڑکوں کی تعمیر ہی کا نتیجہ ہے جس کا سہرا نون لیگ کی حکومت کے سر باندھا جاسکتا ہے۔ اس طرح پختونخوا کی گزشتہ اے این پی حکومت نے پل بنا' چاہ بنا' مسجد و تالاب بنا کے منصوبوں پر کام کرکے عوام کو فیض رسانی کے اسباب مہیا کئے۔اس کی بھی ہم بجا طور پر تعریف کریں گے۔ منہ ماری کا سلسلہ بھی جاری رہا جس کے نتیجے میں بے شمار ایسے ویسے' کیسے کیسے ہوگئے۔ اس کے باوجود اے این پی حکومت کے تعمیری کاموں کو نظر انداز نہیں کیاجاسکتا۔ پیپلز پارٹی کی تمام گزشتہ حکومتوں میں ہمیشہ سرکاری ملازموں کو بہتر مالی مراعات دی گئیں۔ ان کی تنخواہوں میں توقع سے زیادہ اضافہ کرتے رہے۔ ہمیں اچھی طرح یاد ہے پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت نے جبکہ ملکی حالات نہایت ہی نا مساعد تھے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا المیہ پیش آچکا تھا ملک کے خزانے کی صورتحال بھی کچھ زیادہ تسلی بخش نہ تھی ان سب مسائل کے باوجود پیپلز پارٹی کی حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 35فیصد اضافہ کرکے ایک ایسا ریکارڈ قائم کیا جو اب تک قائم و دائم ہے۔ اس کے بعد بھی جب بھی پیپلز پارٹی کی حکومت آئی ان کے سالانہ بجٹوں میں سرکاری ملازمین کو زیادہ سے زیادہ مراعات دی گئیں۔ کم و بیش ہر بجٹ میں 20سے 25 فیصد تک اضافہ ہوا جبکہ ن لیگ کی حکومت نے ہمیشہ اس ضمن میں شدید کنجوسی کا مظاہرہ کیا۔ یہ ریکارڈ ہے کہ ان کی حکومت میں کبھی بھی 10فیصد سے زیادہ کا اضافہ نہیں ہوا۔ آئندہ مالی سال کا بجٹ شنید ہے 27مئی کو پیش کیا جائے گا۔ حسب روایت ایک ماہ پہلے سے کہا جا رہا ہے کہ اس میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جائے گا جبکہ صورتحال اس سے بالکل برعکس ہے جس کا ذکر ہم آگے چل کر کریں گے۔ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 سے 15فیصد تک اضافے کے لئے کام شروع کردیاگیا ہے۔ کام شروع کرنے کی یہ منطق ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ 

کیا اس کے لئے اقوام متحدہ سے قرار داد پاس کرنا پڑتی ہے' اس سے اجازت لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم نے اپنے ایک ماہر معاشیات دوست سے پوچھا ان کاجواب تھا اقوام متحدہ سے تو نہیں عالمی مالیاتی اداروں کی اجازت کے بغیر ہم سانس بھی نہیں لے سکتے۔ وزیر خزانہ کی گزشتہ دنوں آئی ایم ایف کے ذمہ داروں سے گفت وشنید' بجٹ تجاویز پر ان کی مبینہ رضا مندی بلکہ منظوری ہی کے لئے تو تھی۔ 10 سے 15فیصد تک سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کی جو خبر عام ہوئی ہے ہم نون حکومت کے ٹریک ریکارڈ کے پیش نظر ایک افواہ سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ وہ جو پشتو میں کہتے ہیں اختر سہ پٹ میڑہ نہ دے۔ عید آنے پر سب کچھ سامنے آجائے گا۔ ہم ستارہ شناس نہیں۔ منظور و سان صاحب کی طرح سپیرہ زبرگ ضرور ہیں وہ سیاسی پیشن گوئیوں میں اگر مہارت رکھتے ہیں ہم بجٹ کے زخم خوردہ سابقہ سرکاری ملازم اور اب پنشنر کی حیثیت سے ڈنکے کی چوٹ پر کہتے ہیں کہ یہ اضافہ دس فیصد سے زیادہ نہ ہوگا۔ تنخواہوں میں اضافہ بھی آئی ایم ایف کے آقائوں کی اجازت کا مرہون منت ہوتا ہے۔پہلے مرحلے میں سرکاری ملازمین کی جانب سے یہ اضافہ مسترد کرنے کا نعرہ بلند ہوگا اور پھر آخر میں جیسے کہ ایک خان کو اس کے ملازم نے دھمکی دی تھی میری تنخواہ میں اضافہ کرو ورنہ' ورنہ کیا؟ خان نے آنکھیں نکالتے ہوئے کہا پھر اسی تنخواہ پرکام کروں گا۔ سرکاری ملازم بھی آئندہ بجٹ تک اسی تنخواہ پر کام کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ سرکاری ملازمت کے پنجرے میں محصور و مجبور انسان کر ہی کیا سکتا ہے۔

رہی بات بجٹ میں کسی نئے ٹیکس نہ لگانے کی تو گزشتہ روز ہی اخبارات میں یہ شعلہ بار خبر لگی ہے کہ وفاقی حکومت کے آئندہ بجٹ میں 350 ارب روپے کا ریو نیو حاصل کرنے کے لئے ایک ہزار سے زائد اشیاء مہنگی کرنے کی تجویز زیر غور ہے جن میں ٹوتھ پیسٹ سے لے کر بسکٹ' جوسز اور چاکلیٹ تک کی اشیاء شامل ہیں۔ زیادہ ہوش ربا خبر یہ ہے کہ بنکوں سے لین دین پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی موجودہ شرح 0.4 سے بڑھا کر 0.6 کرنے کی تجویز ہے جو بالیقین پاکستانی قوم کے لئے مدر بم کے نام سے نیو کلیئر ہتھیار سے زیادہ تباہ کن ثابت ہوگا۔ کہتے ہیں کہ ایک کنجوس مکھی چوس خان کا ایک نیم برہنہ ملازم اس کے پیچھے پائوں گھسیٹتے ہوئے جا رہا تھا۔ راستے میں اسے ایک مونگ پھلی پڑی ملی بھوکا تھا بے چارہ اٹھا کر منہ میں ڈال لی۔ خان نے اسے دیکھ کر کہا ' چی مونگ سرہ گرزی دا مزے بہ کوے ۔ ہماری ملازمت میں اس طرح عیش کرو گے۔ قوم بھی خان کے نیم برہنہ نوکر کی طرح ہے اور خان کون؟ یہ اندازہ آپ خود ہی لگا ئیں ۔

متعلقہ خبریں