Daily Mashriq

رمضان ٹرانسمیشن

رمضان ٹرانسمیشن

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے فکر انگیز بات کہی ہے کہ ٹی وی چینلز پر اگر اداروں کیخلاف بات سنسر ہوتی ہے تو دین کیخلاف کیوں نہیں؟ رمضان کے دوران خاص طور پر سحر اور افطار ٹرانسمیشن میں کوئی دھمال نہیں چلے گی، اُچھل کود کا کلچر بند نہ ہوا تو پابندی لگا دیں گے۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے دوران سماعت ریمارکس دیئے کہ کرکٹ پر تجزیہ کیلئے بیرون ملک سے ماہرین طلب کئے جاتے ہیں لیکن اسلامی موضوعات پر بات کرنے کیلئے اداکاروں اور کرکٹر ز کو بٹھا دیا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ٹی وی پر اسلامی موضوعات پر پی ایچ ڈی اسکالر سے کم کوئی بات نہیں کرے گا۔ مغرب کی اذان سے پانچ منٹ قبل درود شریف یا قصیدہ بردہ شریف نشر کریں، کوئی اشتہار نہیں چلے گا۔ وطن عزیز میں دین اور سیاست دو ایسے موضوعات ہیں جن پر ہر کس وناکس خود کو عقل کل سمجھ کر آزادانہ بحث سے ذرا بھی نہیں ہچکچاتا۔ سماعت پر بات کرنے کا ہر کسی کو حق حاصل ہے اور اپنی دانست اور سمجھ کے بعد دست وگریباں ہوئے بغیر اس پر بات کرنے کی پوری آزادی سے مخالفت کا کوئی جواز نہیں لیکن دین کا تعلق اگر اپنی ذات تک محدود کر کے بات کی جائے تو انسان لاعلمی وجہالت میں کلمہ کفر کہہ سکتا ہے، اس کے ایمان کو خطرات درپیش ہو سکتے ہیں لیکن بدقسمتی سے اس نازک صورتحال کا ہم میں سے کم ہی لوگوں کو ادراک ہوگا۔ اگر پوری ذمہ داری اور دردمندانہ طور پر اس صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو اس کی اولین ذمہ داری ہمارے ان بعض علمائے کرام پر عاید ہوتی ہے جنہوں نے نہ صرف اس کا در کھولا ہے بلکہ پوری شدت کیساتھ اس صورتحال کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ اس میں مدارس ومنبر کا استعمال بھی کسی سے پوشیدہ امر نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ دین ومذہب کے معاملات کو عدم احتیاط کیساتھ کھلے عام زیر بحث لایا جاتا ہے جس کے ذمہ دار جو بھی ہوں ٹی وی چینلز کا اس ماحول سے متاثر ہونا فطری امر اگر نہ بھی تھا تو کمرشل ازم کے اس دور میں ریٹنگ بڑھانے کیلئے ٹی وی پروگراموں میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے رمضان ٹرانسمیشن کا بھی متاثر ہونا فطری امر تھا۔ اس صورتحال پر علمائے کرام کی خاموشی اور صرف دبے لفظوں بعض علمائے دین کی ناپسندیدگی کا اظہار کافی نہ تھا۔ اگر علمائے کرام میڈیا کی اس ضمن میں رہنمائی کیلئے آگے آتے اور اپنا کردار ادا کرتے تو رمضان ٹرانسمیشن میں ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی اتنا بگاڑ نہ آتا کہ رمضان المبارک کے ماہ مقدس اور اس کی پرنور ساعتوں اور برکتوں کو متاثر کرنیوالے پروگرام چلائے جاتے۔ اگر دیکھا جائے تو اس وقت مارننگ شوز کے نام پر جو پروگرام پیش کئے جا رہے ہیں ان پروگراموں کی اکثریت ایسے پروگراموں پر مشتمل ہوتی ہے جو ہمارے دین ومذہب اور ثقافت سے بالکل بھی واسطہ نہیں رکھتے، ان شوز میں جو ثقافت دکھائی جاتی ہے وہ بھی ہماری ثقافت نہیں۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ ان شوز میں مشرقی ثقافت سے ہم آہنگ پروگرام دکھائے جائیں اور ملکی فن وثقافت کو فروغ دیا جائے۔ اخلاقی اقدار کی بہتری اور رہنمائی والے پروگرام تشکیل دیئے جائیں۔ ہماری تو تجویز ہوگی کہ پیمرا ان شوز کا بھی نوٹس لے اور اس ضمن میں رمضان ٹرانسمیشن والی غلطی اس طرح نہ دہرائی جائے کہ پھر معزز عدالت کو نوٹس لینا پڑے۔ جہاں تک رمضان ٹرانسمیشن کا تعلق ہے اس ضمن میں عدالت نے ایک معیار مقرر کرکے اور طریقہ کار بھی بتا کر بڑی حد تک اصلاح کی ذمہ داری نبھائی ہے۔ اس کے باوجود ہم یہ تجویز پیش کریں گے کہ اس ضمن میں پیمرا میں بھی ایک جائزہ سیل بنایا جائے اور دینی پروگراموں خاص طور پر رمضان ٹرانسمیشنز کو اس طرح کمرشل نہ بنایا جاسکے جس سے اس پروگرام کی روح متاثر ہو۔ مثال کے طور پر اس ٹرانسمیشن کے دوران اس قسم کے اشتہارات نہ چلائے جائیں جس میں ناچ گانا اور کم لباس ماڈل ہو۔ دوسری جانب ٹی وی چینلز کو اشتہارات سے روکنے کی بھی گنجائش نہیں، اس کا ایک آسان اور سادہ حل یہ پیش کیا جا سکتا ہے کہ مشتہرین ماڈلز اور فلمی طرز کے اشتہارات دینے کی بجائے آیات قرآنی‘ احادیث مبارکہ اور سنت مبارکہ کے حوالے سے تحریری اور خاکوں کی مدد سے کوئی بات سمجھانے اور پش کرکے اپنے پراڈکٹ اور کمپنی کو بطور سپانسر بتائیں۔ یہ صورت ہم خرما وہم ثواب کا حامل ہوگا۔ اس سے اشتہار دینے کا مدعا بھی حاصل ہوگا لوگوں کو بھلائی کی بات سننے کو ملے گی اور رمضان ٹرانسمیشن کی روح بھی متاثر نہ ہوگی۔ چونکہ رمضان المبارک میں عادتاً و فطرتاً لوگوں کی بہت بڑی تعداد لغو قسم پروگراموں کو ناپسند کرنے کی بنا پر ٹی وی بند رکھتے تھے محولہ صورت میں وہ بڑے شوق سے ٹی وی دیکھیں گے اور چینلز کے ناظرین کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔ ٹی وی چینلز خالصتاً دینی اور حقیقی رہنمائی کے حامل پروگرام پش کرکے دیکھیں تو ان کے ناظرین میں اضافہ ضرور ہوگا کمی نہیں آئے گی۔ علاوہ ازیں اس نوعیت کے پروگرام دیکھنے والے سنجیدہ اور قوت فیصلہ کے حامل افراد ہوں گے اسلئے اس میں پیش کئے جانیوالے اشتہارات کے موثر ہونے کی شرح بھی بڑھے گی۔ ٹی وی چینلز من حیث المجموع جس رنگ ڈھنگ اور دھج کے پروگرام پیش کر رہے ہیں اگر وہ اس میں تبدیلی کیلئے سروے کریں اور اشتہارات دینے والی کمپنیاں اشتہارات کے موثر ہونے کے حوالے سے سروے کریں تو ان کو سنجیدہ مشرقی ثقافت واقدار سے میل کھانے والے پروگراموں کے حق میں رائے زیادہ موصول ہوگی۔ جس طرح کے پروگرام اس وقت پیش ہو رہے ہیں اگر اس کی اصلاح نہ ہوئی اور یہ بگاڑ بڑھتا گیا تو ایک وقت ایسا آئیگا کہ رمضان ٹرانسمیشن کی طرح عدالت ان کا بھی ایک معیار وانداز طے کرے گی جس کی پابندی چینلز کے پالیسی سازوں کیلئے مشکل اور ان کے اس کے عادی ہونیوالے ناظرین کیلئے مشکل ہوگی۔ بھارتی ثقافت کی ترویج نہ تو ملکی مفاد میں ہے اور نہ ہی اس کی گنجائش ہے، اس ضمن میں پیمرا نے جو شرح مقرر کی ہے اس پر بھی نظرثانی کرتے ہوئے اس میں کمی کا جائزہ لیا جائے تو بہتر ہوگا۔ ٹی وی چینلز جب تک تقلید کی بجائے تنوع پر توجہ نہیں دیں گے اس وقت تک معیار اور مسابقت میں ان کو کامیابی نہیں ملے گی اور نہ ہی وہ ایسے ناظرین کی مستقل تعداد پیدا کر سکیں گے جو صرف انہی کا چینل زیادہ سے زیادہ دیکھیں۔

متعلقہ خبریں