خون کی دلدل میں حکمت یار کا پہلا قدم

خون کی دلدل میں حکمت یار کا پہلا قدم

روس کے خلاف افغانوں کی مزاحمت کے اہم کردار گل بدین حکمت یار طویل مدت کی گمنامی اور غیر فعالیت کے بعد دوبارہ افغانستان کے اُفق پر چمک اُٹھے ہیں۔روس نے افغانستان سے رخت سفر باندھنے کا اعلان کیا تو اس وقت افغانستان کی دو بڑی زمینی حقیقتیں گل بدین حکمت یار اور برہان الدین ربانی کی جماعتیں تھیں ۔امریکہ نے اس سیاسی عمل سے حکمت یار کو باہر رکھنے کی کوششیں شروع کیںجس کے بعد افغانستان ایک نہ ختم ہونے والی خانہ جنگی کی راہ پر چل نکلا۔ یہی زخم آخر کار ناسور میں ڈھل کر رہ گیا۔ پاکستان اور سعودی عرب نے افغانستان کے ہر عبوری سیاسی انتظام میں حکمت یار کی سیاسی ،عسکری حیثیت اور وزن کے مطابق جگہ دلانے کی کوشش کی مگر ان کی سیاہ پگڑی ،ریڈیکل سوچ اور ایک واضح ورلڈ ویو سے مغرب کا خوف کم نہ ہو سکا اور وہ ہر سیاسی عمل میں انہیں دیوار سے لگائے رکھنے کی تدابیر اختیار کرتے رہے ۔اولین جلاوطن عبوری حکومت میں وزیر اعظم کا منصب انہی کی جماعت کو دیا گیا اورحکمت یار نے انجینئر احمد شاہ احمد زئی کو اس ذمہ داری کے لئے نامزد کیا ۔صبغت اللہ مجددی کی سربراہی میں قائم ہونے والی عبوری حکومت میں بھی گل بدین حکمت یار کی جماعت کو بڑا حصہ دیا گیا۔ایک اور عبوری حکومت میں انہیں صدر برہان الدین ربانی کے ساتھ وزیر اعظم بنایا گیا مگر یہ سب بادل نخواستہ ہوا۔کابل میں نجیب اللہ حکومت کے زوال کے بعد حکمت یار کی سپاہ کابل میں داخل ہوئیں تو ان کا حیرت انگیز طور پر شاندار استقبال ہوا مگر اس لہر کو روکنے کے لئے سازشوں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا اور حکمت یار وزیر اعظم ہونے کے باجود کابل میں داخل نہیں ہو سکے۔کابل کا انتظام ان کے سخت گیر حریف احمد شاہ مسعود کے پاس رہا جو عبوری حکومت میں وزیر داخلہ کے منصب پر فائز تھے۔اس طرح افغانستان خانہ جنگی کے ماحول سے باہر نہیں نکل سکا اور اسی صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لئے طالبان کی تشکیل تک بات جا پہنچی تھی ۔ اس آخری عبوری حکومت کے وقت طالبان ایک اُبھرتی ہوئی عسکری طاقت بن چکے تھے ۔طالبان تحریک نے افغانستان کی جن زمینی حقیقتوں کو خس وخاشاک کی مانند بہا ڈالا ان میں سب سے مضبوط عسکری اور سیاسی تنظیم حزب اسلامی شامل تھی ۔حکمت یار چہار آسیاب میں اپنا ہیڈ کوارٹر چھوڑ کر کہیں اور نکل گئے اور یوں وہ افغانستان کے عسکری منظر نامے میں غیر متعلق ہو تے چلے گئے ۔طالبان ان کا نام سننے کے روادار نہ تھے ۔حکمت یار بھی چلتے چلتے ایران کو چل دئیے ۔یہ وہ ملک تھا جس کے ساتھ کسی دور میں ان کی شدید مخاصمت ہوا کرتی تھی مگر طالبان کی مخالفت میں دونوں نے ہاتھ ملایا ۔