Daily Mashriq


دوستی کے رنگ وڈھنگ

دوستی کے رنگ وڈھنگ

کوئی مانے یا نہ ما نے یہ حقیقت ہے کہ مسلم لیگ ن کی حکومت پا کستان پر بھاری پڑی ہے اس کی اٹھان تو بڑی حوصلہ افزا رہی تھی مگر عمران خان کی سیاست نے مسلم لیگ کی حکومت قائم ہوتے ہی ایسے طور طریقے اختیار کئے کہ حکومت کافی حد تک مفلوج ہو کر رہ گئی، جس کا پہلا جھٹکا سی پیک کا منصوبہ ایک سال تک کھٹائی میں پڑا رہا۔ تحریک انصاف کا حق تھا کہ وہ مبینہ دھاندلی کیخلاف احتجاج کرتی۔ اس احتجاج کیلئے آئینی اور قانونی طریقے واضح تھے ان پر چل کر مقصد حاصل ہو سکتا تھا اور حکومتی مشینری کو بھی ضعف نہ پہنچتا، مگر ایسا محسوس کیا گیا کہ تحریک انصاف کا مبینہ انتخابی دھاندلی سے بڑھ کر ہدف تھا کہ حکومت کو مفلوج کر کے حکمران پارٹی مسلم لیگ کو ٹھکانے لگا دیا جائے اور اس طرح تحریک کی حکومت کیلئے راہ ہموار ہو جائے گی۔ دھاندلی کا مطالبہ بھی صرف تین حلقوں کا تھا یعنی ایک طویل تحریک صرف تین حلقوں کیلئے چلی، اور اس کا نتیجہ قوم کے سامنے ہے۔ اس کے بعد کیا ہوا کہ پاناما تحریک کے نام پر مفلوجیت کی طرف قدم پھیلائے گئے، نتیجہ یہ ہوا کہ پاناما اپنی جگہ رہا البتہ اقاما کہیں سے ڈھونڈ نکالا گیا جس نے ملک کو ایک نئی صورتحال سے دوچار کر دیا۔ اب تازہ ترین صورتحال کے مطابق بھارت کیساتھ منی لانڈرنگ کا شوشا چھوڑا گیا جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اخباری اطلاع پر نیب نے قدم اُٹھایا، اگر اخباری اطلاع پر ہی بھروسہ تھا تب بھی قانونی تقاضا ہے کہ پہلے اس کی تسلی کرلی جائے پھر الزام تراشی کی جائے مگر ایسا لگتا ہے کہ پاکستان میں ایک ہی شخص ہے جو دنیا کا کرپٹ ترین شخص ہے، اس کے باوجود کہ اس کو ہر دفعہ بھاری مینڈیٹ سے عوام نواز دیتی ہے اور پھر اس عوامی مینڈیٹ کو غیر عوامی طاقتیں سبوتاژ کر دیتی ہیں۔ جس پھرتی کا مظاہرہ نیب نے کیا اس سے عوامی حلقوں میں نواز شریف کا بیانیہ مزید مستحکم اور سچا ہوا ہے۔ حالات یہ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان میں دو ہی شخص ہیں، ایک انتہائی کرپٹ ہے اور دوسرا انتہائی امین وصادق ہے، تیسرا کوئی اور شخص نہیں ہے۔بہرحال گزشتہ پانچ سال کے عرصے میں جو کھیل کھیلا گیا ہے اس سے عوام غیر یقینی کی حالت میں ہیں تاہم ایسا ضرور محسوس ہو رہا ہے کہ ایک سیاسی حکومت تنہا ہو کر رہ گئی ہے، اس تنہائی میں ملکی اداروں کا بھی ہاتھ ہے، حکومت کی تنہائی کے علاوہ پاکستان کو بھی تنہا کرنے کی کوشش ایک زمانے سے ہو رہی ہے جس میں بھارت کا کردار سب سے زیادہ نمایاں ہے، بھارت نے کشمیر پر اپنا غاصبانہ قبضہ جمائے رکھنے کیلئے شروع دن سے یہ چال رکھی ہے کہ پاکستان کو نہ صرف اندرونی طور پر تنہا کیا جائے بلکہ عالمی سطح پر بھی یکتا اور تنہا کر دیا جائے تاکہ وہ ایک ناکام ریاست قرار پا جائے۔ اگر دوسری جانب بھارت کو دیکھا جائے تو اس نے اس بارے میں کمال عیاری سے کام لیا، بھارت کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو خود کو ترقی پسند قرار دیتے تھے چنانچہ انہوں نے اس لبادے کا اندورن ملک بھی اور بیرون ملک بھی خوب استعمال کیا۔ ایک طرف وہ سوویت یونین کی گود میں پناہ گزین تھے تو دوسری جانب امریکہ کیساتھ بھی پینگیں بڑھا رکھی تھیں، جبکہ پاکستان صرف امریکہ کو مونس ہو کر رہ گیا تھا اور اپنے سے زیادہ امریکی مفادات کا امین بن گیا تھا، پنڈت نہرو کے زمانے میں ہی چین اور سوویت یونین کے مابین نظریاتی کشیدگی تھی، سوویت یونین چین کو سوویت یونین کے رکن کی حیثیت میں دیکھنا چاہتا تھا اور یہ بات چین کو قبول نہیں تھی چنانچہ بھارت روس کے بغل پروردہ ہونے کے باوجود چین سے تاریخی دوستی رکھتا تھا۔ اس وقت بھارت کا مقبول ترین نعرہ تھا، ہند چینی بھائی بھائی، اس نعرہ پر گیت بھی لکھے گئے۔ 1964ء میں چین اور بھارت کے درمیان سرحدی تنازعہ پر ایسی جنگ ہوئی کہ جس کی شکست کے زخم بھارت کے وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو سے برداشت نہ ہو پائے، اس صدمے سے نڈھال ہو کر دنیا ہی چھوڑ گئے۔ بھارت اور چین انتہائی دشمنی کی دیوار سے لگے کھڑے نظر آئے مگر اپنے مفاد پر دشمنی کو ترجیح نہیں دی۔ اب مودی کے دور میں دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی تنازعہ ایک مرتبہ پھر سر اُٹھائے سامنے آیا۔ پہلے بھارت نے دوکلام کی سرحد پر اپنی فوج لاکھڑی کی، تاہم جب بھارتی وزیراعظم برکس کانفرنس میں چین کے وزیراعظم سے ملے تو اس کے بعد دونوں میں کشیدگی کم ہوتی محسوس ہوئی، اس کے باوجود اروناچل پردیش سے چین جانیوالوں کو بھارتی پاسپورٹ پر ویزہ لگانے کی بجائے چین نے الگ سے کاغذ پر ویزہ جاری کیا مگر بھارت نے اس پر احتجاج نہیں کیا اور خاموشی سے یہ وار سہہ لیا، چین نے بھارت کو خبردار کیا تھا کہ سابق حکمران تبت دلائی لامہ دوکلام کا دورہ نہ کرے مگر بھارت نے دلائی لامہ کو اروناچل کا دورہ کرایا تاکہ یہ ثابت کرے کہ یہ بھارت کا حصہ ہے، تاہم تعلقات کی نئی پیش رفت میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بھارت نے چین کی طرف سے بنائی گئی سرحد کو تسلیم کر لیا ہے کیونکہ بھارت اور چین کے درمیان مشترکہ فوجی مشقوں کا پروگرام ہے جس میں دونوں ملکوں کی سرحدوں پر مشقیں ہوں گی، ان تمام امور سے نشاندہی ہوتی ہے کہ تمام تنازعات کی موجودگی کے باوجود بھارت چین کو اپنے قریب لانے کی مساعی کر رہا ہے جو نہ صرف بھارت کے مفاد میں ہے بلکہ امریکی مفاد کا بھی حصہ ہے۔ بدیں حالات پاکستان میں کیا ہو رہا ہے، الزامات تراشیاں، مفلوجیت اور دشنام طرازیوں کا بازار گرم ہے۔

متعلقہ خبریں