Daily Mashriq


یہ وقت بھی نہیں رہے گا

یہ وقت بھی نہیں رہے گا

کی جانب سے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف پر چار اعشاریہ 9ارب ڈالر بھارت بھجوانے کے حوالے سے الزام سامنے آنے کے بعد جہاں عالمی بینک اور سٹیٹ بینک نے اس کی تردید کردی ہے وہاں اس پر ملکی سطح پر خصوصاً حکومتی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور گزشتہ روز پارلیمنٹ میں بھی اس کی گونج سنائی دی ہے، جب وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے سخت لہجے میں مطالبہ کیا کہ چیئرمین نیب کو پارلیمنٹ میں بلوا کر ان سے تفتیش کی جائے۔ نیب نے بغیر تحقیق کئے ہی میاں نواز شریف پر اتنا بڑا الزام لگا دیا کہ اب اس کا داغ دھوتے دھوتے ان کی باقی عمر ہی کٹ جائے گی، یعنی اتنی بڑی رقم وہ بھی پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کو منتقلی جس میں تڑکہ یہ لگایا گیا کہ اس اقدام سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کم جبکہ بھارت کے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ گئے تھے۔ چونکہ ہمارے ہاں مخالف سیاسی حلقے اس قسم کے الزامات کو لیکر پروپیگنڈے کا طوفان کھڑا کر دیتے ہیں اسلئے نیب کی جانب سے اصل حقائق سامنے آنے کے بعد اگرچہ گزشتہ روز ایک نیم دلانہ سی تردید ضرور سامنے آئی ہے کہ ’’ہمارا مقصد کسی کیساتھ ذاتی دشمنی نہیں اور یہ تو ایک اخبار میں کسی کالم میں الزام سامنے آنے کے بعد (یعنی خبر بھی نہیں صرف کالم میں الزام) اس معاملے پر تفتیش کا آغاز کر دیا گیا، جو نیب کے دائرہ اختیار میں آتا ہے‘‘۔ درست اور نیب کا کام ہی یہی سہی، تاہم سوال یہ ضرور پیدا ہوتا ہے کہ پہلے تفتیش کرکے الزامات کا جائزہ لیا جاتا اور اگر ان الزامات میں کوئی جان ہوتی تب یہ خبر میڈیا کو جاری کی جاتی تو کسی کو اعتراض بھی نہ ہوتا مگر صرف افواہوں یا الزامات پر اتنی بڑی خبر بریک کرانے کا کیا جواز تھا؟ اس سوال پر بھی ضرور غور ہونا چاہئے۔ پشتو زبان میں کہتے ہیں، منگے مات شواوکہ نہ، ڈز خویے اوختو، یعنی گھڑا گرنے سے ٹوٹا یا نہیں آواز تو آئی۔ اب الزامات کی جو ہانڈی بیچ چوراہے کے پھوڑ دی گئی ہے سیاسی مخالفین اسے لیکر سوشل میڈیا پر وہ طوفان بدتمیزی برپا کرینگے کہ الحفیظ والامان۔ بقول سراج آرزو