حکمت یار ایران میں صرف دن گزارتے رہے ۔شاید اس سے زیادہ کی ایران نے انہیں اجازت ہی نہیں دی ۔ایک روز مجبوری کے اس تعلق کی ڈور ٹوٹ کر رہ گئی اور حکمت یار ایران سے خاموشی سے افغانستان منتقل ہوگئے ۔اس دوران ان کی جماعت کا ایک اچھا خاصا حصہ بون کانفرنس کے بعد عالمی انتظام میںشروع ہونے والے سیاسی عمل کا حصہ بن چکا تھا ۔ طالبان حکومت کے خاتمے کے بعدبون کانفرنس میں افغانستان کی صدار ت کے طاقتور امیدواروں میں حامد کرزئی کے ساتھ ساتھ گل بدین حکمت یار کے داماد ہمایوں جریر بھی شامل تھے مگر صدارت کا قرعہ فال حامد کرزئی کے نام نکلا تھا ۔کابل کے سیاسی عمل میں شریک حزب اسلامی کے لوگوں کی مسلسل یہ کوشش رہی کہ حکمت یارکے لئے کابل میں سپیس پیدا ہو اور وہ سیاسی عمل میں شمولیت اختیار کریں۔اس میں ایک اہم رکاوٹ حکمت یار کا یہ موقف تھا کہ وہ غیر ملکی افواج کے انخلاء تک مذاکراتی عمل میں حصہ نہیں لیں گے جبکہ اور مشکل یہ تھی کہ امریکہ نے انہیں دہشت گرد قرار دے رکھا تھااور ان پر مختلف قسم کی پابندیاں عائد تھیں۔یوں لگتا ہے فریقین نے اس معاملے میں اپنی اپنی پوزیشنوں کو دوبارہ ترتیب دیا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اب حکمت یار امن کا پھریرا لہراتے ہوئے یک جہتی اور استحکام کے پند و نصائح کے ساتھ کابل میں داخل ہوئے ہیں مگر ان کے ہاتھ میں کلاشنکوف نہیں اور نہ ہی مسلح مجاہدین ان کے جلو میں تھے بلکہ وہ سیاسی عمل کا حصہ بننے آئے ہیں ۔افغانستان پر ابھی تک امریکہ کی حکمرانی ہے اور بھارت اس کا جونیئر پارٹنر ہے ۔سولہ برس کے بعد امریکہ کو افغانستان میں بموں کی ماں کا استعمال کر نا پڑا اورطالبان تحریک نے سولہ برس کی سب سے بڑی کارروائی کرتے ہوئے ایک فوجی مرکز میں افغان فوجیوں کے کشتوں کے پشتے لگا دئیے ۔طالبان آج بھی وسیع علاقے پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہیں اور روس اس صورت حال میں مداخلت کی راہیں تلاش کررہا ہے ۔پاکستان کو افغانستان کے سیاسی عمل سے باہر رکھنے کی کوششیں زوروں پر ہیں۔ گویا کہ افغانستان آج بھی ایک خونین دلدل ہے ۔ایسے میںحکمت یار عسکری طاقت کی بجائے سیاسی انداز سے سسٹم کے اندر سے داخل ہورہے ہیں ۔یہ بونوں کی بستی میں ایک قدآورآدمی کی آمد ہے اور لامحالہ بہت سی جبینوں پر شکنیں اُبھرنا یقینی ہے۔حکمت یار کے لئے سب اچھا نہیں۔ انہیں میدان میں آنے کی اجازت تو دی گئی مگر طالبان اور طالبان مخالف قوتوں میں بری طرح منقسم افغانستان میں سپیس بنانے کا بوجھ خود انہی کے کندھوں پر ہے ۔یہ وہی سٹائل ہے جس طرح بے نظیر بھٹو کو خوفناک دہشت گردی کا شکار پاکستان میں لاچھوڑا تھا اور سپیس بنانے کا کام خود انہی کے ذمہ تھا ۔خدا کرے افغانستان کا مقبول اورمتحرک راہنمااس انجام سے محفوظ رہے۔

اداریہ