Daily Mashriq

حکومتی دعوے اور چیف جسٹس کے ریمارکس

حکومتی دعوے اور چیف جسٹس کے ریمارکس

محکمہ تعلیم کی کارکردگی رپورٹ اور ہسپتالوں کے دورے کے موقع پر چیف جسٹس ثاقب نثار کے ریمارکس کے بعد خیبر پختونخوا کی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے پاس صحت اور تعلیم کے شعبوں میں نمایاں کارکردگی کا دعویٰ باقی نہیں رہا۔ سیاسی مخالفین کے بیانات اور میڈیا کی رپورٹوں اور تحریروں سے اختلاف کی گنجائش موجود ہے اور ان کو رد کرنا بھی مشکل نہیں لیکن چیف جسٹس کے تاثرات اور ان کے سامنے پیش آمدہ مسائل وشکایات کی نہ تو تردید کی گنجائش ہے اور نہ ہی ان کو رد کیا جا سکستا ہے۔ خیبر پختونخوا میں تبدیلی کے دعوے پہلے ڈنوال ڈول تھے اب یہ دعوے پوری طرح ڈوب چکے ہیں۔ یہ کوئی اچھی صورتحال نہیں بلکہ عوام اور بالخصوص تحریک انصاف کے پرجوش حامیوں کیلئے تکلیف دہ صورتحال ہے کہ تمام تر کوشش اور دعوؤں کے باوجود صوبے کے عوام کے صحت اور تعلیم کے مسائل حل کئے جا سکیں اور جس تبدیلی کی لوگ آس لگائے بیٹھے تھے وہ تبدیلی دیکھنے کا خوشگوار احساس تو درکنار آئے روز سامنے آنے والی حقیقتوں اور حالات و واقعات سے روشناسی کے بعد ہر کسی کا مایوسی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں گم ہو جانا فطری امر ہے۔ اسے خیبر پختونخوا کے عوام کی شومئی قسمت ہی سے تعبیر کیا جائے گا کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے یکے بعد دیگرے دو بڑی سیاسی جماعتوں ایم ایم اے اور قوم پرست جماعت کے بعد پی ٹی آئی کو کامیاب کروایا مگر کسی ایک جماعت کی کارکردگی بھی دوسری جماعت اور اتحاد سے زیادہ مختلف سامنے نہیں آئی۔ تحریک انصاف سے نوجوان طبقے کو خاص طور پر توقعات وابستہ تھیں مگر ملازمتوں اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور دستیاب ملازمتوں میں تقرریوں میں سنگین بے قاعدگیوں اور ناانصافیوں سے جتنی مایوسی نوجوانوں کو ہوئی ہے اس کا اظہار برملا ہو رہا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ نوجوانوں کی مایوسی اور محرومی اور محکمہ صحت وتعلیم میں حکومتی کارکردگی سے عوام کی مایوسی سنگین معاملہ ہے۔ موخرالذکر کے حوالے سے چیف جسٹس کے تاثرات کے بعد کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں۔

ایثار وقربانی کی دعوت

ہلال احمر سوسائٹی خیبر پختونخوا کی جانب سے صوبے کے مختلف اضلاع میں مستحق خاندانوں میں رمضان پیکج کے نام سے امدادی اشیاء کی تقسیم ایک قابل تقلید عمل ہے۔ فلاحی اداروں اور تنظیموں کی طرف سے اس قسم کی کوشش ہر سال سامنے آتی ہے جبکہ مخیر حضرات بھی اس کا اہتمام کرتے ہیں۔ جن لوگوں کے پاس مال ودولت کی کمی نہیں ان کے حسب استطاعت لوگوں کی مالی امداد اور اشیائے خوراک صرف کی فراہمی کا مستحسن ہونا اپنی جگہ لیکن جو لوگ خود بھی متمول نہیں ان کو بھی ضرورت مند افراد کی دست گیری میں ہر ممکن کوشش کیساتھ کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ حصول ثواب کا ہر مسلمان محتاج ہے ہم میں سے ہر ایک اپنے خواہشات اور بچوں کی خوشی کیلئے تو تنگدستی کے باوجود کسی نہ کسی طرح رقم خرچ کرتے رہتے ہیں اگر ہر عام آدمی ایثار اور اخوت کے جذبے کے تحت ضرورت مندوں کی ضروریات پوری کرنے کی کوششوں میں حصہ ڈالے تو پورے معاشرے کا بھلا ممکن ہوگا اور خود دینے والے کے حق میں بھی یہ بہت اچھا ہوگا۔ ضرورت مندوں کو بزرگوں کی جانب سے صدقہ خیرات کی حیرت انگیز تدبیر بتائی جاتی ہے جو حکمت سے خالی نہیں۔ اس کا تجربہ کرنے والوں کا تجربہ خوشگوار نتائج کیساتھ ہی سامنے آتا ہے۔ کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ رمضان المبارک کی آمد آمد اور دوران رمضان المبارک ہم میں سے ہر ایک حسب توفیق دوسرے کی مد د کرے اور ایثار وقربانی کے جذبے کا مظاہرہ کرکے ان پُرنور لمحات میں ثواب وطمانیت کمائے۔

متعلقہ خبریں