داغ چھوٹا نہیں یہ کس کا لہو ہے قاتل

ہاتھ بھی دکھ گئے دامن ترا دھوتے دھوتے

مریم نواز نے اس حوالے سے جو ٹویٹ کی ہے اس میں طنزیہ لہجے میں کہا گیا ہے کہ اتنی بڑی رقم کبوتروں کے پروں کیساتھ باندھ کر بھارت بھیجی گئی جبکہ ان کبوتروں کو نیب نے پکڑ لیا ہے اور اب ثبوت کے طور پر عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ قومی اسمبلی میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے مطالبے پر کہ نیب چیئرمین کو بلایا جائے اگرچہ پارلیمان تقسیم ہوتی دکھائی دے رہی ہے کیونکہ اپوزیشن جماعتیں اس وقت کسی بھی صورت اس موڈ میں نہیں ہیں کہ پارلیمان کے کسی متفقہ موقف سے میاں نواز شریف کو کوئی فائدہ پہنچ سکے، اس پر اس بادشاہ کا واقعہ یاد آگیا جس نے اپنے ایک عقلمند مصاحب سے مطالبہ کیا تھا کہ ایک جملے ہی میں ایسی بات لکھ دی جائے جو زندگی کی حقیقت بیان کرتا دکھائی دے۔ مصاحب نے سوچ بچار کے بعد ایک جملہ لکھا کہ ’’یہ وقت بھی نہیں رہے گا‘‘ اسلئے میاں نواز شریف کو بھی کوئی یہی مشورہ دے کہ ’’یہ وقت بھی نہیں رہے گا‘‘ تاہم اس مشورے کے ہنگام میاں نواز شریف خود اپنے ماضی کے رویوں پر بھی ضرور غور کریں کہ انہوں نے اپنے اردگرد کس قسم کے لوگ بٹھا رکھے تھے اور ان میں کون ان کیساتھ مخلص تھا اور کون محض ان سے وقتی فوائد سمیٹنے کیلئے ان کی چاپلوسی کرتا رہتا تھا، میاں نواز شریف کی جلاوطنی سے پہلے والے دور میں ایک ترکیب ’’کچن کیبنٹ‘‘ کا بہت زیادہ شہرہ تھا۔ جو وقت آنے پر ان کیخلاف جنرل (ر) مشرف کیساتھ جاکر بیٹھ گئے تھے، اس دور کے اچھے دوستوں میں جاوید ہاشمی کے قبیل کے لوگوں کیساتھ میاں نواز شریف نے جو حشر کیا وہ بھی تاریخ کا حصہ ہے۔ اب ایک بار پھر بعض لوگوں کی سازشیں کارفرما ہیں اور میاں نواز شریف ایک بار پھر دوستوں اور خوشامدیوں میں فرق کرنے میں ناکام دکھائی دے رہے ہیں۔ اسلئے انہیں اپنے رویئے پر نظرثانی کرنی پڑے گی۔ بقول غلام صمدانی مصحفی

باہم جنہوں میں مہر ومروت کی رسم تھی

وہ لوگ کیا ہوئے وہ زمانہ کدھر گیا؟

نیب کے حوالے سے پارلیمان کی کمیٹی بنانے پر اگرچہ موجودہ صورتحال میں اختلاف ضرور ہے تاہم ایک قومی اخبار کے مطابق دنیا بھر میں کئی اہم لوگ متعلقہ پارلیمنٹ کے سامنے پیش ہو چکے ہیں۔ امریکہ میں جارج واشنگٹن، ابراہم لنکن، بل کلنٹن سمیت کئی صدور اور اہم شخصیات پیش ہو چکی ہیں، جبکہ نیوزی لینڈ، آسٹریلیا، ناروے اور برطانیہ میں پارلیمانی کمیٹیوں نے انٹیلی جنس سربراہان طلب کئے۔ خبر کے مطابق پی ٹی آئی کے ممبر اسد عمر نے کہا کہ اگر اداروں سے تحقیقات کی گئیں تو یہ انصاف کا قتل کرنے کے مترادف ہوگا کیونکہ سچائی کو دبانے کیلئے اختیارات کا ناجائز استعمال نہیں ہونا چاہئے۔ لہٰذا چیئرمین نیب کو ذاتی حیثیت میں طلب کرنے کیلئے کوئی پارلیمانی کمیٹی نہیں بنانی چاہئے۔ تاہم یہ وہی اسد عمر تھے جنہوں نے 2دسمبر 2016کو یہ تجویز دی تھی کہ نیشنل بنک آف پاکستان کے بنگلہ دیش اسکینڈل سے متعلق بریفنگ کیلئے قومی اسمبلی کی سیٹنڈنگ کمیٹی برائے فنانس کو چیئرمین نیب کو طلب کرنا چاہئے۔ اب اسد عمر کس برتے پر ’’سچائی کو دبانے کیلئے اختیارات کا ناجائز استعمال‘‘۔ جیسے الفاظ استعمال کر رہے ہیں جبکہ محولہ خبر کی عالمی بنک اور سٹیٹ بنک خود تردید کر رہے ہیں۔ بہرحال آج جو لوگ پارلیمانی کمیٹی کی مخالفت کر رہے ہیں کل ان میں سے بھی کچھ لوگوں کو ایسے ہی حالات سے دوچار ہونا پڑسکتا ہے کہ ’’یہ وقت بھی نہیں رہے گا‘‘۔

متعلقہ خبریں