Daily Mashriq


پختونخوا اسمبلی

پختونخوا اسمبلی

خیبر پختونخوا اسمبلی کے حوالے سے ہمیشہ یہ سنتے آئے ہیں کہ اس ایوان کی اپنی روایات ہیں اور اسے پختون قوم کے جرگے کی حیثیت حاصل ہے۔ اس بات پر ارکان اسمبلی فخر بھی کرتے رہے ہیں کہ اس معزز ایوان میں ہونے والے فیصلوں کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے اور جب کسی نے اسمبلی کے کسی رکن کے حوالے سے ایسی ویسی بات کی ہے تو استحقاق کمیٹی نے اس کا نوٹس بھی لیا ہے۔ مگر کچھ عرصہ سے خیبر پختونخوا اسمبلی میں جو مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں وہ کسی صورت بھی اس ایوان کے شایان شان نہیں۔ یہاں یہ بھی محل نظر ہے کہ لڑائی جھگڑے' تلخی اور سخت الفاظ تو دنیا کی دیگر اسمبلیوں میں بھی سننے کو ملتے ہیں۔ پھر خیبر پختونخوا کے حوالے سے اتنی حساسیت کیوں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک تو پختونخوا اسمبلی کی روایات کا ہمیشہ پاس رکھا گیا ہے اور دوسری بات یہ کہ اس مرتبہ ''اعلیٰ تعلیم یافتہ'' ارکان اس ایوان کے رکن بلکہ مختار ہیں۔ اب ظاہر ہے اعلیٰ تعلیم یافتہ ارکان سے مہذب اور شائستہ انداز اور رویے کی توقع ہی کی جاسکتی ہے۔ اب آتے ہیں اسمبلی کی حالیہ نشستوں کی طرف جس میں نہ صرف یہ کہ زبان و کلام کی شائستگی کو بالائے طاق رکھا گیا ہے بلکہ اسمبلی کے قواعد و ضوابط بھی خاطر میں نہیں لائے گئے۔ بد قسمتی سے بر سر اقتدار جماعت کے اکثر ارکان اسمبلی پارلیمانی روایات سے نا بلدہیں اور قائد ایوان ان کی تربیت پر توجہ دینے کی بجائے دیگر معاملات میں الجھے ہوئے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اسمبلی کے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر بھی چلتی کا نام گاڑی کے مصداق محض کارروائی آگے بڑھاتے ہیں اور قواعد نام کی کسی چیز کو خاطر میں نہیں لاتے۔ گزشتہ ایک اجلاس میں وزیر اعظم سے استعفیٰ دینے کی قرار داد پیش کی گئی جسے رائے شماری کے لئے ایوان کے سامنے رکھاگیا اور عددی برتری کو جواز بنا کر ''منظور ہے'' کا اعلان کیاگیا۔ یہ قرار داد سوات سے رکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹر حیدر علی کی جانب سے پیش کی گئی۔ کرسیٔ صدارت پر رونق افروز سپیکر نے بھی محض پارٹی ہدایت پر عمل کیا اور اسمبلی کے مروجہ طریقہ سے یا تو صرف نظر کیا یا انہیں علم ہی نہیں تھا کہ ایسے وقت میں کیا طریقہ اختیار کیاجاتا ہے۔ اسی عنوان سے ایک قرار داد پہلے ہی تحریک انصاف کے رہنما شوکت یوسفزئی نے اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کی تھی مگر عین موقع پر ایک آسان طریقہ کار کے تحت ہی قرار داد لانے کی بجائے ڈاکٹر حیدر علی کو اچانک ایک قرار داد تھما دی گئی۔ اس کے پس پشت بھی ایک کہانی ہے اور اندر کی بات جاننے والے جانتے ہیں کہ ڈاکٹر حیدر علی کے ذریعے قرار داد پیش کرنے کا مقصد کیا تھا۔ بہر حال اگر قرار داد کو اسمبلی قواعد و ضوابط کے مطابق پاس کیاگیا تھا تو اس کی سیاسی حیثیت پارلیمانی اہمیت بھی قائم رہتی۔ شور شرابے میں منظور کی گئی اس قرار داد کی حیثیت اب متنازعہ ہو چکی ہے۔ اس دن ایوان کے اندر جو ہنگامہ ہوا وہ بھی ایوان کی روایات کے بر عکس تھا اور بالآخر سپیکر کو اجلاس ملتوی کرنا پڑا۔ اس اجلاس کے اگلے سیشن میں بات مزید آگے بڑھی اور خواتین ارکان اسمبلی کی جانب سے فنڈز کے مطالبے پر حکومت نے جو رویہ اختیار کیا اسے کسی بھی لحاظ سے روایات کے مطابق یا پارلیمانی اقدار سے ہم آہنگ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ فنڈز کا مطالبہ اپوزیشن کی خواتین کر رہی تھیں مگر اس کو حکومتی نشستوں پر بیٹھی خواتین کی خاموش حمایت بھی حاصل تھی۔ کیونکہ تبدیلی کے دعویداروں نے خواتین کو فنڈز دینے سے انکار کردیا ہے اور اس کااعتراف آف دی ریکارڈ گفتگو میں حکومتی ارکان کرچکے ہیں۔ اس مطالبے کا مناسب انداز میں جواب ممکن تھا لیکن ایک وزیر نے نا معلوم کسی وجہ سے بات کا بتنگڑ بنا کر نہ صرف اس ڈیمانڈ کو بلا جواز گردانا بلکہ خواتین ارکان کو جن الفاظ سے نوازا وہ بھی پارلیمان کیا کسی بھی ذمہ دار ''مرد'' کے شایان شان نہیں تھے۔ اس کا مثبت پہلو یہ ہے کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے فوری طور پر اس صورتحال کا نوٹس لیا اور خواتین ارکان سے متعلق رویہ تبدیل کرنے کی ''ٹویٹ'' جاری کردی۔ اسمبلی کارروائی کی وہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل رہی ہے۔ یہاں یہ بات بھی مد نظر رہے کہ ان الفاظ کو بھی ایوان کی کارروائی سے حذف کرنے کی نہ تو کسی رکن نے درخواست کی اور نہ سپیکر کی نشست پر تشریف فرما خاتون ڈپٹی سپیکر نے اس کی ضرورت محسوس کی۔ اسمبلی کی کارروائی کو جس انداز میں چلایا جا رہا ہے اس طرح تو حجرے کی محفل بھی نہیں چلائی جاتی۔ تحریک انصاف کی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا کے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کو بھی سمجھائیں کہ معزز ایوان ایسے نہیں چلائے جاتے۔ ڈی چوک کے جلسے اور اسمبلی کی کارروائی میں فرق ہوتا ہے۔ اور اس طرح ایوان کے اندر استعمال ہونے والی زبان و بیان میں فرق ہوتا ہے۔ پارلیمانی انداز تخاطب کے اپنے ضابطے ہیں اور اخلاقیات بھی اسمبلی کے الگ ہیں بلکہ ہر ایک لفظ کو نوٹ کیاجاتا ہے اور اسمبلی مباحث کا حصہ بنتا ہے۔ اس تسلسل میں اسمبلی کے خواتین چیمبر میں پیش آنے والے واقعے کی جو خبریں سامنے آئی ہیں خدا کرے کہ ان میں حقیقت نہ ہو۔ یقینا اسمبلی کے اندر خواتین کا زیادہ احترام کیا جاتا ہے اور انکا احترام لازمی ہے لیکن حکومت و اپوزیشن دونوں جانب کی خواتین کو بھی ڈیکورم کا خیال رکھنا چاہئے کیونکہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی۔

متعلقہ خبریں