Daily Mashriq


اس کا منفی اثر امریکہ پر ہوگا

اس کا منفی اثر امریکہ پر ہوگا

اکثر لوگ جو بین الاقوامی منظرنامے پر نظر رکھتے ہیں کو اس بات میں قطعاً کوئی ابہام نہیں کہ امریکہ کے زوال کا آغاز ہوچکا ہے۔ اس زوال کی ابتداء تو تب ہی ہوگئی تھی جب امریکہ نے افغانستان میں جنگ میں اپنا حصہ ڈالنا شروع کیا تھا۔ افغانستان کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ یہ عالمی طاقتوں کا قبرستان ہے۔

امریکہ نے افغانستان میں قدم کیا رکھا، اس کی معیشت کی شکست وریخت کی آوازیں اقوام عالم کو سنائی دینے لگیں۔ معاملات نے اس وقت اور بھی تشویشناک صورتحال اختیار کی جب امریکہ کے بڑے بینک دیوالیہ ہوئے۔ اس وقت پوری دنیا میں اس حوالے سے کئی قسم کے تجزیئے کئے گئے اور یہ بھی سوچا جانے لگا کہ دراصل افغانستان کی یہ جنگ امریکی معیشت کی کمر توڑ دے گی۔ اوباما حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ کیا جانا آسان نہ تھا کہ امریکہ افغانستان میں اپنی طاقت کو کم کرے گا اور افواج کی تعداد میں کمی کی جائے گی لیکن اوباما حکومت کو یہ کڑوا گھونٹ پینا پڑا۔ تجزیہ نگاروں کا خیال تھا کہ محض افغانستان میں جنگ ہی امریکی معیشت کو اس بری طرح نچوڑ دے گی کہ پھر امریکہ کیلئے عالمی طاقت کا تخت سنبھالنا مشکل ہوجائے گا۔ اسی اثناء میں لوگ دیکھ رہے تھے کہ روس کی معیشت میں زندگی اور طاقت کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔ چین بھی اپنی معیشت کے زور بازو کا اظہار کر رہا تھا لیکن امریکہ کی قسمت میں مزید کوئی برائی بھی شامل ہوگی، اس کا اندازہ تجزیہ نگاروں کو نہیں تھا۔ یہ خیال اس وقت سامنے آیا جب امریکی انتخابات میں ہیلری کلنٹن کے مقابلے میں ڈونلڈ ٹرمپ کو فتح حاصل ہوگئی۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی شخصیت، امریکی صدور کی شخصیت کے بالکل برعکس تھی۔ اس قدر جذباتی، اکھڑ اور لااُبالی صدر ابھی تک امریکی تاریخ میں کبھی کرسی صدارت پر فائز نہ ہوا تھا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اقتدار کی کمپین ہی منفی جذبات کی عکاس تھی اور امریکہ میں بھی لوگ اس رجحان سے سخت ناخوش تھے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر منتخب ہو جانے کے بعد بھی ایک عرصے تک ان کی صدارت کیخلاف مظاہرے ہوتے رہے جوکہ امریکی تاریخی پس منظر کے حوالے سے ایک نیا عمل تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے دفتر صدارت سنبھالتے ہی کئی ایسے اقدامات کئے جو شاید امریکی پالیسی ساز اداروں کیلئے بھی حیران کن رہے۔

یہ معاملات بار بار ہمارے سامنے آتے ہیں اور امریکی پالیسیوں کے تجزیہ نگار مسلسل اس حوالے سے اپنی حیرت کا اظہار کرتے رہتے ہیں کہ آخر امریکہ ایسی کسی بھی شخصیت کا متحمل کیسے ہو سکتا ہے جس کا مظہر جناب ڈونلڈ ٹرمپ ہیں۔ امریکہ کے صدر کی جانب سے، ایران کیساتھ جوہری توانائی کے معاہدے کو اچانک ہی ختم کر دیا گیا اور ایران پر پابندیاں بھی عاید کر دی گئیں۔ یہ اقدام اگرچہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی گزشتہ پالیسیوں، اقدامات اور بیانات کو مدنظر رکھتے ہوئے، کسی اچھنبے کو جنم نہیں دیتا لیکن بہرحال کئی جانب سے مختلف آراء کا منبع ضرور بن گیا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شخصیت کو مدنظر رکھا جائے تو یقیناً یہ معاملہ تقریباً معمول کی سطح کا معاملہ محسوس ہوگا لیکن امریکہ کیلئے معاملات کس حد تک دگرگوں ثابت ہو سکتے ہیں اور اس صورتحال کے عالمی منظرنامے پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اس بات کا تجزیہ کرنا بھی بہت اہم ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ دراصل امریکہ کی جانب سے یک طرفہ معاہدہ تھا۔ ایران اس معاہدے کی شقوں کی پاسداری نہیں کر رہا تھا اور اگر یہ معاہدہ اسی طرح جاری رہتا تو ایران عنقریب ایک جوہری طاقت کے طور پر دنیا کے سامنے آتا۔ امریکہ کی جانب سے ان الزامات اور پابندیوں کا ایران کے صدر نے فوراً جواب بھی دیا اور اپنے مؤقف کی بہت اچھی وضاحت کی۔ اپنی وضاحت میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ انٹرنیشنل اٹامک انرجی کمیشن کو ان پر کوئی اعتراض نہ تھا اور ان کی جانب سے کسی قسم کے تحفظات کا اظہار بھی نہیں کیا گیا۔

بین الاقوامی ایٹمی توانائی کی ایجنسی کا کام ہی ایٹمی میدان میں صاف، محفوظ اور پرامن ایٹمی پروگرام کو فروغ دینا ہے اور ملکوں میں کسی بھی عسکری صلاحیت کے امکامات کو کم کرنا ہے۔ امریکہ اور ایران کے اس معاہدے میں انٹرنیشنل اٹامک انرجی کمیشن بھی ایک نگران کا کام کر رہا ہے۔ کمال بات یہ ہے کہ امریکہ اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی ایٹمی پروگرام کے حوالے سے جن تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے اس کے حوالے سے یورپی یونین کے ممالک میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔ انہوں نے بھی امریکہ کا ساتھ دینے سے انکار کردیا ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ سعودی عرب نے امریکہ کے اقدامات کی حمایت کردی ہے۔ سعودی عرب کی ایران سے تعلقات کی خرابی کی وجوہات تو ہم سب ہی جانتے ہیں اور اس کا کوئی تعلق یقیناًان وجوہات سے نہیں ہے جو بتائی جاتی ہیں لیکن یہ معاملات خاصے افسوسناک بھی ہیں اور امت مسلمہ کیلئے باعث تفکر بھی۔

جہاں تک امریکہ کا سوال ہے تو ایسے تمام اقدامات سے امریکہ اقوام عالم میں اپنی تنہائی میں اضافہ کر رہا ہے اور یہ سارے معاملات اس کے زوال کے سفر کی رفتار کو اور بھی بڑھا دینگے۔ ایران پہلے بھی کئی سال امریکی پابندیوں کا شکار رہا اور اس کے باوجود ترقی کرتا رہا، آج بھی ایرانی صدر اسی عزم کا اظہار کر رہے ہیں۔ میں نہیں سمجھتی کہ امریکہ کے اس اقدام کے بہت منفی اثرات ایران پر مرتب ہونگے بلکہ میرا خیال ہے کہ اس سب کا اصل منفی اثر، امریکہ پر ہوگا۔ اس حوالے سے کچھ گزارشات اپنے کل کے کالم میں آپ کے سامنے پیش کرونگی۔

متعلقہ خبریں