Daily Mashriq

اچھی صورت بھی کیا بری شے ہے

اچھی صورت بھی کیا بری شے ہے

وہ پیار بھرے انداز سے اور نرم لہجے میں اسے سمجھانے لگا کہ دیکھو تم جس شاخ پر بیٹھے ہوئے ہو اسی کو کاٹ رہے ہو اس طرح تم دھڑام سے نیچے آگرو گے۔

نصیحت سنتا نہیں بے وقوف کبھی

عقل والوں کو اس کی ضرورت نہیں

لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ کوئی کسی کو نصیحت کرنا ہی چھوڑ دے۔ اس سیانے راہ گیر نے شیخ چلی کو لاکھ سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ راہگیر کی کسی بات کو خاطر میں لانے کیلئے تیار نہ ہوا، اور بڑی ڈھٹائی سے کہنے لگا کہ تم اپنے کام سے کام رکھو اور مجھے اپنا کام کرنے دو۔ راہگیر مرتا کیا نہ کرتا۔ اس نے دل ہی دل میں زبیر امروہوی کا شعر دہرایا

کتنے چہروں کے رنگ زرد پڑے

آج سچ بول کر حماقت کی

اس نے شیخ چلی کی بات سن کر اپنے سر کو جھکا لیا اور چل دیا ان پکڈنڈیوں پر جن پر رواں دواں بڑھے جا رہا تھا اپنی منزل کی طرف۔ ایسے میں اسے شاخ کے تڑخنے، ٹوٹنے اور شیخ چلی کے دھڑام سے نیچے آگرنے کی آواز آئی، لیکن جانے کیوں اس نے پیچھے مڑکر دیکھنا مناسب نہ سمجھا اور اپنے کام سے کام رکھتے ہوئے ناک کی سیدھ چلتا رہا۔ شیخ چلی کی یہ کہانی ہم نے اپنے بچپن کے زمانے میں آنہ لائبریری سے کرائے پر لیکر پڑھی تھی۔ ہمیں یاد پڑتا ہے جب شیخ چلی درخت کی شاخ کٹنے کے بعد دھڑام سے زمین پر گر گیا تو اسے محسوس ہوا کہ وہ بندہ کوئی پہنچا ہوا بزرگ تھا جس کی پیشن گوئی جو سو فیصد صحیح ثابت ہوئی۔ وہ دوڑتا ہوا اس راہگیر کے پیچھے گیا اور اسے پکڑ کر کہنے لگا کہ بابا جی آپ تو واقعی پہنچے ہوئے بزرگ ہیں آپ نے جو کہا وہ ہوکر رہا اور میں سچ مچ زمین پر آن گرا۔ یاد نہیں آرہا کہ اس سیانے راہگیر نے شیخ چلی کی اس سادہ دلی سے کتنا فائدہ اُٹھایا یا اسے کتنا فائدہ پہنچایا۔ بچپن گیا تو بچپن کی کہانیاں بھی ماضی کے دندھلکوں میں کھو گئیں۔ میں نے زیرنظر کالم میں جس شیخ چلی کی داستان چھیڑی ہے وہ ہمارے عہد طفولیت سے قدرے مختلف ہے۔ اس نے درخت سے گرنے کے بعد اچھا مشورہ دینے والے راہگیر کو بزرگ تسلیم نہ کیا بلکہ درخت سے گرنے کے بعد، چلا چلا کر کہنے لگا ’ہائے تیرا بیڑہ غرق۔ میں اچھی بھلی لکڑیاں کاٹ رہا تھا۔ نجانے کہاں سے آن وارد ہوا تو دیدے پھٹا اور مجھے لکڑیاں کاٹنے سے روکنے لگا۔ ہائے تیری بری نظر کھا گئی مجھ کو اور میں درخت سے نیچے آن گرا۔ وہ درخت سے گرنے کے بعد نہ صرف زار وقطار رو رہا تھا بلکہ اس کے منہ میں جو اول فول آرہا تھا وہ منع کرنیوالے کی مخالفت میں بکے جا رہا تھا۔ ممکن ہے بیتے زمانے کے لوگوں میں بھی ایسے لوگ ہوں جو اپنے حصے کے الزام اور تہمتیں دوسروں کے کھاتے میں ڈال کر اپنے آپ کو صاف ستھرا ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اگر ایسا ہوتا تو ان کا تذکرہ آنہ لائبریری سے کرائے پر مستعار ملنے والی کہانیوں کی کتابوں میں کسی نہ کسی صورت مل ہی جاتا لیکن کہانیوں کی کتابوں میں ہمیں ایسا کوئی کردار ڈھونڈھے سے بھی ہاتھ نہ آیا۔ ہاں البتہ فی زمانہ ایسے کرداروں کی کوئی کمی نہیں جو اپنے حصے کے طعنے دوسروں کے سر تھوپنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتے۔ دیکھئے نا بجائے اس کے کہ وہ اس بندے کی ہمدردی اور اچھے مشورے کا شکریہ ادا کرتا اُلٹا اس ہی کو مورد الزام ٹھہرانے لگا کہ اس نے مجھے نظر لگائی سو میں درخت کی شاخ سے نیچے آن گرا۔ کسی اچھی بھلی خوبصورت چیز کیساتھ کالی لیر یا کالے کپڑے کا ٹکڑا لٹکا دینا۔وہم ایک نفسیاتی عارضہ ہے لیکن سچ تو یہ بھی ہے کہ ہمارے آج کے کالم کا شیخ چلی اگر نظربد سے بچنے کیلئے درخت کی شاخ پرکالی لیر یا کسی بچے کی پرانی سی کوئی جوتی لٹکا کر بھی اپنے آپ کو نظربد سے بچانے کی کوشش کرتا تب بھی وہ دھڑام سے نیچے آگرتا کیونکہ وہ بے چارا عقل کا اندھا درخت کی جس شاخ پر بیٹھا تھا اسے ہی کاٹ رہا تھا لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ ہم سب اس وہم پر اعتبار کرتے ہیں کہ کوئی کام شروع کرنا ہو تو اس کو نظربد سے بچانے کیلئے کالی لیر لٹکا دی جائے یا کالا جھنڈا گاڑھ دیا جائے۔ اب دیکھئے ناجی! نواز شریف اس ملک کا تین بار وزیراعظم بنا لیکن اس نے اپنے آپ کو نظربد سے بچانے کیلئے کسی نظر بٹوے کا اہتمام ہی نہیں کیا، کیسے کرتا بے چارہ، اس نے اپنی اور اپنے خاندان والوں کی تجوریاں بھی تو بھرنی تھیں نا۔ بکرے ذبح کرنا اور بازو کیساتھ امام ضامن باندھنے کے علاوہ جھنڈے میں کالا رنگ استعمال کرنے کی روایت پیپلز پارٹی والوں کو ورثہ میں ملی ہے لیکن اس کے باوجود وہ نظربد کا شکار ہوتے رہے، کاش وہ ہر دور میں نظر بٹوے بھی رکھتے رہتے اپنے ساتھ۔ ویسے پشاور میں بی آر ٹی بنانے والوں نے فی الحال پشاور کا حلیہ بگاڑ کر پورے پشاور کو نظر بٹوہ بنا کر رکھ دیا۔ اسے ہم ان کی عقل مندی کہیں یا اپنی کم نصیبی، اس کا فیصلہ آنیوالا وقت ہی کرے گا جو بڑی تیزی سے آکر پشاوریوں کے سروں پر منڈلانے لگا ہے۔

اچھی صورت بھی کیا بری شے ہے

جس نے ڈالی بری نظر ڈالی

متعلقہ خبریں