Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

حضرت محمد بن یوسف سیدنا ابو سنان سے نقل کرتے ہیں : ''ایک مرتبہ میں بیت المقدس کی پہاڑیوں میں تھا ، ایک جگہ مجھے انتہائی پریشانی کے عالم میں ادھر اُدھرگھومتا ہوا ایک غمگین نوجوان نظر آیا ، میں اس کے پاس آیا اور سلام کے بعد اس سے پریشانی کا سبب پوچھا تو اس نے بتایا : '' ہمارے ایک پڑوسی کا بھائی فوت ہوگیا ہے ، میرے ساتھ چلو تا کہ ہم اس کی تعزیت کریں اور اسے تسلی دیں ۔ ''میں اس نوجوان کے ساتھ چل دیا ، ہم ایک شخص کے پاس پہنچے جو بہت اداسی اور پریشانی کے عالم میں بیٹھا ہوا تھا، ہم نے اسے صبر کی تلقین کی اور تسلی دینے دی ۔ہماری باتیں سن کر وہ شخص کہنے لگا : '' میرے بھائیو ! تم نے بالکل ٹھیک کہا ، تمہاری باتیں بالکل بر حق ہیں لیکن میں تو اس لئے رو رہا ہوں کہ میرے بھائی کو قبر میں بڑی پریشانی کاسامنا ہے ۔میں اس ہولناک منظر کی وجہ سے پریشان ہوں ، جو میں نے دیکھا ہے ۔ جب میرے بھائی کا انتقال ہوگیا تو تجہیز و تکفین کے بعد ہم نے اسے قبرستان لے جا کر دفن کر دیا ، لوگ واپس آگئے ، میں کچھ دیر قبر کے پاس ہی کھڑا رہا ، یکا یک میںنے قبر سے ایک درد ناک آواز سنی ، میرا بھائی نہایت در د مندانہ انداز میں چیخ رہا تھا : میں نے بے چین ہو کر قبر کھودنا شروع کردی تو ایک غیبی آواز نے مجھے چونکا دیا ، کوئی کہنے والا کہہ رہا تھا : '' اے خد ا کے بندے ! اس قبر کو نہ کھود و ، یہ خدا کے رازوں میں سے ایک راز ہے ، اسے پوشیدہ ہی رہنے دو ۔ '' آواز سن کر میں قبر کھودنے سے باز رہا ،دوبارہ ایسی ہی چیخیں سنیںاور اسی غیبی آواز نے پھر منع کیا ۔ تیسری بار جب میںنے اپنے بھائی کی آواز سنی تو مجھے بہت رحم آیا اور میں نے قبر کھودنا شروع کی ، جیسے ہی میں نے قبر سے سل ہٹائی تو قبر کا اندرونی منظر دیکھ کر میر ے ہوش اڑگئے ، سارا جسم آگ کی زنجیروں میں جکڑ ا ہوا تھا ، اس کی قبرآگ سے بھری ہوئی تھی ۔ مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے اسے زنجیروں سے آزاد کرانے کے لئے اپنا ہاتھ اس کی گردن میں بندھی ہوئی زنجیروں کی طرف بڑھایا جیسے ہی میرا ہاتھ زنجیر کو لگا میرے ہاتھ کی انگلیاں جل کرہاتھ سے جدا ہوگئیں ،میں وہاں سے بھاگ نکلا ۔اتنا کہنے کے بعد اس نے چادر سے اپنا ہاتھ نکالا تو واقعی اس کی چار انگلیاں غائب تھیں اور ہاتھ پر زخم کا عجیب و غریب نشان موجود تھا ۔ حضرت ابو سنان فرماتے ہیں : '' کچھ عرصہ کے بعد جب میں حضرت امام اوزاعی کی خدمت میں حاضر ہوا اور انہیں یہ سارا واقعہ سنا یا پھر پوچھا : ''حضور ! جب کوئی یہودی یا نصرانی مرتا ہے تو اس کا عذاب قبر لوگوں پر ظاہر نہیں ہوتا ، لیکن مسلمانوں کی قبروں کے حالات بعض مرتبہ ظاہر ہو جاتے ہیں ، اس کی کیا وجہ ہے ؟ '' تو آپ نے ارشاد فرمایا : '' کفار کے عذاب قبر میں تو کسی مسلمان کو شک ہی نہیں ، انہیں تو دائمی عذاب کا سامنا کرنا ہی ہے ۔ اس لئے ان کے عذاب کو ظاہر نہیں کیا جاتا ۔ ہاں بعض مرتبہ گنہگار مسلمانوں کی قبروں کا حال لوگوں پر منکشف کر دیا جاتا ہے تاکہ لوگ اس سے عبرت پکڑیں۔ ( عبرت آموز واقعات)

متعلقہ خبریں